’غیر قانونی تارکینِ وطن کو خطرناک سفر سے روکنے کے لیے اقدمات کریں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
رومن کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بین الاقوامی برداری اور یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کے خواہش مند لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو اس خطرناک سفر سے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کریں۔
پوپ فرانسس نے غیرقانونی تارکینِ وطن کی جان بچانے پر اٹلی کا شکریہ ادا کیا۔ اٹلی کے کوسٹ گارڈ حکام نے گذشتہ ہفتے بحیرۂ روم سے 10 ہزار تارکین وطن کو بچایا تھا۔ امکان ہے کہ چار سو کے قریب تارکینِ وطن سمندر میں ڈوب گئے تھے۔
گذشتہ سال ایک لاکھ 70 ہزار افراد غیر قانونی طور پر بحیرۂ روم عبور کر کے اٹلی میں داخل ہوئے تھے۔ یہ افراد افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں غربت سے تنگ آ کر یورپ پہچنا چاہتے تھے۔
اس سے پہلے یورپی یونین کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس مسئلے کا آسان حل موجود نہیں ہے۔
پوپ فرانسس اٹلی کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے اٹلی کے نو منتخب صدر سارجو میٹریلا سے ملاقات کی۔
انھوں نے غیر قانونی تارکین وطن کی مدد کرنے پر اٹلی کی حکومت کا شکریہ ادا کیا لیکن پوپ فرانسس نے کہا کہ ہمیں انھیں روکنے کے لیے زیادہ اقدامات کرنے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یورپی ممالک اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے وسیع بنیاد پر ردعمل کے لیے بار بار کوشش کرنا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اٹلی کے صدر مسٹر میٹریلا نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ ’بحیرۂ روم میں انسانی جانوں کے مسلسل ضیاع کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’زندگیوں کا خاتمہ بین الاقوامی برداری کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہے اور انسانیت خطرے میں ہے۔‘
عدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس بھی دو لاکھ سے زیادہ افراد نے بحیرۂ روم کے راستے غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کے لیے سفر کیا تھا اور اقوامِ متحدہ کے مطابق ان میں سے اندازاً ساڑھے تین ہزار اس کوشش کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAP
سنہ 2015 کے پہلے تین ماہ کے دوران پانچ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ ہفتے لبیا سے آنے والے افراد کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی تھی۔ امکان ہے کہ چار سو افراد سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔
یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے مطابق 2014 میں ایسے غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد دو لاکھ 76 ہزار تھی جن میں سے دو لاکھ 20 ہزار نے بحیرۂ روم کا رخ کیا تھا۔
خیال رہے کہ لیبیا میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد بڑھی ہے اور یہ تارکینِ وطن غیرقانونی طریقے سے یورپ پہنچنے کے لیے چھوٹی کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں۔







