سپریم کورٹ کا حدیبیہ ریفرینس دوبارہ کھولنے کی درخواست کی سماعت کا فیصلہ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

یہ درخواست قومی احتساب بیورو نے لاہور ہائی کورٹ کے سنہ 2014 کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے اگلے ہفتے کے لیے جاری کی گئی مقدمات کی کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نیب کی اس درخواست کی سماعت 13 نومبر کو کرے گا۔

مزید پڑھیے

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سپریم کورٹ کے اس پانچ رکنی بینچ کی سربراہی بھی کی تھی جس نے پاناما لیکس کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

پاناما فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پر اسی پانچ رکنی بینچ کے فیصلے پر سابق وزیر اعظم نے چند روز پہلے کہا تھا کہ ’ججز بغض سے بھرے بیٹھے ہیں۔‘

عدالت نے حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے نیب کے پراسکیوٹر جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے اس ریفرنس کو تین سال پہلے ختم کرنے کا حکم دیا تھا اور اُس وقت لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نیب کے حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی تھی۔

حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نواز شریف کے علاوہ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی قابل ذکر ہے جس میں اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شریف بردران کے لیے منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

سابق وزیر اعظم کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران اس وقت کے نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے اور اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے سے انکار کردیا تھا۔

اس پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ’اُن کی نظر میں نیب وفات پا گیا ہے‘ تاہم انھی درخواستوں کے سماعت کے آخری روز نیب کے حکام نے حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں عندیہ دیا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پہلے نیب کی درخواست کی سماعت کرے گا اور پھر حدیبیہ پیپرز مل کے ریفرینس کو دوبارہ کھولنے یا نہ کھولنےکے بارے میں احکامات جاری کرے گا۔

حدبیہ پیپرز ملز کا مقدمہ ہے کیا؟

حدیبیہ ملز ریفرینس دائر کرنے کی منظوری مارچ 2000 میں نیب کے اس وقت کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید محمد امجد نے دی تھی۔

اگرچہ ابتدائی ریفرینس میں نواز شریف کا نام شامل نہیں تھا تاہم جب نیب کے اگلے سربراہ خالد مقبول نے حتمی ریفرینس کی منظوری دی تو ملزمان میں نواز شریف کے علاوہ ان کی والدہ شمیم اختر، دو بھائیوں شہباز اور عباس شریف، بیٹے حسین نواز، بیٹی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز اور عباس شریف کی اہلیہ صبیحہ عباس کے نام شامل تھے۔

یہ ریفرنس ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے 25 اپریل 2000 کو لیے گئے اس بیان کی بنیاد پر دائر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالر کے لگ بھگ رقم کی مبینہ منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا تھا۔

اسحاق ڈار بعدازاں اپنے اس بیان سے منحرف ہو گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ یہ بیان انھوں نے دباؤ میں آ کر دیا تھا۔