آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جرمنی کی بدتمیزی کی حد تک دو ٹوک بولی ’برلنر شناؤز‘ جو سننے والے کو متنفر کر سکتی ہے
- مصنف, مائک میک ایکران
- عہدہ, بی بی سی ٹراویل
یہ اُس وقت کی بات ہے جب کورونا کی وبا اپنے عروج پر تھی۔ برلن میں واقع میرے اپارٹمنٹ کی بلڈنگ کے واٹس ایپ گروپ میں ایک پیغام آیا۔ یہ ہمارے پڑوسی کی ایک ویڈیو تھی، جس میں وہ اپنے پیروں کی فلم بندی کر رہے تھے۔ اپنے پاؤں میں انھوں نے کالی جرابیں اور ایڈیڈاس کمپنی کے چپل پہن رکھے تھے۔ اس ویڈیو میں وہ اپنی پیروں کی مدد سے چند گتے کے ڈبوں کو زور زور سے ٹھوکریں مار رہے تھے۔
اپنی اس ویڈیو پر انھوں نے جرمن زبان میں یہ تحریر لکھ رکھی تھی ’پانچ سیکنڈ میں ڈبے کا کچومر۔‘ اور اس کے ساتھ ایک بوسے والے ایموجی پوسٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’اگر میں یہ کر سکتا ہوں تو آپ بھی کر سکتے ہیں۔‘
برلن کے باشندے عام طور پر سرد مزاج، منھ پھٹ اور دو ٹوک ہونے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ اور اس طرز عمل کو ڈھٹائی سے ’برلنر شناؤز‘ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ’برلن کے زبان دراز‘ یا ’نک چڑھے‘ لیا جا سکتا ہے۔
برلن والوں کے اس رویے ’برلنر شناؤز‘ کا عمومی شکار اس شہر میں موجود باہر سے آنے والے یا راہگیر بنتے ہیں، اس وقت جب انھیں کسی ایسی چیز کے بارے میں بتایا جاتا ہے جس کا انھیں احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ غلط کر رہے ہیں۔
یہ آپ کو اچانک اس وقت محسوس ہو سکتا ہے جب آپ میٹرو پر سوار ہونے کی کوشش کر رہے ہوتے کہ اچانک آواز آتی ہے ’پہلے میٹرو سے باہر آنے والے نکلیں پھر، پھر سوار ہونے والے۔‘
بہرحال معاملہ کچھ بھی ہو، آپ کو ’برلنر شناؤز‘ نامی اس رویے کا بغیر کسی انتباہ کے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ایمانداری کی مبنی ایسی سفاکانہ حالت ہے جس کا سامنا آپ نہیں کرنا چاہیں گے۔
اصل میں برلنر شناؤز جرمن زبان کی ایک بولی محض ہے جو برلن میں اور اس کے آس پاس بولی جاتی ہے۔ حقیقت میں، یہ مزدور طبقے کے رویے اور فرانسیسی اور یدش کے اثرات کے ساتھ ضم ہونے والی ایک بولی ہے جو اتنی ہی منقسم ہے جتنی کہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
ڈاکٹر پیٹر روزنبرگ مغربی برلن میں پیدا ہونے والے ماہرِ لسانیات ہیں جن کی برلنر شناؤز سے واقفیت برسوں کے مطالعے اور زندگی کے تجربے پر مبنی ہے۔ وہ اسے ’schlagfertig‘ یا ترکی بہ ترکی عقلی لسانی کھیل کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ برلن کی بول چال کی زبان ہے جس میں کسی تبصرے کے پیچھے کی چنگاری یا کسی صورتحال پر آپ کا ردعمل نظر آتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یقینی طور پر، تلفظ، گرائمر اور نحو میں برلنر شناؤز اور ہوچڈیوچ، یا ہائی جرمن (ملک بھر میں بولی جانے والی معیاری جرمن) کے درمیان فرق ہے۔ مثال کے طور پر برلنر شناؤز ’جے‘ کی آواز کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ہائی جرمن میں ’جی‘ کی آواز کا استعمال ہوتا ہے۔
