کوئٹہ: پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں 61 اہلکار ہلاک، 124 زخمی

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع پولیس ٹریننگ کالج پر شدت پسندوں کے حملے میں پولیس کے 60 اور ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 120 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ حملہ پیر کی شب رات دس بجے کے قریب کیا گیا جب دو خودکش حملہ آوروں سمیت تین شدت پسندوں نے سریاب پولیس ٹریننگ سینٹر کو نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ دو ماہ قبل ایک پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے پاکستان میں جگہ بنانے کی کوشش کی تھی اور ملک سے تنظیم کے خاتمے کا کام جاری ہے۔

روئٹرز کے مطابق دولتِ اسلامیہ کی خودساختہ اعماق نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے پولیس کے تربیتی مرکز پر حملہ اس کے تین جنگجوؤں نے کیا جن کی تصویر بھی اس بیان کے ساتھ جاری کی گئی ہے۔

کوئٹہ میں حملے کے فوراً بعد آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے میڈیا کو بتایا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے ہے۔

کوئٹہ پولیس کے آپریشن روم سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ہلاک شدگان میں 60 پولیس اہلکار اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والا ایک فوجی افسر شامل ہیں۔

پولیس حکام نے زخمیوں کی تعداد 124 بتائی ہے جن میں ریسکیو آپریشن میں شامل چار فوجی اور دو ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 20 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ملک بھر خصوصاً بلوچستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی وجہ سے سکیورٹی کے مزید سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاہم بلوچستان کی حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ پولیس سینٹر پر حفاظتی انتظامات مثالی نہیں تھے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے رات گئے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلا حملہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے عقبی علاقے میں واقع واچ ٹاور پر کیا گیا جہاں موجود سنتری نے بھرپور مقابلہ کیا لیکن جب وہ مارا گیا تو حملہ آور دیوار پھلانگ کر کالج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے رات گئے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلا حملہ پولیس ٹریننگ سینٹر کے عقبی علاقے میں واقع واچ ٹاور پر کیا گیا جہاں موجود سنتری نے بھرپور مقابلہ کیا لیکن جب وہ مارا گیا تو حملہ آور دیوار پھلانگ کر کالج کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

حملے کے وقت ٹریننگ سینٹر سے باہر نکلنے والے ایک زیرِ تربیت اہلکار نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ساڑھے نو سے دس بجے کے درمیان شدت پسندوں نے اندر داخل ہوتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حملے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی، پولیس اور کمانڈوز کے دستے وہاں پہنچ گئے اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق اب تمام حملہ آور مارے جا چکے ہیں اور علاقے کو سرچ آپریشن کے بعد کلیئر کر دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حملہ آوروں میں سے دو نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ ایک کو سکیورٹی اہلکاروں نے مار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی چار گھنٹے میں مکمل کی گئی۔

آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے میڈیا کو بتایا کہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے تعلق رکھنے والے حملہ آوروں کو افغانستان سے ہدایات مل رہی تھیں۔

انھوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ ممکن ہے کہ کچھ پولیس اہلکار بھی حملہ آوروں سے ملے ہوئے ہوں۔

میجر جنرل شیر افگن نے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے اس سے قبل حالیہ مہینوں میں کئی بار حملوں کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ شدت پسندوں نے محرم کے موقعے پر بھی ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم سکیورٹی اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیاں ملوث ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ یہ حملہ سکیورٹی میں کسی نقص کی وجہ سے ہوا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسی بات سامنے آئی تو اس کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی۔

اس واقعے کے بعد شہر کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔

سول ہسپتال میں موجود سیکریٹری صحت نورالحق بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 85 زخمی اہلکاروں کو سول ہسپتال پہنچایا گیا ہے جبکہ 25 سے زائد زخمی اہلکاروں کو بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کیا گیا۔

زخمیوں میں ایسے کئی اہلکار بھی شامل ہیں جو حملے کے وقت عمارت سے باہر چھلانگیں لگانے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ثنا اللہ زہری نے مقامی نیوز چینل جیو نیوز کو بتایا کہ ’مجھے چند روز پہلے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کچھ دہشت گرد کوئٹہ شہر میں گھس گئے ہیں جس کے بعد پورے شہر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا تھا۔ انھیں شہر کے اندر موقع نہیں ملا تو وہ شہر سے باہر تربیتی مرکز تک پہنچ گئے۔‘

سکیورٹی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ’یہ تربیتی مرکز خاصے بڑے علاقے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا رقبہ دو ڈھائی سو ایکڑ ہے۔ یہ شہر سے 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں رات کے وقت اور سردیوں کے موسم کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھی گھس سکتا ہے۔‘

امریکہ نے بھی کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر پر شدت پسندوں کے حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مشکل کے اس وقت میں وہ پاکستان کی عوام اور حکومت کے ساتھ ہیں۔

پاکستان میں ماضی میں بھی پولیس کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ مارچ سنہ 2009 میں لاہور کے نزدیک مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز پر شدت پسندوں کے حملے میں آٹھ پولیس اہلکار ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