’لاکھوں پناہ گزین شام چھوڑ سکتے ہیں‘

ترک اندازوں کے مطابق مزید 30 لاکھ ممکنہ پناہ گزیں حلب اور اس کے مضافاتی علاقوں سے آسکتے ہیں: صدر یورپی کونسل

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنترک اندازوں کے مطابق مزید 30 لاکھ ممکنہ پناہ گزیں حلب اور اس کے مضافاتی علاقوں سے آسکتے ہیں: صدر یورپی کونسل

یورپیئن کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ ترکی نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی بڑھنے سے لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین شام چھوڑ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شام میں روس اور ایران کی مداخلت سے شامی صدر بشار الاسد کو ممکنہ طور پر کامیابی مل سکتی ہے۔

<link type="page"><caption> ’برطانیہ کو ہر سال لاکھوں مہاجرین بلانےکی ضرورت نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151006_uk_high_level_immigration_zh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> جرمنی کو اس سال ’15 لاکھ پناہ گزینوں کا سامنا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151005_germany_migrants_asylum_ak.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پناہ گزینوں کی یادگار تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150929_migrants_stories_bbc_corrospondents_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

ترکی کے اندازوں کے مطابق اس کا مطلب حلب اور دیگر علاقوں سے 30 لاکھ مہاجرین کی ہجرت ہے۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں مزید افراد کے شام چھوڑنے کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

آئی او ایم کے ترجمان لیونارڈ ڈوئل نے بی بی سی کو بتایا: ’تشدد اور فوجی کارروائیاں شہریوں کو بے گھر کرتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کی تنظیم زمینی حقائق جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹسک کا بیان ’قیاس آرائی پر مبنی ہے۔‘

منگل کو یورپی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا: ’خطے میں دورے کے دوران میں نے جس سے بھی بات کی، ترکی، اردن یا مصر میں صدور سے لے کر کیمپوں میں مقیم پناہ گزینوں تک، ہر کسی نے مجھے ایک بات کے بارے میں خبردار کیا، اسد حکومت کی ممکنہ کامیابی، جس کا امکان روسی اور ایران مداخلت کی وجہ سے بڑھ گیا ہے، شام میں تارکین وطن کی نئی لہر پیدا کر دے گی۔‘

’کل اس پیغام کی (ترک) صدر اردوغان نے تصدیق کر دی ہے۔ ترک اندازوں کے مطابق مزید 30 لاکھ ممکنہ پناہ گزین حلب اور اس کے مضافاتی علاقوں سے آ سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ روس نے 30 ستمبر کو شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا، اس کا کہنا تھا کہ وہ بشارالاسد حکومت کی درخواست پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو نشانہ بنا رہی ہے۔