جب بات برلنر شناؤز کی ہو تو لوگ گرائمر اور نحو کے بارے میں زیادہ خیال نہیں کرتے۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو مکمل طور پر کسی نہ کسی صورتحال کے ردعمل پر مبنی ہوتا ہے۔
روزنبرگ کہتے ہیں کہ ’ایک طرح سے برلنر شناؤز سے مراد کسی صورتحال میں پوشیدہ مزاحیہ پہلو سے فائدہ اٹھانا ہے، اور بسا اوقات مخاطب کی عزت کی قیمت پر۔ اور ایسی ہی صورتحال میں باہر کے لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے۔'
ثقافتی کنفیوژن کے باوجود برلنر شناؤز صدیوں سے غیر ملکیوں اور اقلیتی ثقافتوں سے متاثر رہا ہے۔
روزن برگ کے مطابق برلنر شناؤز کو دیگر جرمن بولیوں جیسے نیڈرڈیوچ، یا لو جرمن کے ساتھ ساتھ زبان کی ایک قدیم شکل کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پر کی جانے والی تنقیدیں مختلف اقسام کی تھیں اور ناقدین نے اس کے پس پشت مبینہ طور پر برلن کے باشندوں کی بدمزاجی کو لیا۔
دیوار برلن کے دور میں، برلنر شناؤز کمیونسٹ مشرقی برلن میں زیادہ عام تھی جسے مغربی برلن کے معاشرے کے اعلی طبقے میں بہت سے لوگ نچلے طبقے کی زبان کے طور پر دیکھتے ہیں۔
لیکن برلنر شناؤز تنہائی کی پیداوار نہیں۔ روزنبرگ نے متعدد ثقافتی اور لسانی اثرات کا ذکر کیا ہے جنھوں نے اس بولی پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ مثلاً تاریخی طور پر بڑی یہودی برادری کی بدولت برلنر شناؤز میں یدش کی اچھی خاصی نمائندگی نظر آتی ہے۔
اس کے علاوہ اس میں 19ویں صدی کے اوائل میں نپولین کے برلن پر قبضے کے وقت سے فرانسیسی اثر و رسوخ کے آثار بھی نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ہم وہاں بیمار کے لیے بلومیرانٹ یا پھر دراز والی الماری کے لیے کومود اور ٹوائلٹ یا کسٹیوم جیسے لفظ دیکھتے ہیں جو فرانسیسی اثرات کا نتیجہ ہیں۔ اس میں انگریزی زبان کا بھی حصہ ہے جو کہ اس شہر کی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔
روزنبرگ کا کہنا ہے کہ بولی کی لسانی تکثیریت کے باوجود اسے ہمیشہ باہر کے لوگوں کے ذریعے پذیرائی نہیں ملی۔ جوہان وولف گینگ وون گوئٹے کو وسیع پیمانے پر جرمن زبان کے سب سے زیادہ بااثر مصنف کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ برلن کے باشندے ’انسانوں کی ایک بہادر نسل‘ ہیں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’آپ کو اپنے دانتوں پر بال جمانے پڑتے ہیں اور بعض اوقات اپنے سر کو پانی کے اوپر رکھنے کے لیے تھوڑا سا خراب ہونا پڑتا ہے۔‘
بات چیت کے مختلف انداز اور رسم و رواج کے ساتھ ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے ٹوئٹر کے صارفین کے ایک غیر رسمی سروے میں اس بات پر متفق ہیں کہ برلنر شناؤز کو حد سے زیادہ جارحانہ یا بدتمیزی کے طور پر غلط سمجھا جاتا ہے۔ بہر حال، برلن کے باشندے شناؤز کی بدنامی سے بخوبی واقف ہیں۔
