آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نیوزی لینڈ بمقابلہ پاکستان: ’ہم میچ ہار گئے لیکن افتخار نے ہمارے دل جیت لیے‘
پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے تیسرے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ نے پاکستان کو چار رنز سے ہرا دیا ہے۔
پاکستان کی پوری ٹیم 164 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 159رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
لاہور میں کھیلے گئے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 163 رنز بنا کر گرین شرٹس کو جیت کے لیے 164 رنز کا ہدف دیا تھا۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن ہوا جب دوسرے اوور میں ہی کپتان بابر اعظم صرف ایک رنز بنا کر ایڈم ملنے کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس کے ایک اوور بعد ہی محمد رضوان بھی صرف چھ رنز پر رن آؤٹ ہو گئے۔
پاکستان کے اوپنرز 17 رنز کے مجموعی سکور پر پویلین لوٹ چکے تھے۔
ان کے بعد آنے والے کھلاڑی صائم ایوب بھی دس رنز بنا کر نیشم کے گیند پر لیتھم کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ اس طرح ساتویں اوور میں 39 کے مجموعے پر پاکستان کی تین وکٹیں گر چکی تھی۔
نیوزی لینڈ کے بولرز نے پاکستانی اننگز کے آغاز میں ہی میں جلدی وکٹیں لے کر گرین شرٹس پر دباؤ بڑھائے رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فخر زمان بھی نویں اوور میں سپنر رویندرا کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں 17 رنز بنا کر سٹمپ ہو گئے۔ جبکہ ان کے بعد آنے والے عماد وسیم محض تین رنز بنا کر رویندرا کی گیند پر نیشھم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو کر چلتے بنے۔
پاکستان کی پانچ وکٹیں صرف 55 رنز پر گر گئی تھیں۔ اس کے بعد بھی کیویز بولرز نے پاکستان کے بیٹسمین پر دباؤ بڑھائے رکھا۔
بارھویں اوور کی آخری گیند پر شاہین آفریدی بھی سوڈھی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ انھوں نے صرف چھ رنز بنائے۔ اس وقت تک پاکستان 64 کے مجموعی سکور پر چھ وکٹیں گنوا بیٹھا تھا۔
اگلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی شاداب خان تھے جو 15ویں اوور کی پہلی گیند پر تیز کھیلنے کی کوشش میں ایڈم ملنے کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ پاکستان نے 88 کے ٹوٹل پر اپنی ساتویں وکٹ گنوائی۔
اس کے بعد افتخار احمد اور فہیم اشرف نے بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دیا اور جارحانہ کھیلتے ہوئے میچ کو سنسنی خیز مرحلے تک لے آئے۔
19ویں اوور میں فھیم اشرف 149 رنز کے مجموعے پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 14 گیندوں پر 27 رنز بنائے۔ انھیں ہنری نے اپنا شکار بنایا۔
پاکستان کو آخری اوور میں جیت کے لیے 15 رنز درکار تھے۔
پاکستان کی جانب سے سب سے نمایاں اننگز افتخار احمد نے کھیلی جنھوں نے میچ میں جان ڈالتے ہوئے صرف 20 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ انھوں نے چھ چھکوں کی مدد سے 24 گیندوں پر 60 رنز بنائے۔
وہ میچ کے آخری اوور میں اس وقت آؤٹ ہوئے جب پاکستان کو جیت کے لیے دو گیندوں پر پانچ رنز درکار تھے۔
ان کے بعد پاکستان کے آخری آنے والے کھلاڑی حارث رؤف نے آخری گیند پر چھکا لگانے کی کوشش کی لیکن وہ گیند کو باؤنڈری کے پار پھینکنے میں ناکام رہے۔ اور آخری گیند پر وکٹ گنوا بیٹھے۔
نیوزی لینڈ کی اننگز
نیوزی لینڈ کی جانب سے کپتان ٹام لیتھم نے 64 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ ان کے علاوہ ڈیری مچل 33 اور 17 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
نیوزی لینڈ کی جانب سے اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور کیویز کے اوپنر چیڈ بوز سات رنز بنا کر بولڈ ہو گئے۔
دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ول ینگ تھے جو 17 رنز بنا کر شاداب خان کی گیند پر وکٹ گنوا بیٹھے۔
پاکستان کی جانب سے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جب کہ ایک وکٹ لیگ سپنر شاداب خان نے حاصل کی۔
پاکستان کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، زمان خان کی جگہ نسیم شاہ کو سکواڈ میں شامل کیا گیا جبکہ کیویز سکواڈ میں دو تبدیلیاں کی گئیں، ایڈم ملنے اور ایش سودھی کی واپسی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی تیسرے ٹی20 میچ میں جیت کے بعد پاکستان کو سیریز میں 1-2 کی برتری حاصل ہے۔
سوشل میڈیا پر افتخار کے چرچے
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام ہونے کے بعد جب افتخار احمد نے میچ کے آخری پانچ اوورز میں جارحانہ کھیل پیش کیا تو پاکستانی کرکٹ شائقین کو جیت کی امید ہونے لگی۔
افتخار احمد نے تیز کھیلتے ہوئے کیویز بولرز کی لائن و لینتھ کو خراب کر کے رکھ دیا اور صرف 20 گیندوں پر اپنی نصف سینچری مکمل کی۔ اس وقت میچ کے دوران سٹیڈیم میں شائقین ان کے نام کے نعرے لگاتے سنائی دیے۔
بلاشبہ اگر آج کے میچ میں پاکستانی بیٹنگ کی بات کی جائے تو افتخار احمد کی اننگز بہترین تھی، وہ مشکلات حالات سے نکال کر ٹیم کو فتح کے بہت قریب لانے میں کامیاب رہے۔
کرکٹر اعظم خان نے افتخار احمد کی آج کی اننگز پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’میں نے آج ٹی ٹوئنٹی کی شاندار اننگز میں سے ایک دیکھی ہے، ہم سب کو دکھ ہے کہ وہ کھیل ختم نہیں کر سکے لیکن میں افتخار بھائی کی کارکردگی پر ان کے لیے خوش ہوں۔‘
ایوناش نامی صارف نے لکھا کہ ’اگرچہ بہت قریب اور بہت دور کا کھیل جاری رہا لیکن افتخار احمد اور فھیم اشرف نے اچھا کھیل پیش کیا اور پاکستانی شائقین کو اپنی ٹیم پر فخر ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان فائٹ (لڑ) کر ہارا ہے۔‘
ایک اور صارف نے آج کے میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک منٹ میں نیچے اور اگلے منٹ میں اوپر، پاکستان کی کرکٹ کا بہترین مظاہرہ ہے۔‘
جبکہ میاں عمر نامی صارف نے افتخار کی بیٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم میچ ہار گئے لیکن افتخار نے ہمارے دل جیت لیے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’مصباح نے ہمیشہ افتخار کو کھلانے کی بات کی اور آج ہمیں ان سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ انھوں نے افتخار میں وہ ہنر دیکھا جس سے ہم ناواقف تھے۔‘
نمرہ پٹیل نامی صارف نے افتخار احمد کی جارحانہ بلے بازی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’افتخار احمد کی جانب سے ناقابل یقین بیٹنگ۔‘
جبکہ حمزہ میر نامی صارف نے افتخار کی بیٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں اب کوئی ابہام نہیں کہ افتخار کو ورلڈکپ میں ون ڈے ٹیم میں ہونا چاہیے۔‘