دریائے ہڈسن میں امریکی طیارہ گر کر تباہ

،تصویر کا ذریعہAP

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک اور نیو جرسی کے درمیان ایک چھوٹا طیارہ دریائے ہڈسن میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ طیارہ دوسری عالمی جنگ کے وقت کا وینٹج ’پی-47 تھنڈر بولٹ‘ طیارے ہے۔

یہ ایک سنگل سیٹر طیارہ تھا جو کہ جارج واشنگٹن برج سے سوا تین کلومیٹر کے فاصلے پر گرا۔

غوطہ غوروں نے غرقاب طیارے سے ایک لاش نکالی ہے جس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پائلٹ کی لاش ہو سکتی ہے۔

حادثے کی وجوہات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے لیکن انجن کی ناکامی کو ممکنہ سبب کہا جا رہا ہے۔

یہ طیارہ ان تین طیاروں میں سے ایک تھا جو نیویارک سٹی کے مشرقی علاقے فارمنگ ڈیل ایئر فیلڈ سے اڑا تھا۔

یہ طیارے امریکی ایئر پاور میوزیم کی 75 ویں سالگرہ کے موقعے پر ایک پروموشنل ویڈیو کی شوٹنگ کے لیے اڑے تھے۔

یہ دوسری جنگ عظیم کا طیارہ تھا

،تصویر کا ذریعہGETTY

،تصویر کا کیپشنیہ دوسری جنگ عظیم کا طیارہ تھا

دو دوسرے جہاز ’پی 40‘ اور جس طیارے سے ان کی تصاویر لی جا رہی تھی وہ دونوں بحفاظت لینڈ کر گئے۔

طیارہ حادثے کے تین گھنٹے بعد غوطہ خوروں نے ایک 56 سالہ افراد کی لاش نکالی ہے۔ نیویارک پولیس نے اس شخص کی ولیم گورڈن کے طور پر شناخت کی ہے جو کہ فلوریڈا کے کی ویسٹ کا رہائشی تھا۔

کالج کے ایک طالب علم سی کی لی نے دریا میں طیارے کو گرتے ہوئے دیکھا تھا۔

انھوں نے نیویارک ڈیلی ٹائمز کو بتایا: ’طیارہ پہلے یو ٹرن کی طرح مڑا اور پھر اس سے دھواں نکلنے لگا۔ یہ پانی کی طرف جھکا جا رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ کوئی کرتب کر رہے ہیں۔‘

اس سے قبل سنہ 2009 میں ایک ہوائی جہاز کی دریائے ہڈسن دریا میں ایمرجنسی لینڈنگ کی تھی، اس طیارے میں 155 مسافر سوار تھے تاہم تمام مسافروں کو بچا لیاگیا تھا۔