آپ کا ہم شکل دنیا میں موجود ہونے کا کتنا امکان ہے اور سائنس اس کی وضاحت کیسے کرتی ہے؟

    • مصنف, مارگریٹ روڈریگیز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز منڈو

ایگنس ٹرین میں سفر کر رہی تھیں جب ایک شخص اُن کے پاس آیا اور ان سے ان موضوعات کے بارے میں گفتگو کرنا شروع کر دی جن کے بارے میں ایگنس کو کوئی علم نہیں تھا۔

اُس آدمی کو جلد ہی احساس ہوا کہ ’ایگنس درحقیقت وہ نہیں تھیں جو وہ انھیں سمجھ رہا تھا۔‘

اور اس اجنبی نے پھر یہ بتانے میں دیر نہیں کی درحقیقت انھیں یہ دھوکہ اس لیے ہوا کیونکہ وہ اُن کی ایک ہم شکل کو جانتا ہے۔

بعد میں ایگنس ٹرین میں ملنے والے اس شخص کی اُس ایسٹر نامی دوست سے ملیں جو اجنبی کے مطابق ان کی ہم شکل تھی۔

ایسٹر سے ملنے کے بعد ’ہمیں فوراً ہی احساس ہو گیا کہ صرف ہماری شکل ہی نہیں بلکہ ہماری شخصیتیں بھی ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ کسی دوسرے شخص میں اپنا آپ دیکھنا بہت عجیب اور حیرت انگیز تھا۔ ناصرف ہمارا ذوق ایک جیسا ہے بلکہ موسیقی، کپڑے، ٹیٹوز بھی۔‘

جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو ایسٹر کی عمر 32 سال جبکہ ایگنس 28 سال کی تھیں۔ انھوں نے کینیڈین فوٹوگرافر فرانسوا برونیل سے اپنی تصویر بھی بنوائی۔ فرانسوا برونیل نے بی بی سی کے ساتھ ان دو ڈچ خواتین کی کہانی شیئر کی ہے۔

کینیڈین فوٹوگرافر کو یاد ہے کہ جب انھوں نے ان دونوں کو دیکھا تو انھیں ’یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ کتنی ایک جیسی نظر آتی ہیں۔‘

فرانسوا برونیل نے دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے لوگوں کی تصاویر بناتے برسوں گزارے ہیں، جو نہ تو جڑواں بہنیں یا بھائی اور نہ ہی رشتہ دار، مگر ان کی چہرے حیرت انگیز طور پر ایک جیسے نظر آتے ہیں۔

ممکن ہے کہ آپ نے یہ تصویر پہلے ہی سوشل نیٹ ورکس پر دیکھ رکھی ہو، جیسا کہ انٹرنیٹ پر موجود سینکڑوں مضامین میں بتایا جاتا ہے کہ کئی غیر معروف لوگ جو مشہور شخصیات کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

درحقیقت، حالیہ برسوں میں مقبول ہونے والے ان موازنوں میں سے ایک فراری ٹیم کے بانی، اطالوی اینزو فراری اور ترک نژاد جرمن فٹ بال کھلاڑی میسوت اوزیل کا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

 برونیل نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ان کا یہ پراجیکٹ سائنسی تحقیق کی بنیاد بن جائے گا۔

ان سے بارسلونا کے جوزپ کیریرس لیوکیمیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ماہرین کے ایک گروپ نے رابطہ کیا، جو ایسے لوگوں کے بارے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو خاندانی تعلق نہ ہونے کے باوجود جسمانی مماثلت رکھتے ہیں۔

انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر اور یونیورسٹی آف بارسلونا کی فیکلٹی آف میڈیسن میں جینیٹکس کے پروفیسر مانیل ایسٹیلر نے اس تحقیق کی قیادت کی اور بی بی سی منڈو کو دلچسپ نتائج کے بارے میں بتایا۔

اگست 2016 میں شروع ہونے والی اس تحقیق کے نتائج تحقیقی جریدے سیل رپورٹس میں شائع ہوئے۔

چہرے کی شناخت کے الگورتھم کے ذریعے ایک سے نظر آنے والے انسانوں کے عنوان کے تحت جینیاتی مماثلتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ مصنفین نے وضاحت کی کہ اس مطالعے کا مقصد ’دنیا میں کہیں بھی موجود ایسے انسانوں کی خصوصیات جاننا تھا جن کے چہرے ایک جیسی دکھائی دیتے ہیں۔‘

یہ وہ افراد ہیں جن کی ’مشابہت‘ کی وجہ سے ہم انھیں ڈبلز یا نامعلوم جڑواں بچے کہتے ہیں۔

محققین نے برونیل سے رابطہ کیا اور ان کے پراجیکٹ میں شامل 32 جوڑے سامنے آئے جو رضاکارانہ طو پر تحقیق میں شامل ہوئے۔

