داریا میں امدادی سامان پہنچنے کے بعد حملہ

خیال رہے کہ داریا گذشتہ چار سالوں سے حکومتی فورسز کے زیر قبضہ ہے

،تصویر کا ذریعہICRC SYRIA

،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ داریا گذشتہ چار سالوں سے حکومتی فورسز کے زیر قبضہ ہے

شامی عوام کا کہنا ہے کہ حکومتی محاصرے میں موجود داریا شہر میں 2012 کے بعد سے پہلی بار امدادی سامان پہنچنے کے بعد حکومتی فوج نے وہاں بیرل بموں سے حملہ کیا ہے۔

شہری کونسل کا کہنا ہے کہ 28 بیرل بم ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شہر کے مکینوں پر گرائے گئے تاکہ وہ امداد حاصل نہ کر سکیں۔

رات بھر دوائیوں اور خوراک کے ٹرک گاؤں میں پہنچائے گئے۔

ادھر کردوں کے ماتحت لڑنے فوج نے کہا ہے کہ انھوں نے خود کو دولتِ اسلایمہ کہلانے والی تنظیم کے اہم گڑھ کو گھیرے میں لے لگیا ہے۔

سرین ڈیموکریٹک فورس نے کہا ہے کہ حلب کے شمال مشرق میں واقع منبیج اور باب میں شاہراؤں کو بند کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام نے رواں ماہ کے آخر تک ملک کے 19 زیر قبضہ علاقوں تک امدادی کاروان پہنچانے کی اجازت دی ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق شام نے رواں ماہ کے آخر تک ملک کے 19 زیر قبضہ علاقوں تک امدادی کاروان پہنچانے کی اجازت دی ہے

داریا کی سٹی کونسل کے ایک رکن کے مطابق بیرل بموں کو مختلف جگہوں پر پھینکا گیا اور یہ تین گھنٹے تک جاری رہا۔

اس سے قبل مقامی ہلال احمر کے ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ، عالمی ریڈ کراس اور شامی ہلال احمر کی ٹیموں نے امدادی سامان اور ادویات پر مشتمل نو ٹرک داریا میں پہنچائے۔

ان کے مطابق ان ٹرکوں کے ذریعے اتنی امداد پہنچائی گئی ہے جس سے داریا کے لوگوں کی ضروریات ایک ماہ تک پوری ہو سکیں گی۔

دمشق کے مضافاتی علاقے داریا کی مقامی کونسل نے ٹرکوں سے امدادی سامان کو اتارنے کی تصاویر شائع کی تھیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام نے رواں ماہ کے آخر تک ملک کے 19 زیر قبضہ علاقوں تک امدادی کاروان پہنچانے کی اجازت دی ہے۔

اپریل میں اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ داریا میں شامی فوج کے محاصرے میں چار ہزار افراد ہیں۔ اس علاقے کی بجلی تین سال قبل ہی کاٹ دی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ متعدد بار شامی فوج سے درخواست کی گئی تھی کہ امدادی سامان داریا میں جانے کی اجازت دی جائے تاہم شامی فوج نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

گذشتہ ماہ تمام فریقین کے درمیان سمجھوتے کے باوجود ایک امدادی کاروان کو داریا میں جانے سے روک دیاگیا تھا۔

واضح رہے کہ روس کی وزارت دفاع نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ روس نے شامی حکام کے ساتھ مل کر 48 گھنٹوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تاکہ داریا میں امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