الیسیندرا موریس شہر میں پلی بڑھی ہیں۔ ان کے مطابق برلنر شناؤز ایک بولی بھی ہے اور ایک رویہ بھی۔ انھوں نے کہا: ’اس کا مطلب پریشان کن طور پر براہ راست اور بے رحمانہ طور پر ایماندار اور آزاد ہونا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم ایسی باتیں کہتے ہیں جس میں ہمارا مطلب واضح ہوتا ہے لیکن یہ کچھ لوگوں کے لیے ناگوار ہو سکتا ہے یا بدتمیزی کہی جا سکتی ہے، لیکن 10 میں سے نو بار ہماری نیت اچھی ہوتی ہے۔‘
سیجلنڈے توشی سنہ 1987 میں برلن رہنے آ گئیں۔ لیکن اصل میں ان کا تعلق جنوبی وسطی جرمنی کے ایک علاقے فرینکونیا سے ہے جو باویریا کی ریاست میں واقع ہے۔ موریس کی طرح وہ برلنر شناؤز کو ایک بولی اور زندگی کے تئیں ایک رویے کے طور پر دیکھتی ہیں جو کہ برلن کے باشندوں کا خاصہ ہے۔ یہ براہ راست، تلخ، گستاخانہ اور مضحکہ خیز ہے، جسے روزنبرگ کے الفاظ میں چہرے پر تڑ سے پڑنے والے تھپڑ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
توشی کا کہنا ہے کہ ’آپ واقعی یہ بولی نہیں سیکھ سکتے، اگرچہ آپ یہاں کئی دہائیوں سے کیوں نہ رہ رہے ہیں۔ ایک چیز یقینی ہے کہ برلنر شناؤز کے ساتھ، آپ غیر برلن والوں کو ایک فاصلے پر رکھتے ہیں۔‘
پہلے پہل تو ان کے لیے برلنر شناؤز کا سخت لہجہ ’خوفناک‘ اور اسے انھوں نے ایک ’حقیقی ثقافتی جھٹکے‘ سے تعبیر کیا۔ ایک بار برلن کے محلے شونبرگ کے ایک پوسٹ آفس میں، توشی ایک پیکج لینے کے لیے ایک لمبی لائن میں انتظار کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پوسٹ آفس کے کارکن اپنا وقت بہت پیار سے گزار رہے تھے، اور ایک کاؤنٹر سے دوسرے کاؤنٹر تک کافی کی پیالی پر ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ کر رہے تھے۔
اسی وقت ایک ناراض بوڑھی عورت نے پیچھے سے چیخ کر کہا ’ترجمہ: یہاں کیا ہو رہا ہے؟ کیا مجھے اپنے جنازے کے آنے تک انتظار کرنا پڑے گا؟‘
فرانسسکا کوہلرز کولوراڈو میں پروان چڑھیں اور سنہ 2007 سے برلن میں رہ ہی ہیں۔ اسے سے قبل وہ ایکرا اور ڈبلن میں رہ چکی ہیں۔ برلنر شناؤز کے بارے میں ان کے اور بھی تلخ خیالات ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وہ کہتی ہیں: ’آپ جانتے ہیں کہ کبھی کبھار آپ کسی اجنبی کے بارے میں کبھی کبھی آپ یوں ہی دھیمے سے جارحانہ تبصرہ کر دیتے ہیں؟ لیکن شناؤزے میں آپ بڑبڑانے کے بجائے اسے اتنی اونچی آواز میں کہتے ہیں کہ جس شخص کے بارے میں آپ تبصرہ کر رہے ہیں وہ اسے سنتا ہے۔ اور یہ سب دانستہ طور پر ہوتا ہے۔‘
بہر حال ہر کسی کی برلنر شناؤز کی کہانی بدتمیزی سے کیے جانے والے تبصرے کی کہانی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر روزن برگ کے پاس برلنر شناؤز کی دلکش یادیں ہیں جن میں اس زمانے کی یادیں بھی ہیں جب وہ کمپنی کی فٹ بال ٹیم میں تھیں۔
