امریکہ میں خواتین کو میدان جنگ میں لڑنے کی اجازت

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے اعلان کیا ہے کہ خواتین امریکی افواج کے تمام جنگی شعبوں میں حصہ لے سکیں گی اور انھیں میدان جنگ میں لڑنے کی بھی اجازت ہوگی۔
ایش کارٹر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کی مستبل کی فورس ممکنہ طور پر سب سے وسیع پیمانے پر موجود ٹیلنٹ سے مستفید ہو سکے گی۔‘
اس اعلان کے بعد تقریباً دو لاکھ 20 ہزار خواتین حصہ لے سکیں گی۔
عسکری اداروں کو ایش کارٹر کی جانب سے 30 دن دیے گئے ہیں تاکہ وہ اس تبدیلی کے لیے منصوبہ بندی کر سکیں۔ امریکی فوج گذشتہ تین سالوں سے پابندیوں میں نرمی کرتی آرہی ہے۔
خواتین کے میدان جنگ میں جانے پر سے سنہ 2013 میں پابندی اٹھا لی گئی تھی تاہم فوج کو 2016 تک کا وقت دیا گیا تھا تاکہ وہ بتا سکیں کہ ان کے خیال میں بعض عہدوں پر بھرتیاں کیوں نہ کی جائیں۔
جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئرمین جنرل جوذف ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ میرین کور کو یہ اجازت ہونی چاہیے کہ وہ بعض جگہوں پر خواتین کو دور رکھیں کیونکہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین اور مرد ایک ساتھ اتنے موثر نے ہوتے جتنے کے صرف مرد ہوتے ہیں۔
ایش کارٹر نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔جہاں تک خواتین میں قابلیت ہے اور وہ معیار پر پوری اترتی ہیں تو انھیں ان تمام مشنز میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی جن میں وہ اب تک شامل نہیں ہو سکی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’خواتین کو ٹینکس چلانے، مارٹر فائر کرنے، اور ساتھی فوجیوں کو لڑائی میں لیڈ کرنے کی اجازت ہوگی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیشنل وومنز لاء سینٹر کی نینسی ڈف کیمبل کا کہنا ہے کہ ’یہ فوج میں اپنی خدمات انجام دینے والی خواتین اور ملک بھر کی دیگر خواتین کے لیے زبردست دن تھا۔‘







