بنیاد پرستی کو فروغ دینے والی قوت؟

،تصویر کا ذریعہGetty
برطانوی حکومت نے بدھ کو انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تجاویز کا اعلان کیا ہے جسے سخت گیر مبلغ انجم چوہدری جیسے افراد کو ٹارگٹ کرنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انجم چوہدری کو برطانیہ میں بااثر شخصیت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ امریکہ اور بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق ان کا اثر و رسوخ پورے یورپ میں پھیلا ہوا ہے۔
ٹارل کارلسین ناروے کے ایک قصبے کے پارک میں چہل قدمی کے لیے آئیں جہاں وہ اپنے بیٹے ٹامس الگزینڈر کے ساتھ آیا کرتی تھیں۔
ایک ماہ قبل انھیں ایک فون کال موصول ہوئی تھی جس میں انھیں بتایاگیا کہ ان کا بیٹا شام میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے لڑتا ہوا ہلاک ہوگیا ہے۔
ٹارل کارلسین نے بتایا کہ ’جب مجھے یہ پیغام ملا کہ وہ ہلاک ہو گیا ہے تو جیسے میرا خون جم گیا تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس کے بارے میں ہر دن، ہر سیکنڈ ، ہر منٹ سوچتی ہوں۔ یہ بلکل بے معنی ہے کہ میرا بیٹا اس چھوٹے سے قصبے سے شام گیا اور وہاں مارا گیا۔‘
ٹارل کا ماننا ہے کہ پولیس کو ان کے بیٹے کے حوالے سے مزید کچھ کرنا چاہیے تھا۔
تاہم جب ان سے پوچھاگیا کہ ان کے بیٹے کے شام جانے کا ذمہ دار کون ہے تو انھوں نے اس کا الزام ناروے کی ایک تنظیم ’پرافٹس امہ‘ پر لگایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ناروے سے عراق اور شام لڑنے کے لیے جانے والے افراد کے پیچھے اس تنظیم کا ہی ہاتھ ہے۔
یوسف باردو آسدق آغاز میں لوگوں کے ساتھ ’پرافٹس امہ‘ بنانے کے حوالے سے سرگرم رہے لیکن بعد میں علیحدگی اختیار کر لی۔

اب وہ لوگوں کو قدامت پرستی اور تشدت سے دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یوسف کا کہنا ہے کہ ’مجھے یاد ہے سنہ 2012 میں ہر کوئی اس تنظیم ہر ہنستا تھا لیکن جلد ہی وہ مزید پروفیشنل ہو گئی۔‘
ان کا ماننا ہے کہ انجم چوہدری کا اس تنظیم پر بہت اثر ہے۔ ’ وہ قانون جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ حدود کیا ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ ایک تنظیم کو کیسے چلایا جاتا ہے اور اس سب کا ان لوگوں کو علم نہیں ہے۔‘
یوسف کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے انجم چوہدری کے ساتھ ناروے میں پہلی ملاقات کے بعد دیکھا کہ تنظیم میں بڑی تبدیلیاں آئیں جس کے بعد وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو گئی۔‘
پرافٹس امہ کے ترجمان عبید اللہ سے میری ملاقات آسلو کے ایک ہوٹل میں ہوئی۔
عبید اللہ نے بتایا کہ وہ گذشتہ برس انجم چوہدری سے ملاقات کرنے کے لیے برطانیہ آئے تھے ۔
ان کا کہنا تھا کہ’ ہماری بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ میں ان کی عزت کرتا ہوں ان کے علم کی وجہ سے۔ یقینی طور پر میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ مجھے نصیحت بھی کرتے ہیں۔‘
ناروے کے سکیورٹی اداروں کو عراق اور شام جانے والے لوگوں کے حوالے سے درپیش چیلنجوں کا بخوبی علم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 75 افراد وہاں گئے ہیں جن میں سے 26 واپس آگئے ہیں اور 16 مارے جا چکے ہیں لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اصل تعداد اس کہیں زیادہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے بتایا ہے کہ اس بات کے مضبوط اشارے ملے ہیں کہ اس میں پرافٹس امہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ہاتھ ہے۔
تاہم وہ اس بات پر بے یقینی کا شکار ہیں کہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دینا ہے صیح اقدام ہوگا۔
ناروے کی پولیس سکیورٹی سروسز میں سٹریٹجک تجزیہ کے ڈائریکٹر جان ہاف مین کا کہنا ہے کہ ’ کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے نتیجے میں اکثر وہ تنظیم منظرِ عام سے غائب ہو جاتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسئلہ ختم ہوگیا ہے یا ان کی تحریک ختم ہو گئی ہے۔‘
بیلجیئم، نیدرلینڈ، ڈینمارک، سپین اور کئی دوسرے ممالک میں سرگرم تنظیموں کے حوالے کہا جاتا ہے کہ ان کے انجم چوہدری کے ساتھ تعلقات ہیں۔
انجم چوہدری خود ان تنظیموں کی تعداد پر بحث کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت سے یورپی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں اور دنیا بھر کے 40 سے 50 ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں۔
تاہم انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نہ تو انھوں نے ان تنظیموں کو تشکیل دیا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی تعلق ہے ان کے ساتھ۔
انجم چوہدری نے لوگوں کو لڑنے کے لیے بھیجنے کی بھی تردید کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ایسی کوئی ایک مثال بھی موجود نہیں ہے کہ عراق، افغانستان یا شام میں یا دنیا میں کسی بھی جگہ پر کسی مرنے والے یا زندہ شخص نے کہا ہو کہ وہ انجم چوہدری کے کہنے پر آیا ہوں۔‘
انجم چوہدری اس وقت برطانیہ میں کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلقات کے شبہ میں ضمانت پر ہیں تاہم ان پر کسی جرم کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔





