ان کی ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑی ہاتھ سے کام کرنے والے یعنی دستی مزدور تھے، اور روزنبرگ ٹیم میں واحد اکیڈمک تھے۔ ان کے ساتھی اکثر ان سے پوچھتے کہ انھوں نے اکیڈمک کے طور پر کیا کیا اور اس سوال کے ساتھ بات ختم کرتے کہ ’کیا کل پھر آپ کو وہاں جانا ہو گا؟‘
روزنبرگ نے وضاحت کی کہ سوال کی یہ تشکیل یہ کہنے کا ایک برلنر شناؤز طریقہ تھا ’آپ جو کر رہے ہیں وہ مکمل طور پر سطحی (چھوٹا یا کم مایہ) ہے۔‘
روزنبرگ مسکرا کر کہتے ہیں کہ ’یہ واقعی اچھی طرح سے پیک کیا گیا‘ جملہ تھا۔ ’کسی نے یہ نہیں کہا، ’کسی کو لسانیات کی ضرورت نہیں ہے‘ یا ’دانشور عجیب لوگ ہیں‘۔ انھوں نے صرف اچھے طریقے سے پوچھا ’کیا آپ کو کل پھر وہاں واپس جانا ہوگا؟‘ اور بول چال کا یہ اُن کا عام انداز ہے۔‘
برلنر شناؤز کی مقبولیت (یا بدنامی) کے باوجود روزنبرگ کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال میں معمولی کمی آئی ہے۔ یہ بولیوں اور علاقائی زبانوں میں آنے والے زوال کے عمومی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم برلن میں، اس کے زوال میں نہ صرف برلن میں بین الاقوامی ثقافتوں کی آمیزش سے بلکہ ملک بھر سے دارالحکومت میں منتقل ہونے والے جرمنوں کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔
توشی نے بھی اس رجحان کو محسوس کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اب انھیں شاذ و نادر ہی برلنر شناؤز سننے کو ملتی ہے۔ اگر وہ انھیں کہیں یہ سننے کو ملتی بھی ہے تو یہ عام طور پر بس ڈرائیور، کاریگر یا بیکری میں کام کرنے والے کی زبان سے سننے کو ملتی ہے۔ روزنبرگ کی طرح ان کا بھی یہ خیال ہے کہ اس میں زوال برلن سے باہر کے رہائشیوں میں اضافہ کی وجہ سے ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ زبان کے اختلاط سے ہوتا ہے۔ اور اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا لیکن یہ ختم نہیں ہوئی ہے۔‘
ایسا ہو رہا ہے کہ برلن کے باشندے ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جو زیادہ لوگوں کی سمجھ میں آئے۔ یعنی یہ کہ وہ علاقائی لہجے کے ساتھ ہائی جرمن کا استعمال کر رہے ہیں۔ بہرحال موریس جیسے برلن میں پلنے بڑھنے والے کہتے ہیں کہ اگر اس بولی میں خطاب کیا جائے تو وہ وقتاً فوقتاً ان کی زبان پر بھی برلنر شناؤز آ جاتی ہے۔
انھوں نے کہا: ’میں جانتی ہوں کہ برلنر شناؤز انتہائی بدتمیزی والے ہو سکتے ہیں، لیکن میں اس کے ساتھ آنے والی ایمانداری کی بہت قدر کرتی ہوں۔ یہ ایک شہر کے طور پر برلن کے کردار کے بڑے حصے کو بیان کرتی ہے، اور مجھے حقیقت میں یہ انداز زیادہ تر وقت پیارا لگتا ہے۔‘
یہ عین ممکن ہے کہ موریس جیسے جذبات رکھنے والے اس بولی کو زندہ رکھے ہوئے ہوں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ اسے کھو نہیں سکتے (کیونکہ) یہ آپ کی زبان کی شناخت سے تعلق رکھتا ہے۔‘