آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: وبا ’نقد رقم کے استعمال میں کمی کو اور تیز کر دے گی‘
- مصنف, کیون پیچی
- عہدہ, بی بی سی کے پرسنل فائنانس کے نامہ نگار
ماہرین کا کہنا ہے کورونا وائرس کی عالمی وبا دنیا میں نوٹوں کے استعمال میں کمی کے عمل کو اور تیز کر دے گی کیونکہ لوگ اب زیادہ سے زیادہ ادائیگیوں کے لیے ’ڈیجیٹل‘ طریقے اپنا رہے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے دوران کیش مشینوں سے رقم نکلوانے میں ساٹھ فیصد کی کمی آئی ہے گو کہ لوگ اب بڑی رقوم نکلوا رہے ہیں۔
کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں آن لائن خریداری اور خاص طور پر روز مرہ کی اشیاء کی خریدای شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے اس سے قبل کے برطانیہ اس نئی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو کاغذی نوٹوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔
ماہرین نے کہا کہ اس صورت حال میں ملک کی 20 فیصد آبادی جس کا دار و مدار نقد لین دین پر ہے وہ پیچھے رہ جائے گی۔
برطانیہ میں کیش مشینوں کے نیٹ ورک کی نگرانی کرنے والے ادارے لنکس کے مطابق ہر ہفتے ایک کروڑ دس لاکھ لوگ اب بھی کیش مشنیوں سے نقد رقوم نکلوا رہے ہیں جن کی مالیت ایک ارب پاونڈ کے قریب بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے باوجود کہ ملک بھر میں ہوٹل، ریستوران، کیفے، بار، کلب اور بہت سی دکانوں کے بند ہونے کی وجہ سے نوٹوں کی مانگ عمومی طور پر کم ہوئی ہے۔
لوگ گھروں سے باہر کم جا رہے ہیں اور نقد جمع کر رہے ہیں۔
اے ٹی ایم مشینوں سے کیش نکلوانے کی اوسط میں اضافہ ہوا ہے گزشتہ سال یہ اوسط 65 پاؤنڈ تھی جو اب 82 پاونڈ ہو گئی ہے۔
’نقد رقم ہو تو کام چند سیکنڈ میں ہو جاتا ہے‘
ایک صدی قبل قائم ہونے والے سٹور ویب آئرن مونگری نے مقامی لوگوں کو کئی بحرانی ادوار سے گزرتے دیکھا ہے۔
ان ہنگامی حالات میں کینٹ کاؤنٹی کے علاقے ٹینٹرڈین میں ہارڈ ویئر کی دکان نے باغبانی، گھروں کی مرمت اور رنگ وغیرہ کا ساز و سامان لوگوں کو فراہم کرنے کے لیے اپنے سٹور کے دروازے پر ایک کاؤنٹر لگا دیا ہے۔
ان دنوں جب سماجی فاصلوں کی پابندی برقرار ہے گاہکوں کی سہولت کے لیے تاکہ انہیں خریداری کے لیے زیادہ دیر تک انتظار نہ کرنا پڑے سٹور میں لکھ کر لگا دیا گیا ہے کہ وہ نقد رقوم بھی وصول کر رہے ہیں۔
دکان کی ملکیت میں شراکت دار نائجل ویب نے کہا کہ وہ گاہکوں کو جتنی سہولت فراہم کر سکتے ہیں کر رہے ہیں تاکہ وہ جلد از جلد اپنی خریداری مکمل کر کے واپس اپنے گھروں کو جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ بینک کارڈوں سے بھی ادائیگیاں وصول کر رہے ہیں جس کے لیے گاہکوں کو مشین دستیاب ہونے کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن اگر نقد رقم ہو تو کام چند سیکنڈ میں ہو جاتا ہے۔
نقد رقم کا استعمال کم ہو رہا ہے
کھاتہ داروں کے ایک سروے کے بعد لِکنس کا کہنا ہے کہ 75 فیصد لوگ اب نوٹوں کا استعمال کم کر رہے ہیں اور 54 سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ نوٹوں کے استعمال سے گریز کر رہے ہیں۔
کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں اس طرح کی اطلاعات بھی گردش کر رہی تھیں کہ یہ وائرس نوٹوں اور سکوں کے ذریعے پھیل رہا ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور عالمی ادارۂ صحت نے یہ وضاحت جاری کی تھی کہ نوٹوں اور سکوں کے ذریعے بھی کرورنا وائرس پھیلنے کا اتنا ہی خطرہ ہے جتنا کسی اور چیز سے ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے لوگوں کو ہاتھ دھونے کا مشورہ دیا تھا۔
سروے میں جن لوگوں سے بات کی گئی ان میں سے 76 فیصد کا یہ ہی کہنا تھا کہ وہ آئندہ چھ ماہ میں نوٹوں کا استعمال کم کریں گے اور وہ ادائیگیوں کے دوسرے طریقے اپنائیں گے یا آن لائن خریداری کریں گے۔
کیش تک رسائی پر ایک رپورٹ کی مصنفہ نیٹلی سینی کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں 30 فیصد لوگ نقد رقوم استعمال کرنا پسند کرتے ہیں لیکن اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ دوسرے طریقے استعمال کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ عادت بن جائے گی جو مستقبل میں ان کے ساتھ رہے گی۔
ملک کے 50 فیصد لوگوں نے پہلے ہی بڑی حد تک نوٹوں کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور صرف 20 فیصد لوگ ہی نوٹ اور سکے استعمال کر رہے ہیں جن میں سے بھی بہت سے یہ عادت ترک کرتے جا رہے ہیں۔
نوٹوں کی کم ہوتی ہوئی مانگ کی وجہ سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ کیش دستیاب کرنے کے لیے بنایا گیا سارا نظام یا ڈھانچہ جن میں اے ٹی ایم مشینیں شامل ہیں شاید منافع بخش ہی نہ رہے۔
مصنفہ نیٹلی سینی نے کہا کہ „ہو سکتا ہے کہ اس سے پہلے کہ ہم اس کے لیے تیار ہوں سارا ڈھانچہ ہی گر پڑے۔‘
پیوٹل نامی کمپنی کے مارٹن سمتھ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے کاروبار پر پڑنے والے اثرات کا درست اندازہ لگانا اس وقت تک بہت مشکل ہے جب تک کاروبار دوبارہ نہیں کھل جاتے۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر کیش استعمال کرنے کی بنیادی وجوہات پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے جس میں سہولت اور بینک اکاؤنٹس تک رسائی میں دشواری شامل ہیں۔
نوٹوں سے ہماری چاہت کا خاتمہ؟
بی بی سی کے پرسنل فائنانس کے نامہ نگار سائمن گومپارٹز
کیا مستقبل میں اس بحران کو ایسے دیکھا جائے گا کہ جس نے نوٹوں سے ہماری چاہت کو ختم کر دیا۔
بہت سے گاہک نوٹوں کو ہاتھ لگاتے وقت ڈرتے ہیں کہ انہیں معلوم نہیں کتنے لوگوں نے انہیں چھوا ہو گا۔
دکاندار جو کارڈ کو دیکھ کر ناگواری کا اظہار کرتے تھے اب خوشی خوشی ’کارڈ ریڈر‘ نکال لیتے ہیں۔ یہ نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ غیر یقینی حالات میں لوگ اپنے نوٹ اور سکے سینوں سے لگا کر رکھتے ہیں۔
شاید اس وقت وہ گھروں سے باہر نہ نکل پانے کی وجہ سے کیش نہ نکلوا رہے ہوں۔ لیکن ایک بات صاف ظاہر ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے الیکٹرانک ادائیگیوں کا رجحان بڑھ گیا ہے۔