دو انڈین شہریوں کی کینیا میں پراسرار گمشدگی: سپیشل سروسز یونٹ کے ہاتھوں قتل ہونے کا شبہ کیوں ظاہر کیا جا رہا ہے؟

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
    • مقام, انڈیا

کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں جولائی کی ایک رات کو دو انڈین سیاح اور ان کا مقامی ڈرائیور لاپتہ ہو گئے۔ اس واقعے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد گمشدگی کے اس کیس میں نو پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بی بی سی نے اس پہیلی کو سلجھانے کے لیے بہت سے جواب طلب سوالات کو اجاگر کیا۔

اپنے لاپتہ ہونے سے پہلے اپنی آخری سوشل میڈیا پوسٹوں میں سے ایک میں ذوالفقار احمد خان نے کینیا کے ماسائی مارا گیم ریزرو میں دھاڑتے ہوئے شیر کی ایک ویڈیو شیئر کی، یہ وہ علاقہ تھا جہاں وہ چھٹیاں گزار رہے تھے۔

انھوں نے ایک پوسٹ میں لکھا ’ماسائی مارا میں سحر انگیز صبح۔ ذرا تصور کریں کہ آپ کی پہلی ملاقات سِمبا کے ساتھ کب ہوئی ہے۔ کسی کو ناشتہ کرنا ہے۔‘

48 سالہ ذوالفقار خان ممبئی کی ایک ٹی وی کمپنی ’بالاجی ٹیلی فلمز‘ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

ذوالفقار کے ’لنکڈ اِن‘ پروفائل کے مطابق وہ ’نتائج حاصل کرنا والے، ایسے کاروباری رہنما ہیں جن کی توجہ کا مرکز لوگ ہیں‘ اور جن کا براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کمپنیوں میں 19 سال سے زیادہ کام کا تجربہ ہے۔

ان کے دوستوں نے انھیں ایک شوقین کھلاڑی، کھانے کے شوقین، ایک شوقین مسافر اور کرکٹ سے محبت کرنے والے شخص کے طور پر بیان کیا۔

جون میں ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ ایک ماہ کے لیے کینیا کے سفر پر گئے تھے۔ اُن کی فیس بک اور انسٹاگرام پوسٹس کینیا میں اُن کی تصاویر اور ویڈیوز سے بھری ہوئی ہیں: نیروبی میں ناشتہ، گیم پارکس میں دوپہر۔

لاپتہ ہونے سے چار دن پہلے انھوں نے دوستوں کو فون کیا اور کینیا کی سیر کے لیے اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا۔

ان میں سے ایک راجیو دوبے تھے جو دہلی میں مقیم کمیونیکیشن مینیجر ہیں اور انھیں 24 سال سے جانتے تھے۔ دوبے کا کہنا ہے کہ ’وہ بہت خوش لگ رہے تھے۔ انھوں نے کچھ دن پہلے ہی اپنے کچھ دوستوں سے بات کی تھی اور جنگلی حیات کے بارے میں طویل بات کی تھی اور انھیں اس ’خوبصورت‘ جگہ کا دورہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔‘

ذوالفقار نے دوستوں کو بتایا کہ وہ 24 جولائی کو گھر واپس آئیں گے اور وہ سالانہ ’گریٹ مائیگریشن‘ دیکھنے کینیا بھی واپس آنا چاہتے ہیں، جب دس لاکھ سے زیادہ جنگلی جانور اور ریوڑ ماسائی مارا کے گھاس کے میدانوں میں ہجرت کرتے ہیں۔

22 جولائی کی رات ذوالفقار خان ایک اور انڈین شخص اور ان کا کینیائی ڈرائیور ایک ساتھ غائب ہو گئے۔

دوسرے انڈین 36 سالہ محمد زید سمیع قدوائی تھے جو سیاحتی ویزا پر نیروبی آئے تھے۔ قدوائی شمالی انڈیا کے شہر لکھنؤ سے تعلق رکھتے تھے اور دبئی میں رہتے تھے۔

کینیا میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ ’انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ماہر‘ ہیں۔

جولائی میں نیروبی میں انڈین ہائی کمیشن کو لکھے گئے خط میں اُن کی اہلیہ امبرین قدوائی نے کہا کہ اُن کے شوہر فروری سے سیاحت کے لیے کینیا کے دورہ پر ہیں۔

