عثمان طارق کی ’حیرت‘ امریکہ پر بھاری پڑ گئی

عثمان طارق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعثمان طارق کا خاصہ ہے کہ گیند پھینکنے سے پہلے ہی وہ بلے باز کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں
    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

جوں جوں کرکٹ کا دورانیہ پھیلتا جاتا ہے، بلے بازوں کا کردار بڑھتا جاتا ہے مگر جیسے ہی دورانیہ سمٹنے لگتا ہے، بولرز کا کردار نمایاں ہونے لگتا ہے۔ آج کل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ صرف چھکوں چوکوں ہی کے بل پر جیت کی ضمانت نہیں دیتی بلکہ 20 اوورز میں زیادہ وکٹیں حاصل کر جانے والی ٹیمیں عموماً مقابلے کی درست سمت کھڑی نظر آتی ہیں۔

نیدرلینڈز کے خلاف اگرچہ فہیم اشرف کی انفرادی کارکردگی ہی بالآخر پاکستان کو بچا گئی مگر ان سے پہلے یہ پاکستان کی بولنگ کاوش تھی کہ ڈچ اننگز کو قدرے کمتر مجموعے تک محدود کرنے میں کامیاب رہی۔ پاکستان کی اس بولنگ کاوش کے مرکزی کردار سلمان مرزا تھے۔

مگر امریکہ کے خلاف پاکستانی تھنک ٹینک نے اپنے اسی مرکزی کردار کو الیون میں شامل نہیں کیا۔ اپنی تمام تر تکنیکی درستی کے باوجود یہ بہرحال ایک پیچیدہ فیصلہ تھا۔ پاکستان کے ڈریسنگ روم کلچر میں ایسا فیصلہ ایک مثبت رجحان معلوم پڑتا ہے جہاں ماضی میں ٹیم مینیجمنٹ عموماً کھیل کی باریکیوں سے زیادہ میڈیائی و سوشل میڈیائی رجحانات پر دھیان دیتی آئی ہے۔

سنہالیز سپورٹس کلب کولمبو کی پچ پیس کے لیے زیادہ موزوں نہیں تھی، سو ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان آغا نے عثمان طارق کی ’حیرت‘ کو سلمان مرزا کی مہارت پر ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔

ٹی ٹوئنٹی فرنچائز کرکٹ میں جیت کی دوڑ نے بہت سے نئے رجحانات کو جنم دیا ہے۔ ڈیٹا ان میں سے اہم ترین مگر مبہم ترین رجحان ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2016 کے فائنل میچ کا آخری اوور اگر یاد کیجئے تو ڈیٹا وہاں کارلوس براتھویٹ کی بجائے بین سٹوکس کے حق میں تھا مگر کرکٹ کی طبیعت ڈیٹا کی پروا کیے بغیر اپنا جادو دکھا گئی۔

ڈیٹا کا تمغہ کسی ٹیم کے سینے پر تبھی جچ سکتا ہے اگر اس ڈیٹا کا سیاق و سباق بھی ساتھ ملحوظِ نظر ہو۔ سیاق و سباق کے بغیر ڈیٹا کی تاثیر کسی عطائی کے نسخے سے بڑھ کر نہیں جو فائدہ تو شاید ہی دے مگر نقصان یقینی رہتا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کے تھنک ٹینک کا سربراہ ڈیٹا کو سیاق و سباق کے تحت پرکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عثمان طارق کا خاصہ ہے کہ گیند پھینکنے سے پہلے ہی وہ بلے باز کو امتحان میں ڈال دیتے ہیں جب کریز کے بالکل باہر سے رن اپ لیتے ہوئے وہ اس کی نظروں کا ارتکاز توڑتے ہیں۔ جب بلے باز کی نظریں ان کا تعاقب کرتے ہوئے بالآخر امپائر کے بائیں کندھے کی سمت ٹھہرتی ہیں تو اچانک بولر بھی ٹھہر سا جاتا ہے۔ یہ ٹھہرا ہوا لمحہ بلے باز کی جان پر کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

2007 کے اوّلین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جب سہیل تنویر نے اپنے منفرد بولنگ ایکشن سے جے سوریا کو کلین بولڈ کر دیا تو پویلین لوٹتے ہوئے سری لنکن لیجنڈ خود کو کوستے جا رہے تھے کہ آخر کیسے صرف ایک عجوبے بولنگ ایکشن نے انھیں الجھا کر ایک اوسط سی گیند کو ان کی وکٹ کا حق دار بنا دیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عثمان طارق مگر سپن کی ورائٹی کا بھی پورا ایک پٹارا لیے پھرتے ہیں۔ کبھی گگلی ہی دو الگ الگ زاویوں سے پھینک کر بلے باز کو چکرا دیتے ہیں تو کبھی وہ سیم کو ایسے زاویے سے حرکت دیتے ہیں کہ گیند بلے باز کے عین سامنے آ کر پچ میں ہی رک سی جاتی ہے اور بلے تک پہنچنے سے پہلے اپنی ساری رفتار کھو بیٹھتی ہے۔

پاکستانی بلے بازوں نے بھی انڈیا کے خلاف اہم ترین میچ سے پہلے اپنے دامن کے دھبے دھو لیے کہ بابر اعظم اپنے لیے طے کردہ کردار کے مطابق اننگز کو بڑھاتے نظر آئے جبکہ صاحبزادہ فرحان کی بے خوفی نے پاور پلے کے بعد بھی سکور بورڈ کو متحرک رکھا۔

