آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈونیشیا کا ’ریوینج پورن کیس‘ جس میں ملزم کو تاریخی سزا دی گئی
انڈونیشیا میں ریوینج پورن کے ایک مقدمے میں ملزم کو چھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے تاہم متاثرہ خاندان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےاس سزا کو ناکافی قرار دیا ہے۔
ریوینج پورن خواتین کی ذاتی تصاویر بغیر اجازت کے استعمال کرنے اور ان کے ذریعے انھیں بلیک میل کرنے کے واقعات کو کہا جاتا ہے۔
انڈونیشیا کی مقامی عدالت نے ایک ایسے ہی مقدمے کے ملزم علوی حسین ملا کو مجرم قرار دیتے ہوئے چھ سال قید کی سزا علاوہ انٹرنیٹ استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی۔
متاثرہ خاتون کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے نے اس پر ایک دیرپا اثر چھوڑا ہے، سزا اتنی نہیں جتنی میری بہن کو دی گئی۔
انھوں نے کہا کہ وہ پولیس میں تازہ رپورٹ درج کرائیں گے اور ملزم کے خلاف جنسی تشدد ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔
یہ معاملہ انڈونیشیا کے بانٹین صوبے کا ہے جہاں بغیر سوشل میڈیا پر متاثرہ لڑکی کی تصاویر پوسٹ کی گئیں۔
عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے پولیس کمشنر آمنہ تارڈی نے کہا کہ یہ فیصلہ بہت اہم اور قانون کی کامیابی ہے کیونکہ اس سے پہلے شاذ و نادر ہی کسی ملزم کے انٹرنیٹ حقوق منسوخ ہوئے ہوں۔
تاہم متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم کو دی گئی سزا کے پیچھے سوشل میڈیا کا بھی کردار ہے کیونکہ اس معاملے کو لے کر سوشل میڈیا پر مہم چل رہی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کا الزام
لواحقین نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پراسیکیوشن آفس نے متاثرہ لڑکی کو نظر انداز کیا اور آٹھ ماہ تک اس کا موقف نہیں سنا۔
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ نے اس معاملے کے حوالے سے ٹوئٹر پر ایک تھریڈ شروع کیا جس کے بعد انٹرنیٹ پر لوگوں نے ردعمل دیا اور انڈونیشیا میں اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی۔
26 جون 2023 کو متاثرہ خاتون کے بھائی نے ٹوئٹر پر اس معاملے کے حوالے سے یکے بعد دیگرے کئی ٹویٹس کیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری بہن کے ساتھ جو ہوا اس کے بارے میں عوامی سطح پر بات کرنا کوئی خوشگوار تجربہ نہیں تھا۔ اس کا میری بہن پر نفسیاتی اثر بھی ہوا ہے۔‘
ایمان زینت الحریری کا کہنا ہے کہ اپنی بہن کو انصاف دلانے کے لیے ان کے پاس اس معاملے کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔
’اگر یہ معاملہ وائرل نہ ہوا ہوتا اور عام قانونی عمل کو ہی اپنایا جاتا تو یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔ اسی لیے ہمارے خاندان نے اسے وائرل کرنے کا خطرہ مول لیا۔‘
ایمان نے سلسلہ وار ٹویٹس میں بتایا تھا کہ ان کی بہن کے ساتھ ہونے والے ریپ کی ویڈیو پھیلانے کے لیے تین سال سے دھمکیاں دی جارہی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ اس دوران ان کی چھوٹی بہن ذہنی اذیت سے گزری۔
14 دسمبر 2022 کو متاثرہ خاتون کو ایک نامعلوم انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں ان کی بے ہوشی کی حالت میں ویڈیو ریکارڈ کی گئی تھی۔
ایمان کے مطابق ان کی بہن نے روتے ہوئے ان کو سب کچھ بتا دیا۔ اس کے بعد اہل خانہ نے پولیس میں مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کیا۔
طویل تفتیشی عمل سے گزرنے کے بعد بالآخر 21 فروری 2023 کو ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایمان کے مطابق اس دوران ان کی فیملی بہت دباؤ میں تھی۔
وہ کہتے ہیں ’میری بہن کو زبردستی گھسیٹا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ مجرم نے بار بار میری بہن کے گلے پر چاقو رکھا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔‘
ایمان کے مطابق ملزم ’ویڈیو کی دھمکی دے کر میری بہن پر بوائے فرینڈ بننے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔‘
ایمان نے اپنی بہن کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں تین حصوں میں ٹویٹ کیا جن کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔
ایمان کا دعویٰ ہے کہ ان کے وکلا کو کیس کی پہلی سماعت کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور ان کو سماعت کا علم اس وقت ہوا جب ان کی بہن کو گواہی کے لیے بلایا گیا۔
ایمان نے کہا کہ ان کی بہن پر ملزم کو معاف کرنے کے لیے بھی بار بار دباؤ ڈالا گیا۔ انھیں عدالت میں کئی اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
ایمان نے یہ الزام بھی لگایا کہ عدالت میں پراسیکیوٹر نے ان کی بہن کی صحیح نمائندگی نہیں کی۔
عدالت نے اس کیس میں ملزم کو سزا سنائی لیکن ریپ کا الزام نہیں لگایا۔
ایمان کا کہنا ہے کہ ان کی بہن ’ہمیشہ سے کہتی رہی ہے کہ اس کے ساتھ ریپ ہوا ہے‘ اور اسی لیے وہ اس معاملے میں تازہ رپورٹ درج کرائیں گے۔
اس کیس میں چھ سال قید کے علاوہ مجرم پر اگلے آٹھ سال تک انٹرنیٹ استعمال کرنے کی پابندی بھی لگائی گئی ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ انڈونیشیا میں ایک مثال ثابت ہو گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملزم کے انٹرنیٹ حقوق منسوخ کیے گئے ہیں۔