القاعدہ کا جہادی برطانوی خفیہ ایجنٹ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

القاعدہ کے بانی اراکین میں سے ایک ایمان دین سنہ 1998 میں راستہ بدل کر برطانوی خفیہ ایجنسیوں ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس کے ایجنٹ بن گئے۔

ان کا انٹرویو پیٹر مارشل نے کیا جس میں وہ ان دنوں کے بارے میں بتاتے ہیں جب وہ شدت پسند مسلمانوں کے خلاف جنگ میں مغرب کے انتہائی اہم مخبر کے طور پر افغانستان اور برطانیہ میں کام کرتے تھے۔

بوسنیا

ایمان دین سعودی عرب میں پلے بڑھے جہاں سنہ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت جارحیت کے خلاف جہاد ایک قابلِ عزت تصور تھا۔ وہ ان دنوں ایک نو عمر لڑکے تھے جب یوگوسلاویہ کے حصے بخرے ہو رہے تھے اور بوسنیا مسلمانوں کو سرب قوم پرستوں سے بقا کی جنگ لڑنی پڑ رہی تھی۔ وہ اور اُن کے دوست خالد الحج جو بعد میں القاعدہ کے سعودی عرب میں رہنما بنے ان دنوں مجاہد بن کر بوسنیا گئے۔

میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک چشم کشا تجربے کا دور تھا۔ میں ایک کتابی کیڑا تھا۔ میں اچانک سعودی عرب سے بوسنیا کے پہاڑوں پر AK47 لیے پہنچا جس سے مجھے ایک زبردست طاقت کا احساس ہوا اور یہ کہ میں تاریخ لکھ رہا ہوں نہ کہ ایک جانب بیٹھ کر اسے دیکھ رہا ہوں۔

اور یہ کہ میں ایک فوجی تربیتی مرکز میں ایسی معلومات حاصل کر رہا تھا جو میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میں ہزاروں سالوں میں حاصل کر پاؤں گا۔ جنگی داؤ پیچ اور تکنیک کے بارے میں اور مختلف قومیتوں اور ممالک کے لوگوں کے ساتھ جن سب کے درمیان ایک قدر مشترک تھی اور وہ یہ کہ ہم سب مسلمان تھے اور یہ سب لوگ بوسنیا کے مسلمانوں کے دفاع کے لیے جہاد کرنے پہنچے تھے اور یہ ایک زبردست تجربہ تھا۔

آپ خوفزدہ نہیں تھے؟

میں یہ صرف آپ کو بتا رہا ہوں کہ شروع میں مجھے خوف تھا اس انجانی صورت حال کا نہ کہ اس بات کا کہ میں ایک ایسے سفر پر جا رہا ہوں جس میں در حقیقت میں ہلاک ہو سکتا ہوں۔

آپ کو موت کا ڈر نہیں تھا؟

میں جھوٹ بولوں گا اگر میں یہ کہوں کہ نہیں مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا تھا مگر آہستہ آہستہ اس خیال سے اطمینان محسوس ہونے لگا کہ ہاں میں بوسنیا جا رہا ہوں اور بہت حد تک ممکن ہے کہ میں کبھی بھی زندہ واپس نہ آ سکوں۔

کیا آپ مرنا چاہتے تھے یا شہادت چاہتے ہیں؟

جی ہاں۔

جہاد سکول

بوسنیا کی جنگ کے بعد میں نے اپنے ساتھی جنگجوؤں میں ایک بات محسوس کی کہ ان میں ایک مغرب مخالف، گلوبلائزیشن کے مخالف احساسات ابھرنا شروع ہوئے کہ یہ لوگ بوسنیا کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں تاکہ وہ اس جنگ کا پانسہ اپنی جانب پلٹ سکیں اور اسی لیے وہ اس جنگ کو وہیں ختم کرنا چاہتے ہیں اس سے قبل کے مزید کامیابیاں حاصل کی جا سکیں۔

