عراق میں جلاوطن ایرانی باغیوں پر راکٹ حملے میں ’23 ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہAFP
عراقی اور ایرانی حکام کے مطابق عراق میں ایک سابق فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں ایک جلاوطن ایرانی تنظیم کو نشانہ بنا یا گیا ہے۔
سازمان مجاہدين خلق ايران کا کہنا ہے کہ اس حملے میں تین پولیس اہلکاروں کے علاوہ ان کے 20 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔
بغداد ہوائی اڈے کے قریب واقعہ کیمپ لبرٹی نامی سابق امریکی اڈے پر کم از کم 15 میزائل داغے گئے۔
عراق کی شیعہ ملیشیا ’مختار آرمی‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد بار مجاہدين خلق ايران کو جلد از جلد عراق چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ایران کی سازمان مجاہدين خلق ايران (پی ایم او آئی) نامی تنظیم سنہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے جلاوطنی میں ہے۔
اس سے قبل دسمبر 2013 اور فروری 2013 میں بھی لبرٹی کیمپ میں راکٹ داغے گئے تھے۔
جبکہ سنہ 2011 میں پی ایم او آئی کے باغیوں پر عراقی فوجیوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
سازمان مجاہدين خلق ايران کو ایران اور امریکہ دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’رات میں اندھیرے کی وجہ سے، ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔‘
جبکہ 23 ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ کیمپ کے رہائشی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں تاہم انھوں نے ان کی تعداد کے بارے میں واضح نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نشانہ بننے والوں کو ’تمام ممکنہ طبی اور ہنگامی معاونت‘ کی فراہمی کے لیے سینیئر عراقی حکام سے بات چیت کر رہی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ چھ کٹیوشا راکٹ ہوائی اڈے کے احاطے میں گرے جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا، جبکہ چھ لبرٹی کیمپ میں واقع اڈے پر گرے۔
خیال رہے کہ پی ایم او آئی نے 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ میں صدام حسین کا ساتھ دیا تھا، لیکن سنہ 2003 میں امریکہ کی جانب سے عراقی حکومت گرانے کے بعد وہ بغداد سے الگ ہوگئے تھے۔
بقیہ ایرنی منحرف جو ایران مذہبی رہنماؤں کو اقتدار سے ہٹانے کی وکالت کرتے ہیں، سنہ 2012 میں کیمپ لبرٹی میں منتقل ہوگئے تھے۔
انھوں نے اس حملے کا الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے امریکہ اور اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔







