آنکھوں میں آنسو اور کانپتی آواز: ناروے میں شہزادی کے بیٹے کے خلاف ریپ کے مقدمے میں دوران سماعت کیا ہوا؟

عدالت، خاکہ

،تصویر کا ذریعہNTB/Ane Hem via REUTERS

،تصویر کا کیپشنماریئس بورگ ہوئیبی کی کسی بھی تصویر پر پابندی ہے، چاہے وہ عدالت کی عمارت کے اندر ہو یا مقدمے کے لیے آتے ہوئے راستے میں
    • مصنف, پال کربی
    • عہدہ, ڈیجیٹل ایڈیٹر، اوسلو
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

ناروے کی شہزادی کے بیٹے نے اپنے خلاف ریپ اور 30 سے زائد دیگر مبینہ جرائم کے مقدمے کی سماعت میں دوسرے دن اوسلو کی عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی شخصیت کی پہچان کے لیے زندگی میں زیادہ تر پارٹی کرتے رہے۔

29 سالہ ماریئس بورگ ہوئیبی اس موقعے پر جذبات سے مغلوب نظر آ رہے تھے، ان کی آواز کانپ رہی تھی جب وہ کئی بار رکے تاکہ اپنی عینک اتاریں اور اپنی آنکھیں صاف کریں۔

آنسو روکتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بات کرنا بہت مشکل ہے اور یہ شکایت بھی کی کہ تین سال کی عمر سے پریس ان کا پیچھا کر رہا ہے۔

انھوں نے ریپ کے چار الزامات اور دیگر سنگین الزامات کی تردید کی۔

ان کا بیان پہلی خاتون کی جانب سے ان کے خلاف ریپ کے الزام کے بعد لیا گیا جنھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں 100 فیصد یقین ہے کہ انھیں دسمبر 2018 میں ماریئس بورگ ہوئیبی کے والدین کے گھر کے تہہ خانے میں ایک ’آفٹر پارٹی‘ کے دوران نشہ آور دوا دی گئی تھی۔

خاتون نے کہا کہ انھیں شدید دھوکے اور صدمے کی کیفیت کا احساس ہوا جب کئی سال بعد پولیس نے انھیں ویڈیوز دکھائیں جن میں مبینہ طور پر ان کے ساتھ جنسی استحصال کیا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے وہ رضامندی سے مختصر جنسی تعلق قائم کر چکی تھیں۔

وہ پہلے ہی اپنی یادداشت کے ایک تاریک حصے کا ذکر کر چکی تھیں اور بند دروازوں کے پیچھے عدالت کو بتا چکی تھیں کہ انھیں اس واقعے سے متعلق کچھ یاد نہیں۔

عدالت نے میڈیا کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسی کوئی معلومات نہ دیں جو ان چار خواتین میں سے کسی کی شناخت کر سکیں۔

ماریئس بورگ ہوئیبی کی کسی بھی تصویر پر بھی پابندی ہے، چاہے وہ عدالت کی عمارت کے اندر ہو یا مقدمے کے لیے آتے ہوئے راستے میں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

29 سالہ ملزم، جو اپنی والدہ کی ناروے کے ولی عہد ہاکون سے شادی کے چار سال پہلے پیدا ہوئے تھے، شاہی خاندان کے رکن یا عوامی شخصیت نہیں۔

منگل کو عدالت میں اپنی پہلی پیشی کے دوران انھیں کانپتے ہوئے دیکھا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد ان کا رات بھر ہسپتال میں علاج کروایا گیا۔

اتوار کے روز ہوئیبی کو چاقو چلانے اور حملہ کرنے کے شبہ میں گرفتار کر کے چار ہفتے کے لیے حراست میں لیا گیا۔

پیشی کے موقعے پر وہ عدالت میں آ کر بیٹھے تو کچھ دیر بعد وہ جذبات سے مغلوب نظر آئے۔

انھوں نے خود کو سنبھالا اور عدالت کو بتایا کہ انھوں نے بہت زیادہ سیکس، منشیات اور شراب کا استعمال کیا کیونکہ انھیں اپنی ذات کی پہچان کی شدید ضرورت تھی۔

انھوں نے تینوں ججز کو بتایا کہ ’مجھے ماما کا بیٹا سمجھا جاتا ہے اور کچھ نہیں۔‘

’بہت کم لوگ اس زندگی کو سمجھ سکتے ہیں جو میں نے گزاری۔ بہت سی پارٹیاں، شراب، کچھ منشیات۔‘

ان کا مقدمہ ان کی والدہ کے لیے مزید پریشانی کا باعث ہے جو پہلے ہی امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ سینکڑوں پیغامات کے تبادلے کے باعث مشکل میں ہیں۔

شاہی محل نے بدھ کے روز کہا کہ شہزادی میٹے ماریٹ نے نجی دورے کو ملتوی کر دیا ہے لیکن مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

انھوں نے اس خط و کتابت پر افسوس کا اظہار کیا تاہم ان پیغامات کے بے ساختہ اور گرم جوش لہجے پر ہونے والی تنقید نے شاہی خاندان پر دباؤ بڑھا دیا۔