کم از کم یہ تصور تھا اُن کا اور اس تصور کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ مغرب اسلام کے ساتھ ایک مذہب ہونے کی بنا پر لڑائی لڑ رہا ہے جس کی وجہ سے بنیاد پرستی کے جذبات میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے وہ ایک مجاہد کے بعد ایک جہادی کارکن بنے۔

بوسنیا ایک سکول تھا جہاں القاعدہ کے کئی باصلاحیت رہنما بنے۔ خالد شیخ محمد (جن پر 11 ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا جاتا ہے) ان لوگوں میں سے ایک تھے۔

میرے خیال میں وہ بوسنیا اس لیے گئے تھے کہ ان لوگوں کو تلاش کر سکیں اور اُن کی صلاحیتوں کو پرکھ سکیں جنھیں بعد میں جدوجہد میں استعمال کرنامقصود تھا۔

مجھے یاد ہے کہ سب سے اہم بات انھوں نے یہ کہی اور یہ ایک شادی کے موقعے پر تھی جہاں ہم ایک دوسرے کے بالکل ساتھ بیٹھے تھے اور وہ یہ تھی ’بوسنیا کی جنگ تو یہاں ختم ہو رہی ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اختتام نظر آ رہا ہے مگر اس کے بعد کیا ہو گا؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم دنیا میں گھومتے پھریں گے ایک لاحاصل جنگ کے بعد دوسری کی تلاش میں مسلمانوں کو بچانے کی جنگ کرتے ہوئے جب کوئی اور آ کر اس کا سارا فائدہ اٹھا لے گا‘؟

دوسرے الفاظ میں ایک ایسی حکومت ہو گی جو شریعت کے قوانین کے مطابق نہیں لڑے گی اور وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ چکر کبھی ختم ہونا چاہیے اور ہمیں ایک ایسے محاذ کو شروع کرنا چاہیے جہاں ہم اسلام کی خدمت کر سکیں اور بنیادی طور پر مسلم دنیا میں جہاد کے جذبے کو دوبارہ سے زندہ کر سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ چھوٹی سی تقریر اس بات کا پہلا اشارہ تھا کہ حالات اس جانب جا رہے ہیں کہ مسلمان دنیا کو بچانے کے لیے جہاد کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جائے گا حکومتوں کو گرانے اور اس خطے میں امریکی مفادات کے خلاف ایک دہشت گردی کی جنگ لڑنے کے لیے۔

تو فوجیوں کی بجائے دہشت گرد بننے کے لیے؟

جی بالکل درست۔

القاعدہ میں شمولیت

ایمن دین کے بچپن کی ایک تصویر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایمن دین کے بچپن کی ایک تصویر

مجھے قندھار آنے کی دعوت دی گئی تاکہ میں حلف لے سکوں۔ بنیادی طور پر اسامہ بن لادن سے حلف لینے کا مقصد (القاعدہ) میں شامل ہونے پر ان کے ساتھ ملاقات کرنا تھا۔ انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور بتایا کہ کئی سال تک بہت سی پریشانیاں اور مشکلات اٹھانا پڑیں گی اور جہاد کی مقصدیت نہ اُن کے ساتھ شروع ہوئی اور نہ ختم ہو گی۔

کیا آپ نے حلف لیا؟

ہاں۔

حلف کیا تھا؟

میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اچھے اور برے وقتوں میں آپ کا وفادار رہوں گا اور خدا کے دشمنوں کے خلاف جہاد کروں گا اور اپنے کمانڈرز کا حکم مانوں گا۔

حلف برداری کے وقت آپ کیا کر رہے تھے؟ کیا آپ اپنے گھٹنوں پر تھے؟

آپ زمین پر اُن کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اور آپ کا ہاتھ قرآن پر ہوتا ہے اور حلف لیتے ہیں۔ اُن کے اتنے قریب بیٹھتے ہیں کہ گھٹنے سے گھٹنا ٹکراتا ہے۔

