نصابی کتاب سے مغلوں کی تاریخ حذف: ’مودی غیر ملکی مہمانوں کو تاج محل لے جائیں گے تو کس کا نام لیں گے؟‘

تاج محل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں جتنے سیاح آتے ہیں ان میں سے ایک چوتھائی تاج محل کو دیکھنے کے لیے بھی آتے ہیں
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

انڈیا کے تعلیمی نصاب میں نمایاں تبدیلی کی جا رہی ہے اور سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس سی) نے 12 ویں جماعت کی تاریخ کی کتاب سے مغل سلطنت کا احاطہ کرنے والے باب کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جسے اترپردیش ایجوکیشن بورڈ بھی نافذ کر رہا ہے۔

انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ مرکز اور ریاست کے لیے اعلیٰ مشاورتی ادارے ’این سی ای آر ٹی‘ نے تاریخ کے نصاب پر نظر ثانی کی ہے اور 12ویں جماعت کے لیے قرون وسطیٰ کی تاریخ کی نصابی کتابوں سے ’کنگز اینڈ کرانیکلز‘ اور ’دی مغل کورٹس‘ کے ابواب کو خارج کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ’این سی ای آر ٹی‘ کی تیار کردہ نصابی کتابیں ملک کی تمام ریاستوں کے اُن سکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں جہاں امتحان ’سی بی ایس سی‘ کی جانب سے لیا جاتا ہے۔

اتر پردیش کے سرکاری سکول بھی ’این سی ای آر ٹی‘ کی 12ویں جماعت کی تاریخ کی نئی نصابی کتابوں کو اپنائیں گے جس میں سے مغل دربار کے متعلق حصے ہٹا دیے گئے ہیں۔

ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے کہا ہے کہ ’ہم اپنے طلبا کو این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے پڑھاتے ہیں۔۔۔ نظر ثانی شدہ ایڈیشن میں جو کچھ بھی ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔‘

اس کے علاوہ سینٹرل اسلامک لینڈز یعنی اہم اسلامی ممالک کے متعلق باب بھی اب نصاب کا حصہ نہیں ہوں گے۔

12 book

،تصویر کا ذریعہNCERT

تبدیلیاں بہت سطح پر کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر 12ویں کلاس کی پولیٹیکل سائنس (علم سیاسیات) کی کتابوں پر بھی نظر ثانی کی گئی ہے۔ ’مقبول تحریکوں کا عروج‘ جس میں ہندوستان میں سوشلسٹ اور کمیونسٹ پارٹیوں کے عروج کے بارے میں ذکر ہے اور ’ایک پارٹی کے غلبہ کا دور‘ یعنی آزادی کے بعد کے دور میں کانگریس کی حکمرانی کے بارے میں ابواب کو ہٹایا گیا ہے۔

درسی کتابوں میں تبدیلی کوئی نئی چیز نہیں ہے اور ہر دہائی میں کتابوں میں ترمیم و اضافے ہوتے رہتے ہیں لیکن انڈیا میں جس طرح سے مذہبی بنیاد پر سیاست کی جا رہی اس کے پیش نظر لوگوں نے سوشل میڈیا پر اس تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔

اس سے قبل سنہ 2017 میں مغربی ریاست مہاراشٹر کے ایک نصاب سے مغلوں کی تاریخ کو ہٹا دیا گيا تھا۔

سی بی ایس سی کی جانب سے کہا گيا ہے کہ این سی ای آر ٹی کی تیار کردہ نئی نصابی کتابیں رواں سال سے ہی تعلیمی پروگرام کا حصہ ہوں گی۔

سوشل میڈیا نے اگرچہ دوسری تبدیلیوں پر کُھل کر اظہار نہیں کیا ہے لیکن انڈیا کے ٹاپ ٹوئٹر ٹرینڈز میں فی الحال ’مغلز‘ بھی شامل ہیں اور لوگ اپنے اپنے انداز میں اس تبدیلی پر تبصرہ کر رہے ہیں۔

