دس چیزیں جن سےہم گذشتہ ہفتےلاعلم تھے

1- آپ نے شہروں اور قصبوں کے کئی عجیب و غریب نام سنے ہوں گے، لیکن شاید یہ نہ سنا ہو کہ آسٹریلیا میں ایک قصبے کا نام ’ہمپٹی ڈُو‘ بھی ہے۔
2- ہر سال موسمِ سرما میں سفید وھیل مچھلیاں 30 سے 40 دن کا طویل سفر طے کر کے میکسیکو اور امریکی ریاست ہوائی کے ساحل کے درمیان ایک خاص مقام پر جمع ہوتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ یہاں ہر سال کیا کرنے آتی ہیں۔
3- ایک اندازے کے مطابق لوگ ہر روز اپنے سمارٹ فون کو اوسطاً 2617 مرتبہ چُھوتے ہیں۔
4- کینیڈا کے شہر آٹووا میں شراب کے عادی لوگوں کو علاج کی غرض سے ہر گھنٹے بعد شراب پلائی جاتی ہے۔
5- امریکہ میں تین فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آپ نے کسی مشہور ٹی وی پروگرام کی قسط دیکھ لی ہے اور آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ اس قسط میں کیا ہوا، تو دوسرے لوگوں سے اس بارے میں بات کرنے کے لیے آپ کو کم از کم ایک ماہ انتظار کرنا چاہیے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ دوسرے لوگوں کا مزا کِرکِرا کر دیتے ہیں۔
6- برطانیہ میں سنہ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک جنسی امتیاز اتنا زیادہ تھا کہ کسی خاتون کو بینک سے قرض لینے کے لیے ایک مرد رشتے دار کے دستخط لینا ضروری ہوتا تھا۔
7- آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ ہمارے تکیوں میں ایک دو نہیں بلکہ 47 مختلف قسم کی کائی (فنگس) ہو سکتی ہیں جو بیماری کا باعت بن سکتی ہیں۔
8- گذشتہ ہفتے برطانیہ میں عراق جنگ پر جاری کی جانے والی رپورٹ ’چِلکوٹ انکوائری‘ کی ضخامت مشہور روسی ادیب ٹولسٹائی کے طویل ناول ’وار اینڈ پِیس‘ سے بھی ساڑھے چار گنا زیادہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
9- برطانیہ کی مشہور ملکہ وکٹوریہ کے دور میں ایک مزاحیہ گانے کا عنوان ’ٹونی بلیئر‘ بھی تھا۔
10- اور آخر میں یہ حقیقت کہ برطانیہ بھر میں لگے ہوئے تاریخی شخصیات کے مجسموں میں خواتین کے مجسموں کا تناسب دیکھا جائے تو ہر پانچ مجسموں میں خواتین کے مجسموں کی تعداد ایک مجسمے سے بھی کم بنتی ہے۔