اور غالبا یہ بہت خوشگوار لمحہ ہوتا ہوگا؟

ہاں! جیسے آپ جانتے ہیں کہ مجھے پچھلی چیزوں کو یاد کرنا پڑ رہا ہے اگرچہ میں نے ہیبت ناک حد تک خوف محسوس کیا یہ بالکل ایسا تھا جیسے میں نے بوسنیا جاتے ہوئے محسوس کیا تھا۔

کیا آپ جانتے تھے کہ یہ بہت بڑا فیصلہ تھا؟

ہاں۔

افغانستان

اپنے ملک سعودی عرب میں ایمن دین مسلمانوں کے بارے میں غیر معمولی حد تک مذہبی معلومات رکھتے تھے۔ افغانستان میں اُن کی ذمہ داری اسلامی تاریخ، نظریات اور بنیادی مذہبی عقائد کے حوالے سے القاعدہ میں شمولیت اختیار کرنے والے نئے افراد کی تربیت کرنا تھا جس سے جہادیوں کو مختلف انداز میں قائل کیا جا سکے۔ ان افراد کی اکثریت یمن سے تعلق رکھتی تھی۔

انتہا پسندی کا کوئی واحد طریقہ نہیں ہے۔ بعض افراد کے خیال میں انھیں جہاد کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کرنے میں کئی سال لگے جبکہ بعض افراد کو محض چند منٹ لگے۔ بعض افراد نے مدارس میں تعلیم حاصل کی جبکہ بعض نائٹ کلب سے سیدھے چلے آئے اور آپ جانتے ہیں کہ شراب پیتے ہوئے انھیں معلوم ہوا کہ دنیا میں جہاد بھی کچھ ہے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس طرف آنے کا کوئی ایک سیدھا راستہ نہیں ہے بلکہ بہت سے راستے ہیں۔

لیکن شہادت تو سب حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

شہادت یا اجر حاصل کرنے کے بارے میں ہر ایک کی خواہش مختلف ہے۔ کچھ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تھک گئے ہیں اور جلد از جلد شہید ہونا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شہید تو ہونا چاہتے ہیں لیکن وہ شہادت سے پہلے خدا کے دشمنوں کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔

اچھا تو بعض آغاز ہی خودکشی سے کرتے ہیں اور بعض دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے ہیں؟

ہاں۔

شکوک

نیروبی میں امریکی سفارت خانے پر دھماکے کے بعد ملبے سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشننیروبی میں امریکی سفارت خانے پر دھماکے کے بعد ملبے سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں

ایمن دین افغانستان کے تربیتی کیمپ میں تھے جب سنہ 1998 میں نیروبی اور دارالسلام میں امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کو یہ جان کر تشویش ہوئی کہ 12 امریکی ہلاکتوں کے ساتھ 240 سے زیادہ مقامی افراد ہلاک ہوئے اور 5000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

میرے خیال میں یہ وہ لمحہ تھا جب اس کا خوف دھنسنا شروع ہوا اور مجھے احساس ہوا کہ اگر یہ اس جنگ کے انجام کا آغاز ہے تو اس کا اگلا ہدف کیا ہوگا؟ ارجنٹینا، جنوبی افریقہ، موزمبیق؟ کیا ہم افریقہ اور جزیرہ نما عرب سے امریکیوں کو نکالنے کے لیے ان سے لڑیں گے؟ یہ ایک بے تکی بات تھی۔

بطور ایک مذہبی عالم، یہ وہ وقت تھا جب میں نے تمام امور کی قانونی حیثیت کے بارے میں شک و شبہات کا آغاز کیا۔ چنانچہ میں نے سوالات پوچھنے شروع کیے۔ مجھے یاد ہے کہ میں القاعدہ کے فی الواقع مفتی عبداللہ الموہاجہ سے ملنے گیا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا ’اچھا دیکھو، 13 صدی عیسوی میں مسلم دنیا میں ایک فتویٰ جاری کیا گیا تھا، جو دشمن پر حملے کو قانونی حیثیت دیتا ہے خواہ اس میں عام شہریوں کی ہلاکت ہوں کیونکہ دشمن انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’یہ فتویٰ بہترین ہے، یہ ہمیں جواز فراہم کرتا ہے اور جو ہم نے کیا اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی شک موجود نہیں ہے۔‘