ان کے چہروں کی تصاویر کا تجزیہ، چہرے کی شناخت کرنے والے تین سافٹ ویئر کے ساتھ کیا گیا۔

ایسٹیلر نے وضاحت کی کہ ’یہ ایسے سافٹ ویئر ہیں جو آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک چہرے کا دوسرے سے موازنہ کتنا ملتا جلتا ہے۔‘

جڑواں بچوں میں، مثال کے طور پر ان پروگراموں کے ذریعے پائی جانے والی مماثلت 90 سے 100 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

مطالعے میں ان کا استعمال جوڑوں کے چہروں کی ’مماثلت‘ کی ڈگری یعنی سطح کا تعین کرنے کے لیے کیا گیا جس میں ’مماثلت کی شرح بہت زیادہ‘ پائی گئی۔

انسٹیٹیوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ’کم از کم دو پروگراموں میں جوڑوں کی شکل میں مماثلت بہت زیادہ پائی گئی۔ یعنی 32 میں سے 25 جوڑوں میں یہ 75 فیصد بنتی ہے۔‘ ایسٹیلر کے مطابق یہ ’ایک جیسے جڑواں بچوں کو پہچاننے کی انسانی صلاحیت کے بہت قریب ہے۔‘

تینوں پروگراموں نے نصف جوڑوں میں مماثلت پائی یعنی 16 جوڑے ایسے تھے جن کی شکل ایک دوسرے سے انتہائی ملتی جلتی ہے۔

محققین نے شرکا کے ’حیاتیاتی مواد‘ کا تجزیہ کیا، جس کو حاصل کرنا قدرے ’پیچیدہ‘ تھا کیونکہ وہ مختلف ممالک میں تھے۔

اس طرح سلائیوا یعنی لعاب دہن سے ڈی این اے کے نمونے اکٹھے کر کے ان کا تجزیہ کیا گیا۔

’ہم اس حیاتیاتی مواد، جینوم اور دو مزید اجزا کا مطالعہ کرتے ہیں: ایپی جینوم، جو ڈی این اے کو کنٹرول کرنے والے کیمیائی نشانات کی طرح ہیں، اور مائیکرو بائیوم، وائرس اور بیکٹیریا کی قسم جو ہمارے پاس ہے۔‘

’مطالعے میں پتا چلا کہ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ (جوڑے) ایک جیسی جینیات رکھتے ہیں، ایک جیسی ڈی این اے ترتیب اور (مماثلت) اور ایسا اس لیے ہرگز نہیں کہ ان کے خاندان مشترک ہیں بلکہ ان کے درمیان تو کوئی رشتہ ہی نہیں۔‘

’یہ اس لیے ہے کہ یقیناً، وقت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے ڈی این اے کی ترتیب ایک جیسی ہو گئی۔ ‘

محققین ان رضاکاروں کی خاندانی تاریخ میں ’صدیوں‘ پیچھے تک گئے لیکن ’ہمیں ان کے درمیان کوئی مشترکہ رشتہ دار نہیں ملا۔‘

جینیاتی ترتیب 

سائنسدان جس ترتیب یا سیکوئینس کے بارے میں بتاتے ہیں وہ وہمارے چہرے کے خدوخال کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ 

سائنسی اعتبار سے دو لوگوں کا ایک جیسا نظر آنا لاٹری کا ٹکٹ خریدنے جیسا ہے۔ انعام جیتنا مشکل ہے مگر قسمت کبھی بھی مہربان ہو سکتی ہے۔ 

مذکورہ دونوں لوگ آپس میں رشتے دار نہیں ہوں گے لیکن ان کی جینیاتی خصوصیات ایسی ہوں گی جو انھیں ایک جیسی ساخت فراہم کریں گی۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ڈی این اے کی کچھ خصوصیات ایک جیسی ہوں گی۔ 

تصور کریں کہ دو لوگوں میں ایسی جینیاتی خصوصیت ہے جس سے ان کی بھنویں موٹی ہیں جبکہ دو دیگر کی وجہ سے ان کے ہونٹ اور ٹھوڑی بھی ایک ہی جیسے دکھتے ہوں گے۔ 

اس طرح یہ تمام خصوصیات مل کر چہرے کو ایک جیسا روپ فراہم کرتی ہیں۔ 

اس یکسانیت کو فیصد کے حساب سے ماپا جا سکتا ہے اور اس کا تعلق عین اس بات سے ہے کہ ان دونوں میں کتنی جینیاتی خصوصیات مشترک ہیں۔ 

رویوں اور عادات کی یکسانیت

یہ تحقیق اس لیے اتنی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ جیسے سارا کوٹا نے سمتھسونیئن میگزین میں بتایا ہے کہ ’بھلے ہی یہ عمومی بات لگتی ہو کہ ایک جیسے چہرے والے لوگوں کے درمیان ڈی این اے کا کچھ حصہ ایک جیسا ہو گا مگر اب تک کسی نے یہ بات سائنسی انداز میں ثابت نہیں کی تھی۔‘ 