مغل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاست مہاراشٹر کے تعلمی نصاب سے بھی مغل تاریخ کو رفتہ رفتہ رخصت کیا جا رہا ہے

سوشل میڈیا پر بازگشت

مغل انڈیا اور ہندوستانی موسیقی کی تاریخ داں کیتھرن شوفیلڈ نے اس بابت انڈیا ٹوڈے کی خبر کے جواب میں لکھا: ’یہ مضحکہ خيز ہے۔ مغلوں نے دو سو سال سے زیادہ عرصے (تکنیکی طور پر 300 سال سے زیادہ عرصے) تک راج کیا اور اپنے پیچھے پائیدار وراثت چھوڑی ہے۔ آپ ان سے محبت کریں، ان سے نفرت کریں یا ان کی کوئی پروا نہ کریں، سکول کی تاریخ کی نصابی کتابوں سے ان کے نکالنے سے وہ کسی جادو کی طرح غائب نہیں ہو جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

ان کے جواب میں بھاون کھیتانی نے لکھا ہے کہ ’دوسری روایات اور ثقافت کے لیے خطرناک کی تعریف کرنا خود کو حملہ آور کے ہاتھوں میں چھوڑنا ہے۔ سادہ سی بات ہے۔‘ جس کے جواب نے کیتھرن نے لکھا ’تاریخ کے بنیادی سچ کی تعلیم کسی کی عظمت بیان کرنا نہیں ہوتا۔‘

نارندر ایم نامی صارف نے انڈین میڈیا کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے تاج محل کی ایلیئنز (خلائی مخلوق) کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی ہے اور لکھا کہ ’مغلوں کے بارے میں ابواب ہٹانے کے بعد انڈین میڈیا کہنے لگے گی کہ ’ایلیئنز نے بنایا تاج۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

اسی طرح صحافی امل بھٹناگر نے فلم غزنی میں عامر خان کا ایک کلپ ڈال کر لکھا ہے کہ جب 12ویں کے بچوں سے پوچھا جائے گا کہ تاج محل کس نے بنوایا تو ان کا حال اس طرح ہو گا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سماجوادی پارٹی کے مہاراشٹر کے صدر ابو عاصم ‏اعظمی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’1857 کی بغاوت کی قیادت کرنے والے بہادر شاہ ظفر کا نام کیسے مٹاؤ گے؟ آرٹ کلچر، مذہبی رواداری، فن تعمیر، نظام تعلیم کس کی دین ہے؟ ہندوستان کو سونے کی چڑیا کس کے زمانے میں کہا جاتا تھا؟ وزیراعظم جب غیر ملکی مہمانوں کو لال قلعہ، تاج محل، قطب مینار لے کر جائیں گے تو کس کا نام لیں گے؟ شرم پھر بھی نہ آئے، یاد رکھو تمہارا ظلم بھی تاریخ میں لکھا جائے گا، تاریخ صرف بن سکتی ہے، نہ مٹائی جا سکتی ہے، نہ بدلی جا سکتی ہے۔‘

بہت سے لوگوں نے این سی ای آر ٹی کے اس اقدام کو سراہا ہے اور لکھا ہے کہ مودی حکومت نے آزادی کے 75 سال بعد حملہ آوروں کی تاریخ کو ہٹانے کا عمدہ کام کیا ہے۔

لیکن مصنف آنند رنگاناتھن کا خیال ہے کہ ’سکول کی نصابی کتابوں سے مغلوں کو خارج کرنا اس کا جواب نہیں ہے۔ ان کو شامل رکھیں، پھر تفصیل سے ان کی بربریت، مظالم اور جبر اور جہاد پرستی کو بیان کریں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری آنے والی نسل مغلوں کے بارے میں نہ جانے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسل مغلوں کے بارے میں حقیقت جانے۔‘