میں نے وہاں بذات خود جانے اور دیکھنے کا فیصلہ کیا اور پھر مجھے ایک بہت بڑ دھچکہ لگا۔ وسطی ایشیا میں مسلم شہروں تاشقند، ثمرقند اور بخارا سے ایک مخصوص سوال کے جواب میں فتوے جاری کیے گئے تھے، سوال تھا ’دیکھیے، منگول حملہ آور ہو رہے ہیں، جب کبھی وہ کوئی شہر چھوڑتے تو اپنے ساتھ شہر کی آبادی کا کچھ حصہ لے جاتے، ایک، دو یا تین ہزار اور ان سے محاصرہ کرنے والے مینار اگلے شہر کی دیواروں تک دھکیلنے کا کام لیتے ہیں۔ چنانچہ کیا ہم اپنے ان مسلمان ساتھیوں کو قتل کر سکتے ہیں جو اپنی خواہش کے خلاف ہمارے شہر کی دیواروں تک محاصرے کے مینار دھکیل رہے ہیں یا نہیں؟‘

اور پھر فتویٰ آیا ’جی ہاں، اس معاملے میں جہاں منگول مسلمان شہریوں کو اپنی فوجی مہمات کو سر کرنے لیے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے اور اگر آپ انھیں قتل نہیں کریں گے، تو حملے کامیاب ہونے کی صورت میں آپ اپنی جان گنوا دیں گے۔‘

اب جب میں نے یہ جان لیا، میں سوچ رہا تھا ’اچھا، میں اس فتوے سے مصالحت کیسے کروں جو زندگی اور موت کی صورت حال پر لاگو ہوتا ہے، ایک خطرناک دشمن جو انسانی ڈھالوں کو ایک جگہ پر قبضہ کرنے اور اس شہر کے ہر مرد، خاتون اور بچے کو قتل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کا موازنہ نیروبی اور تنزانیہ سے کیا‘ ان دونوں میں کوئی مماثلت نہیں تھی۔

سوال: اور محاصرے کے میناروں کے حوالے سے800 سال پرانا فتویٰ، کیا یہی جہادی دہشت گردی کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے؟

جواب: اس کا نتیجہ عام شہریوں کی ہلاکتیں ہیں، جی ہاں۔

سوال: چنانچہ یہ اہم ہے؟

جواب: یہ اہم ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ اس کی بنیادیں کمزور ہیں۔ اس کی کوئی بنیادیں نہیں ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ہوا میں ریت کا محل ہے۔

سوال: یہ بے تکی بات ہے؟

جواب: بالکل، اور دو مہینے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ یہ میرے لیے مزید موزوں نہیں ہے اور میں چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔

جاسوس بننا

ایمن مکہ کی بیت الحرام میں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایمن مکہ کی بیت الحرام میں

ابھی وہ نوجوانی میں ہی تھے اور گہری مشکلات میں بھی، دین کہتے وہ طبی معائنے کے لیے خلیج گئے اور ذاتی طور پر انھوں نے واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ اس کے بجائے، انھوں نے خود کو ایم آئی 6 کے ہاتھوں میں پایا۔ انھوں نے کہا کہ 11 دنوں میں وہ تبدیل ہوگئے۔ چار سال اور دو مہینے جہادی بنے رہنے کے بعد وہ 16 دسمبر سنہ 1998 کو لندن پہنچے اور بریفنگ کا آغاز ہوا۔