مگر جسمانی خصوصیات سے بڑھ کر بھی کچھ چیزیں رونما ہوتی ہیں۔ رضاکاروں سے ان کی روز مرّہ کی عادات کے متعلق ایک سوالنامہ پُر کروایا گیا جس میں 60 سوالات تھے۔ 

مینل ایسٹیلر کہتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ کیا ان لوگوں کی کچھ عادات بھی ایک جیسی ہیں یا نہیں، اور کچھ لوگوں کی عادات میں یکسانیت تھی۔‘ 

ان کے مطابق اس کے علاوہ وزن، عمر، قد جیسی دیگر جسمانی خصوصیات کا بھی تجزیہ کیا گیا۔ 

مطالعے میں پایا گیا کہ 16 ایک جیسے نظر آنے والے جوڑوں میں کئی کا وزن ایک جیسا تھا اور ان کی بائیومیٹرک پیمائشوں اور طرزِ زندگی میں بھی مماثلت پائی گئی۔ 

مطالعے کے مطابق ’یکسانیت کے حامل جوڑوں میں تعلیمی سطح اور سگریٹ پینے جیسے رویوں میں مماثلت پائی گئی جس سے عندیہ ملتا ہے کہ مشترکہ جینیاتی خصوصیات نہ صرف جسمانی خصوصیات پر بلکہ عام عادات اور رویوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔‘ 

ایسٹیلر کہتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کا اطلاق بائیو میڈیسن کے شعبے میں کرنا چاہتے ہیں۔ 

’ہم نے ایسے جینز اور ان کی تبدیل شدہ صورتوں کی نشاندہی کی ہے جو چہرے کے خدوخال متعین کرنے میں اہم ہے، یعنی ناک، منھ، پیشانی اور کان وغیرہ، چنانچہ یہ چیز بیماریوں کے علاج میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔‘ 

’چہرے سے ہم کسی شخص کا جینوم جزوی طور پر پڑھ سکتے ہیں اور یہ جینیاتی بیماریوں کی ابتدائی سکریننگ میں کارآمد ہو سکتا ہے۔‘

مقصد یہ ہو گا کہ مذکورہ فرد کو کسی ایسی جینیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کیا جا سکے جو اسے کسی مخصوص جینیاتی بیماری کا شکار بنا سکتی ہے۔ 

مزید کام کی ضرورت 

محققین یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مطالعہ چھوٹے پیمانے پر کیا گیا ہے مگر ان کا ماننا ہے کہ یہ درست بنیاد پر قائم ہے۔ چنانچہ اُنھیں اعتماد ہے کہ ان کے نتائج کسی بڑے گروہ پر یہ تحقیق دہرانے سے تبدیل نہیں ہوں گے۔ 

اپنے بیان میں ایسٹیلر نے کہا کہ ’چونکہ اب انسانی آبادی 7.9 ارب تک پہنچ گئی ہے اس لیے اس بات کا کافی امکان ہے کہ جینیاتی یکسانیت میں اضافہ ہو گا۔‘ 

’کسی بڑے گروہ کا تجزیہ کرنے سے ایسی مزید جینیاتی خصوصیات سامنے آئیں گی جو کسی بھی دو افراد میں ایک جیسی ہوں گی اور اس سے ہم ہمارے چہرے کے خدوخال کا تعین کرنے والے دوسرے حیاتیاتی ڈیٹا کو سمجھ سکیں گے۔‘ 

تو کیا اس بات کا امکان ہے کہ ہمارا کوئی ڈبل ہو گا؟ 

ایسٹیلر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص 100 فیصد ہمارے جیسا ہو مگر ہو سکتا ہے کہ 75 یا 80 فیصد تک ہمارے جیسا نظر آنے والا شخص اس دنیا میں موجود ہو کیونکہ پہلے ہی دنیا میں اتنے لوگ ہیں۔‘ 

چونکہ بہت بڑی تعداد میں یکساں جینز موجود ہیں اور دنیا میں اربوں لوگ ہیں اس لیے ہمارے جیسا دکھنے والے شخص کی موجودگی کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ 

برونیل ایک طویل عرصے سے ایک جیسے نظر آنے والے اجنبی لوگوں کی تصاویر لے رہے ہیں مگر ان کی حیرانی کم نہیں ہوتی۔ 

’مجھے لگتا ہے کہ ہر جگہ لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں، اگر آپ تھوڑی بھی گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ واضح نظر آتا ہے۔‘ 

’ہم ایک ہی نوع ہیں، باہر سے جیسے بھی نظر آتے ہوں۔‘