ٹورنامںٹ کے پہلے دو دنوں میں تین سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے جہاں نیدرلینڈز نے پاکستان کے اوسان خطا کیے تو وہیں امریکہ نے بھی انڈیا کو کچھ گڑبڑا سا دیا۔ اگلی شام جب نیپال نے بھی انگلینڈ کو لگ بھگ میچ سے باہر دھکیل ہی ڈالا تو امید اٹھی کہ جلد ہی کوئی بڑا اپ سیٹ ہو کر ہی رہے گا۔

امریکی الیون بھی اسی امید سے میدان میں اتری تھی کہ شاید دو برس پہلے ڈیلس میں رقم کی گئی تاریخ کولمبو میں بھی خود کو دہرائے گی۔ مگر کولمبو کی کنڈیشنز ڈیلس کے بالکل برعکس نکلیں اور انجریز کے شکار بولنگ اٹیک کو بھی سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر احسان عادل کی شمولیت زیادہ راس نہ آئی۔

پاکستان کے لیے یہ جیت نیٹ رن ریٹ میں بھی قدرے بہتری لائی ہے جو ٹورنامنٹ فارمیٹ کے تناظر میں نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ چار روز پہلے اسی گراؤنڈ میں پاکستان نے ایک جیت پائی تھی جو پوائنٹس تو دے گئی مگر بہت خوشگوار نہیں تھی۔ منگل کی شام پاکستان نے کولمبو میں جو جیت پائی، وہ نہ صرف تسلی بخش تھی بلکہ امید افزا بھی تھی۔

پی سی بی

،تصویر کا ذریعہPCB

میچ میں کیا ہوا؟

کولمبو میں کھیلے جانے والے میچ میں امریکہ نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 20 اوورز میں نو وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز بنائے۔ صاحبزادہ فرحان نے 73 رنز کی اننگز کھیلی اور مین آف دی میچ قرار پائے۔

امریکہ کے خلاف میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور سلمان مرزا کی جگہ عثمان طارق کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا جنھوں نے اس میچ میں سب سے زیادہ تین وکٹیں حاصل کیں۔

یاد رہے پاکستان نے اپنے پہلے میچ میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ امریکہ کو انڈیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

امریکہ کے خلاف پاکستان کا آغاز اچھا رہا تھا اور صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان کے درمیان 54 رنز کی اوپننگ شراکت داری قائم ہوئی تاہم اس موقع پر صائم ایوب 19 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد کپتان سلمان علی آغا کریز پر آئِے مگر وہ بھی ایک رن بنا کر واپس چلے گئے۔ اس موقع پر فرحان اور بابر اعظم نے اننگز کو سنبھالا اور ایک اچھی شراکت قائم کی۔

صاحبزادہ فرحان نے 41 گیندوں پر 73 رنز جبکہ بابر اعظم نے 32 گیندوں پر 46 رنز کی اننگز کھیلی۔

بعد میں آنے والے بلے بازوں میں سے شاداب خان نے 12 گیندوں پر 30 رنز بنا کر سکور 190 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکی بالر شیڈلی وین شالک ویک نے سب سے زیادہ چار وکٹیں حاصل کیں۔

جواب میں امریکہ کی جانب سے شبھم رانجانے ٹاپ سکورر رہے۔ انھوں نے 30 بالوں پر 51 رنز بنائے۔ اس کے علاوہ شایان جہانگیر 34 بالوں پر 49 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ٹی 20 کھیلنے والے عثمان طارق نے چار اوورز میں 27 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ شاداب نے دو، محمد نواز، ابرار اور شاہین نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

’شکر کریں اس مرتبہ کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا‘

یاد رہے سنہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکہ نے پاکستان کو شکست دی تھی۔

پاکستان کی جیت کے بعد کئی صارفین اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آئے کہ شکر کریں اس مرتبہ کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا۔

کئی صارفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ پاکستان نے آج پچھلی ہار کا بدلہ لے لیا ہے۔

سوشل میڈیا پر صاحبزادہ فرحان اور بابر کی شراکت داری کا کافی چرچا ہے۔

صاحبزادہ فرحان نے محض 27 گیندوں پر اپنی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر کی نویں نصف سنچری مکمل کی۔

امیر حیات نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’صاحبزادہ فرحان کی یہ بہت شاندار اننگز ہے۔۔۔ انھوں نے 41 گیندوں پر 73 رنز بنائے۔ ان کے پانچ چھکے اس اننگز کی نمایاں جھلک رہے۔‘

کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ اس وکٹ پر 200 رنز باآسانی بن جانے چاہیے تھے اور کچھ بابر اعظم کی بعد یکے بعد دیگے آؤٹ ہونے والوں کے متعلق شکوہ کرتے نظر آئے کہ ’بابر کے بعد لائن ہی لگ گئی۔‘

سوشل میڈیا پر صارفین امریکی بالر شیڈلی وین شالک ویک کی بالنگ کو سراہ رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ امریکہ کے شیڈلی وین شالک ویک کے کیریئر کی بہترین کارکردگی ہے۔۔۔ میچ کے آخری لمحات میں پاکستان کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گر گئیں۔‘