میرے خیال میں سات ماہ کی معلومات، جو انھیں کم و پیش ان تنظیموں، گروہوں اور انفرادی طور پر اثرورسوخ کے حامل افراد کی بہتر تصویر کشی میں مدد کر رہی تھیں۔

سوال: چونکہ آپ اسامہ بن لادن، خالد شیخ محمد، ابو زبیدہ کو جانتے ہیں۔ آپ تمام کو جانتے ہیں۔

جواب: جی ہاں، سات ماہ کی معلومات، یہ وہ لمحہ تھا جب یہ تجویز پیش کی گئی؛ ’افغانستان واپس جانے اور ہمارے لیے کام کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘ اور میرا جواب قطعی، ’ہاں‘ تھا۔ مجھے اس سے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔

سوال: آپ نے کیا کیا؟

جواب: انھیں معلومات مہیا کرنا، یہی میرا بنیادی کام تھا، زیادہ سے زیادہ معلومات کا حصول اور یہ آسان کام نہیں تھا کیونکہ آپ کو صرف اپنے یاداشت پر بھروسہ کرنا تھا۔ آپ کچھ لکھ نہیں سکتے تھے۔ سب کچھ ذہن میں جمع رکھنا تھا اور کہیں نہیں۔۔۔ جو کوئی بھی اخلاقی طور پر کوتاہیاں تھیں، میں سابق ساتھیوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے ان اخلاقی کوتاہیوں کو دور کیا کیونکہ میں انھیں جنتا زیادہ منصوبہ بندی کرتے دیکھتا، مثال کے طور پر، میں بنیادی طور پر وہاں موجود تھا جب القاعدہ پہلی بار کیمیکل ڈیوائس تیار کر رہی تھی اور اس کے بارے میں انتہائی پرلطف اور گہرے نفسیاتی اطمینان سے بات چیت کر رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب آپ اپنے آپ سے کہتے ہیں، ’میرے میں آپ لوگوں کی جاسوسی کرنے کے حوالے سے اخلاقی کوتاہیاں کیوں ہیں؟‘ وہ جو کچھ بھی کر رہے تھے اس کا جواز بھی دے رہے تھے۔

سوال: ظاہر ہے آپ کو ان کے ساتھ لمبے عرصے تک کھیلنا پڑا؟

جواب: بالکل۔ میں اس وقت بھی تبلیغ کر رہا تھا، میں اس وقت بھی کہہ رہا تھا کہ میں اس تحریک سے کس قدر مخلص ہوں۔

سوال: یہ ضرور مشکل ہوگا، کیونکہ کچھ صورتوں میں آپ تبلیغ کر رہے تھے، آپ ایک بار پھر ان برے عوامل کا مذہبی جواز پیش کر رہے ہیں جن کے بارے میں آپ جانتے تھے وہ اس میں شامل ہیں۔

جواب: جی ہاں، لیکن بالآخر اگر آپ چوہے پکڑنا چاہتے ہیں تو آپ کو سیوریج میں اترنا پڑتا ہے اور خود کو گندا کرنا پڑا ہے۔

سوال: چنانچہ آپ افغانستان میں تھے اور آپ برطانیہ بھی آتے جاتے رہے۔

جواب: جی ہاں۔

سوال: لیکن القاعدہ نے سوچا کہ آپ کو شاید وہ برطانیہ واپس بھیج رہے ہیں؟

جواب: جی ہاں۔ میرے خیال میں یہ اس کی خوبصورتی ہے۔

سوال: چنانچہ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ ان کے لیے کام کر رہے ہیں؟

جواب: جی ہاں۔

سوال: جبکہ آپ دراصل مغرب کے لیے کام کر رہے ہیں؟

جواب: بالکل۔

لندن میں جاسوسی

ایسے میں جب ایمن دین دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے والے بابر احمد، امریکہ میں دہشت گردی کی حمایت کرنے کے جرم میں سزا پانے والے ابو حمزہ، اور اردن میں ایک طویل قانونی جنگ کے بعد دہشت گردی کے الزامات سے بری ہونے والے ابو قتادہ کے بارے میں معلومات اکھٹی کر رہے تھے کئی دوسرے مساجد اور مسلمان معاشروں میں تبلیغ کر رہے تھے۔

