ہماچل پردیش میں سیلاب کے بعد بی جے پی رہنما کی کنگنا رناوت پر تنقید: ’کیا انھیں اپنے ووٹروں کی فکر نہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش بادل پھٹنے اور بارش کی وجہ سے شدید سیلاب کی زد میں ہے جس میں اب تک تقریبا 70 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ 37 افراد لا پتہ ہیں۔
ریاست کے وزیر اعلی سکھوندر سنگھ سکھو کے مطابق 110 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور علاقے میں 700 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
لیکن یہاں اس سے زیادہ یہ معاملہ طول پکڑے ہوئے ہے کہ منڈی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران وہاں کی رکن پارلیمان اور معروف اداکارہ کنگنا رناوت وہاں کیوں نہیں کیا انھیں ’اپنے ووٹروں کی فکر نہیں ہے۔‘
یہ بات اس وقت ابھر کر زیادہ سامنے آئی جب ان کی اپنی ہی پارٹی بی جے پی کے رہنما اور ریاست کے سابق وزیر اعلی جے رام ٹھاکر نے اس نازک حالت میں ان کی غیر موجودگی پر تنقید کی۔
آفت زدہ منڈی ضلع میں کنگنا کی غیر موجودگی کے بارے میں پوچھے جانے پر، جے رام ٹھاکر نے ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الزام اور تردید
مسٹر ٹھاکر نے کہا کہ ’ہم یہاں منڈی کے لوگوں کے ساتھ جینے اور مرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہمیں ان کی پرواہ ہے۔ میں ان لوگوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا جو پرواہ نہیں کرتے۔‘
تاہم کنگنا رناوت نے کہا کہ جے رام ٹھاکر نے انھیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ جلد ہی آفت زدہ علاقوں کا دورہ کریں گی۔
اس سلسلے میں ریاست کے وزیر اعلی نے دونوں پر دکھاوے کی سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے اور کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹفارم ایکس پر لکھا ہے کہ 'کنگنا رناوت کو منڈی کے لوگوں کی فکر نہیں ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل کنگنا نے سوشل میڈیا پر لکھا: 'ہماچل میں ہر سال شدید سیلاب سے ہونے والی تباہی بہت افسوسناک ہے۔ میں منڈی کے سراج اور سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں میں جانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اپوزیشن لیڈر جے رام ٹھاکر جی نے مجھے وہاں کنیکٹیویٹی بحال ہونے تک انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ آج منڈی ڈی سی نے ریڈ الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے جیسے ہی اجازت ملے گی میں وہاں پہنچ جاؤں گا۔'
اس کے بعد آج انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا: 'میں ہماچل پردیش جا رہی ہوں، میں جلد ہی متاثرہ علاقوں کا دورہ کروں گی۔ براہ کرم یقین رکھیں میں ہر حال میں ہماچل پردیش کے ساتھ کھڑی ہوں۔'
سابق آئی اے ایس آفسر سنجیو گپتا نے کنگنا کے پہلے بیان کے جواب میں لکھا کہ 'اپنے انتخابی حلقے کے سیلاب زدہ لوگوں تک پہنچنے کے لیے آپ کو اپوزیشن لیڈر سے اجازت لینے یا کنیکٹیویٹی بحال ہونے کے انتظار کی ضرورت نہیں۔'
اس کے ساتھ انھوں نے لکھا کہ 1993 میں سڑکیں اچھی نہیں تھیں اور وہ منڈی کے ڈپٹی کمشنر تھے تو انھوں نے لوگوں تک پہنچنے کے لیے 50 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر 2012 سے سراج اسمبلی حلقہ سے ایم ایل اے ہیں اور یہ منڈی ضلع کے تحت آتا ہے۔ جے رام ٹھاکر کنگنا رناوت کی پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کی ہے۔
جے رام ٹھاکر نے کہا: ’میں نے ابھی کنگنا رناوت سے بات کی ہے، میں نے انھیں منڈی لوک سبھا اور سراج اسمبلی میں ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا ہے، مجھے اس پر زیادہ کچھ نہیں کہنا ہے، صرف اتنا ہے کہ انھوں نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
’میں نے ان سے کہا کہ آپ آجائیں، ابھی کنیکٹیویٹی اچھی نہیں ہے، جیسے ہی ٹھیک ہوتی ہے آئیے۔ اگر وہ آنے کی خواہش کا اظہار کر رہیں ہیں تو آئیں گی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست اور منڈی میں تباہی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دوسری جانب ریاست کے وزیر اعلی کے مطابق دو ہفتے کے دوران بارش اور فلیش فلڈ سے 69 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ تین درجن سے زیادہ افراد لا پتہ ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست بھر میں 250 سڑکین بند ہیں، 500 سے زیادہ پاور سٹیشن کام نہیں کر رہے جبکہ تقریبا 700 پینے کے پانی کی سکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔
محکمۂ موسمیات نے نو جولائی تک موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔
اس کے مطابق 5 جولائی سے 9 جولائی تک ریاست کے بیشتر حصوں میں موسلادھار سے انتہائی تیز بارش ہوگی، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے اور اس کے تعلق سے وارننگ جاری کی گئی ہے۔
گذشتہ چند دنوں سے جاری موسلادھار بارش کی وجہ سے ریاست کے کئی حصوں میں معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مون سون کی بارش میں شدت کا امکان ہے جس سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، درختوں کے اکھڑ جانے اور دریاؤں کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
منڈی ضلع شدید بارش، بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق منڈی میں بادل پھٹنے سے اب تک 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور 31 لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
سوشل میڈیا پر تنقید
سوشل میڈیا پر کنگنا رناوت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انھیں منڈی کے لوگوں کی فکر نہیں ہے۔
رویندر کپور نامی صارف نے لکھا: 'ہماچل پردیش کے منڈی ضلع میں طوفانی سیلاب نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ہزاروں بے گھر ہیں، سڑکیں بند ہیں، اور لوگ مدد کے لیے التجا کر رہے ہیں۔ بی جے پی ایم پی بے شرم کنگنا رناوت نے لوگوں کی خیریت کے بارے میں جاننا بھی مناسب نہیں سمجھا، مدد کا تو پوچھنا ہی کیا۔'
ان کے ٹویٹ کو درجنوں بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں نے اس کو کاپی کرکے بھی پوسٹ کیا ہے۔
بہت سے لوگ لکھ رہے ہیں کہ 'منڈی والو تیار ہو جائے باجے گاجے کے ساتھ، کنگنا جی فوٹو شوٹ کے لیے آ رہی ہیں۔' جبکہ بہت سے لوگ یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ 'اب کنگنا حکومت کو کوسنے کے لیے آ رہی ہیں۔'
ایک صارف نے لکھا کہ 'کنگنا کے دو کمٹمنٹس ہیں ایک بالی وڈ اور دوسرا منڈی۔ اگر وہ آئندہ بھی انتخاب جیتنا چاہتی ہیں تو انھیں منڈ کو منتخب کرنا ہوگا۔'
کئی صارف لکھ رہے ہیں کہ 'کنگنا مست، منڈی کے لوگ ترست (پریشانی میں)'
لمبودر مشرا نے لکھا کہ 'آخر انھیں ممبئی جانے کی ضرورت کیا تھی۔ ان کے پاس نہ کوئی فلم ہے نہ کوئی شو۔'
بہت سے لوگ کنگنا کے ٹویٹ پر ان کی تعریف کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ووٹروں کی ہمدرد ہیں اور وہ منڈی پہنچ رہی ہیں۔












