مزید برطانوی والدین بچوں کے پاسپورٹ منسوخ کروا سکیں گے

برطانیہ میں نوجوانوں کے انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کے خطرے کے پیش نظر اب مزید والدین اپنے بچوں کے پاسپورٹ منسوخ کروانے کی درخواست کر سکیں گے۔
اس قانون کا اطلاق پہلے ہی 16 سال سے کم عمر بچوں پر ہوتا ہے تاہم برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے اعلان کیا جائے گا کہ اس کا دائرۂ کار بڑھا کر 16 اور 17 سال کی عمر کے نوجوانوں کو بھی شامل کر لیا جائے۔
برطانوی وزیراعظم کی جانب سے انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث سزایافتہ افراد پر بچوں اور کمزور افراد کے ساتھ کام کرنے پر پابندی کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
برطانیہ کی حزب اختلاف جماعت لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان اقدامات کا ’زبردستی اطلاق‘ نہ کیا جائے۔
رواں سال جولائی میں آزمائشی بنیادوں پر شروع کیے جانے والے اقدامات کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے والدین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں کے پاسپورٹ کی واپسی یا منسوخی کی درخواست دے سکتے ہیں۔
ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق یہ قانون پہلے ہی کئی مرتبہ استعمال کیا جا چکا ہے۔
اس پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو دولت اسلامیہ جیسی سمندر پار انتہا پسند تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنے سے باز رکھنا ہے۔

بی بی سی کے داخلی امور کے نامہ نگار ڈینی شا کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ نئے قوانین کا اطلاق بچوں اورکمزور افراد کے رابطے میں آنے والے رضاکاروں سمیت ہر شخص پر ہو گا۔ انتہا پسندوں کے ساتھ وہی رویہ روا رکھا جائے گا جو بچوں کے ساتھ جنسی بدفعلی کرنے وانے افراد کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنیاد پرست مبلغین پر بھی آن لائن مواد کی اشاعت پر پابندی ہو گی اور انٹرنیٹ کمپنیاں انتہاپسندی پر مبنی مواد کے فروغ کی روک تھام کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔
انسداد انتہاپسندی کے تھنک ٹینک کُولِیم فاؤنڈیشن کے مطابق عسکری تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے انتہاپسندانہ مواد پر مبنی یومیہ 38 منفرد پروپیگنڈا ائٹم تیار کیے جاتے ہیں۔
وزیراعظم کی جانب سے کیے جانے والے اعلان سے قبل وزیرِ داخلہ تھریسا مے نے بی بی سی ریڈیو فائیو کو بتایا کہ اگرچہ جولائی سے اب تک پاسپورٹ منسوخی کے قوانین کا زیادہ استعمال نہیں کیا گیا تاہم یہ انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے نئے قوانین کا حصہ ہے۔
ان کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے کہ ایسے چند کیس بھی سامنے آئے ہیں جن میں خود والدین کی جانب سے اپنے بچوں کے ساتھ سمندر پار انتہا پسند تنظیموں میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔







