آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شاہ چارلس کے اعزاز میں 14 کروڑ کے ’لابسٹر ڈنر‘ پر فرانسیسسی ایوانِ صدر کو تنقید کا سامنا
- مصنف, ایلکس سمتھ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
فرانس کے آڈٹ آفس کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے اعزاز میں دیے جانے والے شاندار لوبسٹر ڈنر پر فرانسیسی صدر کے دفتر کو چار لاکھ 75 ہزار یوروز ادا کرنے پڑے۔
اگر پاکستانی روپے میں دیکھا جائے تو اس عشائیے پر آنے والی لاگت 14 کروڑ روپے سے زیادہ کی تھی۔
صدر ایمانوئل میکخواں نے ستمبر میں بادشاہ کے دورے کے لیے تمام حدبندیوں کو ختم کر دیا تھا اور مہمانوں کی تواضع کے لیے بلیو لوبسٹر، کیکڑے اور انواع و اقسام کے پنیر پیش کیے گئے تھے۔
لیکن صدارتی اخراجات کی اپنی سالانہ رپورٹ میں فرانس کی سپریم آڈٹ کور دی کامتے نے خبردار کیا کہ ریاستی استقبالیہ پر زیادہ اخراجات نے ان کے بجٹ کو 83 لاکھ یورو خسارے میں پہنچا دیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ایوان صدرکو اب یہ ’کوشش کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ مالی توازن کو بحال اور برقرار رکھے۔‘
برطانوی بادشاہ کے عشائیے پر خرچ ہونے والی رقم میں سے 165,000 یورو سے زیادہ کیٹرنگ پر جبکہ 40,000 یورو مشروبات پر خرچ ہوئے۔
معروف شخصیات سے سجی ضیافت میں شامل مہمانوں میں اداکار ہیو گرانٹ، فٹ بال مینیجر آرسین وینگر اور مک جیگر اہم تھے۔ ان سب کو عشائیے میں بلیو لوبسٹر (جھینگے کی سب سے بڑی قسم) اور کیکڑوں سے بنے پکوان پیش کیے گئے اور اس کے بعد انھیں بریس پولٹری اور مشروم گریٹن پیش کیے گئے۔
انھیں مختلف اقسام کے پنیر پر مبنی پکوان بھی پیش کیا گیا جس میں فرانسیسی کامٹے اور برٹش سٹیشلٹن بلیو شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میٹھے میں مہمانوں کو روز میکرون کوکیز پیش کی گئی جو کہ گلاب کی پنکھڑیوں کی کریم، رس بھری اور لیچیوں سے تیار کی گئی تھی۔
ورسائی کے محل میں یہ شاندار ضیافت برطانیہ کے بادشاہ چارلس کے فرانس کے تین روزہ سرکاری دورے کا حصہ تھی جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان قائم اہم اتحاد کو تقویت دینا تھا۔
یہ دورہ اصل میں مارچ کے مہینے میں ہونا طے تھا لیکن اسے فرانس کے اہم شہروں میں پنشن کی اصلاحات پر ہونے والے بڑے پیمانے کے مظاہروں کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں صرف شاہ چارلس کے دورے پر آنے والے اخراجات کا ذکر نہیں تھا بلکہ اس سے قبل جولائی سنہ 2023 میں لاورے میں انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے سجائی جانے والی ایک ضیافت کا ذکر بھی تھا جس پر صدارتی دفتر نے چار لاکھ 12 ہزار یورو کا خرچہ کیا تھا۔
آڈٹ آفس نے کہا کہ مذکورہ ریاستی استقبالیوں کی وجہ سے ایوان صدر کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ تمام اخراجات میں پچھلے سال کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ہے۔
اس کے مقابلے میں صدارت کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی میں صرف 6.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