جوئے داس نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'نصابی کتابوں سے مغلوں کی تاریخ ہٹانا عجیب ہے یعنی کہ راجپوتوں نے کسی سے جنگ نہیں لڑی اور ہار گئے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

ان کے جواب میں پربھا نامی ایک صارف نے لکھا ’انصاف تو یہ ہو گا کہ وہ اپنے آپ سے لڑے پھر بھی ہار گئے۔‘

ہم نے نصابی کتابوں میں تبدیلی کی خبر پر جب گذشتہ سال انڈین تھنک ٹینک ’انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز‘ میں سینیئر فیلو فضل الرحمان سے بات کی تھی تو نے کہا کہ ’جہاں تک مجھے یاد ہے کہ سنہ 2001 کی واجپئی حکومت میں بھی اس قسم کی کوشش ہوئی تھی لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔ لیکن اب ان کی حکومت مضبوط ہے، حزبِ اختلاف کمزور ہے اس لیے وہ بہت تیزی کے ساتھ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔‘

فضل الرحمان کے مطابق بی جے پی یا آر ایس ایس کا یقین بہت زیادہ انتخابی سیاست میں نہیں ہے وہ معاشی، سماجی، تاریخی، لسانی ہر سطح پر تبدیلی چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے وہ نصاب سے ایسی چیزوں کو ہٹا دینا چاہتے ہیں تاکہ انھیں آئندہ اپنے بیانیہ کے پھیلانے میں کوئی دقت نہ ہو۔'

پہلے بھی کوششیں ہوئیں

سرورق

،تصویر کا ذریعہNCERT

،تصویر کا کیپشندرجہ ششم کی تاریخ کی کتاب میں پہلے بھی تبدیلی کی گئی ہے

مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’فرض کر لیں کہ اگر یہ حکومت تاریخ کے نصاب سے مغل دور کو ہٹانے میں کامیاب ہو جاتی ہے یا پھر اس کے ہندوستانی اور رواداری کے پہلو کو حذف کر دیتی ہے تو پھر انھیں اپنا بیانیہ پھیلانے میں آسانی ہو گی اور اس کے بعد اگر ان کی حکومت جاتی بھی رہی تو بھی کسی دوسری حکومت کے لیے اسے دوبارہ شامل نصاب کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہ ہوگا، تقریبا ناممکن ہو گا۔‘

ہم نے پہلے اورنگزیب اور گرو تیغ بہادر کے حوالے سے کی جانے والی ایک خبر میں یہ پایا تھا کہ کس طرح پہلے این سی ای آر ٹی سے شائع ہونے والی چھٹی جماعت کی تاریخ کی کتاب سے ایک بیانیہ کو ہٹا دیا گیا تھا۔

اکبر کا دربار

،تصویر کا ذریعہsocial media

،تصویر کا کیپشناکبر کا دربار

چھٹی جماعت کی تاریخ کی کتاب میں گرو تیغ بہادر کے قتل کا ذکر اِن الفاظ میں ہوا تھا جو اب بدلا جا چکا ہے۔

’بہر حال سنہ 1675 میں گرو تیغ بہادر کو ان کے پانچ پیرو کاروں کے ساتھ پکڑ کر دہلی لایا گیا۔ اس کے لیے سرکاری جواز بعد کے فارسی ماخذ میں یہ دیا گیا کہ آسام سے واپسی کے بعد انھوں نے شیخ احمد سرہندی کے ایک پیرو حافظ آدم کے ساتھ مل کر پنجاب کے صوبے میں لوٹ اور قتل و غارت گری مچا رکھی تھی۔‘

اس وقت جب وزیر اور بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی نے اسے ہٹانے کی بات کہی تھی تو انڈیا کے تاریخ دانوں نے بڑے پیمانے پر اُس کی مخالفت کی تھی جس میں دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش چندر اور پروفیسر بپن چندر کے ساتھ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر کے ایم شریمالی، پروفیسر ارجن دیو اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر عرفان حبیب شامل تھے۔