LISE ASERUD/NTB/AFP

،تصویر کا ذریعہLISE ASERUD/NTB/AFP

ماریئس بورگ ہوئیبی کو اگست 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب مغربی اوسلو کے فروگنر نامی علاقے میں ان کی گرل فرینڈ کے فلیٹ میں ایک پرتشدد واقعہ پیش آیا۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک فانوس گرا دیا، آئینہ توڑ دیا اور خاتون کو گالیاں دیں۔

اس وقت انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ برسوں سے ذہنی مسائل کا شکار رہے ہیں اور انھوں نے نشے کے استعمال کا بھی اعتراف کیا۔

طویل پولیس تحقیقات کے بعد ان پر متعدد الزامات عائد کیے گئے، جن میں ریپ، حملہ، گرل فرینڈ کو دھمکانا اور اس کے فلیٹ کو نقصان پہنچانا، منشیات کے الزامات شامل ہیں۔

اگر انھیں مجرم قرار دیا گیا تو انھیں کم از کم 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ان پر دسمبر 2018 سے نومبر 2024 کے درمیان چار خواتین کے ساتھ ریپ کا الزام ہے، جو سب رضامندی سے جنسی تعلق قائم ہونے کے بعد ہوئے۔ جب متاثرہ خواتین یا تو سو رہی تھیں یا معذور تھیں۔

ان میں سے ایک الزام مکمل ریپ کا ہے اور باقی تین جنسی حملے کے ہیں، جسے ناروے میں ریپ ہی سمجھا جاتا ہے۔

سماعت کے دوران اگرچہ ہوئیبی کے پاس لکھے ہوئے بیان تھے لیکن انھوں نے کم ہی ان کی طرف دیکھا۔ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ لگاتار بولتے رہے۔

ہوئیبی نے بائیں طرف بیٹھی ان دو خواتین کی جانب نہیں دیکھا جنھوں نے ان پر ریپ کے الزام عائد کیے۔

وہ خاتون جس نے پہلے گواہی دی تھی، زیادہ دیر عدالت میں نہیں رکیں۔

ملزم نے بتایا کہ وہ سنہ 2018 میں ایک پارٹی میں ان سے ملے تھے اور پہلی بار کوکین لی تھی۔

Rune Hellestad/Getty Images

،تصویر کا ذریعہRune Hellestad/Getty Images

جب انھوں نے اپنا بیان مکمل کیا تو پراسیکیوٹر سٹورلا ہینرکسبو نے ان سے سنہ 2018 میں ہونے والے پہلے مبینہ ریپ کے بارے میں پوچھا۔

ملزم نے پہلے دیے گئے بیان کی تردید کی اور کہا کہ انھیں یاد نہیں کہ انھوں نے ویڈیوز بنائی ہوں اور انکار کیا کہ انھوں نے چند سیکنڈ کے لیے تہہ خانے کے ٹوائلٹ میں مختصر رضامندی سے جنسی تعلق قائم کیا تھا۔

اس کے بجائے انھوں نے کہا کہ جب پارٹی کے دوسرے لوگ سونے جا چکے تھے تو انھوں نے مذکورہ خاتون کے ساتھ ان کی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کیا۔

جب پراسیکیوٹر نے پوچھا کہ کیا وہ سیکس کے وقت جاگ رہی تھیں، تو انھوں نے سختی سے کہا کہ ’میں ایسی خواتین کے ساتھ نہیں سوتا جو جاگ نہیں رہیں۔‘

29 سالہ ملزم نے بغیر اجازت جنسی طور پر توہین آمیز رویے کے چھ الزامات میں سے ایک کے علاوہ تمام الزامات کی تردید کی، جن میں گرافک ویڈیوز بنانا بھی شامل ہے۔

اپنے بیان میں انھوں نے اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنے خاندانی گھر کے تہہ خانے میں ایک عورت کی پانچ منٹ کی ویڈیو فلمائی حالانکہ انھیں یاد نہیں کہ انھوں نے ایسا کیا تھا۔

جب پراسیکیوٹر نے پوچھا کہ انھیں کیسے یقین ہے کہ وہ ویڈیو میں جاگ رہی ہیں تو وہ مایوس نظر آئے اور کہا کہ انھوں نےل اکھوں بار کہا ہے کہ انھیں واقعات کا یہ سلسلہ یاد نہیں۔

خاتون کی وکیل ہائیڈی ریسوانگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی موکلہ کے لیے دو دن تک گواہی دینا انتہائی مشکل رہا اور وہ مطمئن تھیں کہ یہ معاملہ ختم ہو گیا۔

’ان کے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ (ریپ کے وقت) مزاحمت یا رضامندی دینے کے قابل نہیں تھیں۔‘

ہوئیبی نے ناروے کے پریس پر بھی تنقید کی، ان پر حقائق کو توڑ کر پیش کرنے کا الزام لگایا اور اس کہانی کو مسترد کیا کہ ان کی والدہ نے اگست 2024 میں گرفتاری کے وقت ان کا فون پولیس کو حوالے کرنے سے پہلے اس میں سے سم کارڈ نکال لیا تھا۔