انھوں نے ذوالفقار خان کو اپنے شوہر کا دوست بتایا اور کہا کہ وہ دونوں نیروبی کے ہوٹل سے باہر نکلے تھے جس میں وہ رہ رہے تھے اور 22 جولائی کو 22:45 پر ایک بار میں چلے گئے۔

قدوائی کی اہلیہ نے کہا کہ انھوں نے آدھی رات کے قریب اپنے شوہر کو ’ٹیکسٹ‘ کیا تھا کہ وہ کب واپس آئیں گے۔ انھوں نے جواب دیا کہ وہ ’15 منٹ‘ میں بار سے نکلیں گے۔

ان کی اہلیہ کے مطابق اس کے فوراً بعد جب وہ 03:00 بجے اٹھیں تو انھوں نے دیکھا کہ ان کے شوہر واپس نہیں آئے۔

انھوں نے اپنے شوہر کے ڈرائیور کو فون کیا، لیکن ایسا لگتا تھا کہ دونوں کے فون بند آ رہے تھے۔ انھوں نے نیروبی میں مشترکہ دوستوں سے رابطہ کیا لیکن دونوں افراد ان میں سے کسی کے ساتھ نہیں تھے۔

اگلے دن وہ پولیس کے پاس گئیں اور اپنے شوہر اور ذوالفقار خان کی گمشدگی کی اطلاع دی۔ وہ بار میں بھی گئیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج مانگی، اس میں دو انڈینز کو صبح ایک بجے کے قریب جگہ چھوڑتے اور ٹویوٹا سیڈان میں سوار ہوتے دکھایا گیا۔ انھوں نے پولیس کو ملنے والی ایک لاوارث کار کو بھی شناخت کیا جس میں ان کے شوہر اور ذوالفقار خان سفر کر رہے تھے۔

ادھر ممبئی میں ذوالفقار خان کے دوست ان کے بارے میں فکر مند تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 21 جولائی کے بعد ’مکمل خاموشی‘ تھی۔ کوئی سوشل میڈیا اپ ڈیٹ نہیں، کوئی فون کالز نہیں اور ’دوستوں کو جو بات سب سے زیادہ پریشان کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ ہمارے واٹس ایپ (پیغامات) دوسری طرف موصول بھی نہیں ہو رہے تھے۔‘

کینیا میں پولیس کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور 70 دنوں کے انتظار کے بعد دوستوں نے ذوالفقار کی تلاش میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مدد کے لیے ایک پٹیشن شروع کی ہے اس پر اب تک 10,000 سے زیادہ لوگوں نے دستخط کیے ہیں۔

ان کے دوستوں نے پٹیشن میں لکھا ’زلفی صرف کسی ملک یا جگہ کا دورہ نہیں کرتا ہے لیکن اس علاقے کی تلاش میں ہفتوں گزارتا ہے، اس کی تاریخ اور ثقافت میں گھل مل جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کا کینیا کا دورہ ’زلفی کے اندر کا ایکسپلورر ایک نئے ملک کا تجربہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اور پھر زلفی لاپتہ ہو گیا، کوئی سراغ نہیں ملا۔ خاندان اور دوستوں سے کوئی رابطہ نہیں۔‘

لاپتہ افراد کے ساتھ کیا ہوا؟

حکام کے حوالے سے، مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں انڈین 55 سالہ سیاست دان ولیم روٹو کی انتخابی مہم میں مدد کرنے کے لیے کینیا میں تھے۔ روٹو نے جیت کے بعد ستمبر میں ملک کے پانچویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، نیروبی میں پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے کے فوراً بعد انڈین اپنے مقامی ڈرائیور نیکوڈمس میونیا کے ساتھ لاپتہ ہو گئے۔

تقریباً تین ماہ بعد کینیا کی پولیس نے پیش رفت کا دعویٰ کیا۔ تینوں افراد کے اغوا اور قتل کا شبے میں 21 اکتوبر سے اب تک نو پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایات کی تحقیقات کرنے والے کینیا کے داخلہ امور کے محکمے کے مطابق یہ پولیس اہلکار سپیشل سروسز یونٹ نامی ایلیٹ سکواڈ کا حصہ تھے جسے صدر روٹو نے گذشتہ ہفتے مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل اور کئی برسوں سے مشتبہ افراد کی گمشدگی کے الزام میں ختم کر دیا تھا۔

انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ ان کی آزادانہ تحقیقات نے سکواڈ اور دیگر پولیس یونٹس کا گذشتہ چار برسوں میں 600 سے زائد افراد کی ہلاکت کے ساتھ تعلق کا پتا چلایا ہے۔ کچھ لاشیں بعد میں مغربی اور شمالی کینیا کے دریاؤں سے برآمد ہوئیں۔

لاپتہ انڈین شہریوں کے معاملے میں گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد میں ایک چیف انسپکٹر آف پولیس، ایک کارپورل اور پولیس ڈرائیور شامل ہیں۔ مشتبہ افراد کے وکیل، دانستان عمری نے کہا ہے کہ ’ان پر اب تک فرد جرم عائد نہیں کی گئی اس لیے ہم اس کی تردید نہیں کر سکتے۔‘

انھوں نے کہا ’میرے موکل کا خیال ہے کہ انھیں سیاسی عداوت کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

پیر کو عدالت میں پولیس کی جانب سے جمع کروائے گئے بیان حلفی کے مطابق جس ٹیکسی میں انڈین شہری سفر کر رہے تھے اسے نیروبی کی سڑک پر کچھ آدمیوں کے گروہ نے روکا۔ پھر انھیں اغوا کر لیا گیا اور ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر 150 کلو میٹر دور ایک جنگل میں لے جایا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر انھیں قتل کر دیا گیا ’لاشوں کی وہیں چھوڑ دیا گیا۔‘

پولیس بیان میں چار مشتبہ افراد اور اغوا کی ایسی ہی دوسری واردات کا منصوبہ بندی کرنے والے شخص کا ذکر گیا گیا ہے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے جنگل میں کی جانے والی تلاشی کے دوران کپڑوں اور چند چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ جنھیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجا جائے گا۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق وقوعے سے ہڈیاں اور بیلٹ بھی ملے ہیں لیکن اس اطلاع کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

پولیس کے مطابق یہ دونوں انڈین شہری کینا میں تجارتی مقاصد کے لیے آئے تھے۔

کہانی میں دلچسپ موڑ

ذوالفقار خان کے خاندان اور دوستوں نے سختی سے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ کینیا تجارتی مقاصد کے لیے گئے تھے۔ امبرین دوبے کا کہنا کہ ’زلفی نے کبھی وہاں الیکشن مہم کے سلسلے میں کسی کام سے متع مجھے یا اپنے دوستوں کو نہیں بتایا وہ جب بھی کچھ نیا کرتے تھے تو مجھے ضرور بتاتے تھے۔‘

لیکن صدر روتو کے لیے ڈیجیٹل مہم چلانے والے ڈینس اتونبی کا کہنا ہے کہ دونوں انڈین سوشل میڈیا مہم میں معاونت کر رہے تھے۔

اتونبی نے بی بی سی کو فون پر بتایا ’میں دنوں سے کئی بار ملا ہوں۔ میں جانتا ہوں ک وہ کہاں رہتے تھے۔ میں ان کے ساتھ ٹیلی گرام گروپ میں تھا۔ وہ مہم تو نہیں چلا رہے تھے لیکن وہ ہمیں آئیڈیاز دیتے تھے اور ان میں سے کئی پر ہم نے عمل بپی کیا۔ ‘

انڈینز خاندانوں کے وکیل نے بتایا ’وہ ایک صدارتی امیدوار کی ایک چھوٹی سے سوش میڈیا مہم میں مدد کر رہے تھے۔ میرا خیال ہے وہ سیاسی ریلیوں کی چھوٹی ویڈیوز بنانے مںی ماہر تھے، میرا خیال ہے دونوں ن تھوڑا تھورا کام کیا۔

سوال جن کے جواب نہیں ملے

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں مزید تفتیش کرنی ہو گی تاکہ مشتبہ افراد اور تین افراد کے قتل میں تعلق کی وضاحت کی جا سکے۔

یہ سوال بھی حل طلب ہے کہ کیا دونوں انڈین شہری ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے؟ کیا انھوں نے کینیا کے صدارتی انتخابات کے لیے مہم چلائی اور سیاسی عداوت میں مارے گئے؟ انھیں مبینہ طور پر اغوا کیوں کیا گیا؟ پولیس کو جنگل سے کس کی باقیات ملی ہیں؟ کسی کو اس بارے میں ابھی کچھ نہیں معلوم۔