سوال: گو کہ آپ خفیہ طور پر کام کر رہے تھے لیکن مشکل تو ہوتی ہو گی، ایک القاعدہ کے اہلکار کی حیثیت سے مسجد میں لوگوں کے سامنے بہروپ بنائے رکھنا، آپ کو انھیں جہاد کے لیے مائل کرنا ہوتا ہوگا؟

جواب : ہاں تاہم اس کی کچھ حدود تھیں۔ میں جانتا تھا کہ میری کچھ حدود ہیں کہ میں انھیں کتنا راغب کر سکتا ہوں۔ آپ کو ترغیب کے لیے کچھ محفوظ عام بول چال کے الفاظ کا استعمال کرنا ہوتا ہے نا کہ مخصوص اکسانے والے الفاظ لیکن زیادہ مشکل کام سات جولائی سنہ 2005 کے بعد کا تھا۔ اس وقت ترغیب سے متعلق قوانین و ضوابط کافی سخت ہو گئے تھے۔

سوال: تو آپ کیا کہہ سکتے تھے اور کیا نہیں کہہ سکتے تھے؟

جواب: آپ خاص تو پر کسی کو جانے کے لیے نہیں سکتے۔ آپ خاص طور پر کسی حملے کے بارے میں نہیں کہہ سکتے۔ آپ شہریوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کر سکتے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کو یہاں محتاط رہنا ہے۔ آپ وہاں بیٹھ کر مغرب کو اس کے لیے اڑا نہیں سکتے۔ آپ وہاں بیٹھ کر سرِ عام قتل و غارت کی بات نہیں کر سکتے۔ آپ کو اپنے الفاظ کے استعمال کے حوالے سے ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔

سوال: کیا آپ نے کبھی کسی کو جہاد کے لیے ترغیب دینے پر پچھتاوا محسوس کیا؟

جواب: ہاں

سوال: کیا ایسا بہت دفعہ ہوا؟

جواب: ہاں کچھ واقعات میں ایسا ہوا۔

سوال: پچھتاوے کی نوعیت کیا تھی، وہ لوگ اس میں کس طرح شامل ہوئے اور ان کا انجام کیا ہوا؟

جواب: میں خوش ہوں کہ کوئی مارا نہیں گیا لیکن ایک واقعے میں ایک شخص طویل عرصے کے لیے قید ہوا۔

سوال: اور اس کے وہاں جانے کے لیے آپ آلۂ کار بنے؟

جواب: میں بھی اس میں شامل تھا لیکن اس کے پیچھے صرف میں ہی نہیں تھا۔

زندگیاں بچانا

دین کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی خودکش حملے اور شہریوں کے خلاف زہر سے کیے جانے والے حملوں کو ناکام بنایا۔ انھوں نے برطانوی انٹیلیجنس کو وہ آلہ بھی دیا جسے نیویارک سب وے پر کیمیائی حملے کے لیے استعمال کیے جانے کا ارادہ تھا۔ ایک موقعے پر اسامہ بن لادن کے نائب ایم الظواہری کے نائب نے یہ حملے نہ کرنے کا اعلان کیا۔

وہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرتے اگر الظواہری یہ نہ کہتے کہ ’نہیں انھیں استعمال مت کرنا۔‘

کیونکہ الظواہری سے یہ کہتے ہوئے اجازت طلب کی گئی تھی ’ہمارے قبضے میں ایک ہتھیار ہے، ہم اس کا استعمال جانتے ہیں، ہمارے پاس اس کے لیے ہدف بھی ہے۔ یہ نیویارک سب وے ہے کیونکہ ہمارے خیال میں سب وے سسٹم میں ہوا کی ترسیل کا نظام ہے اور یہ گیس کو پورے سب وے نظام میں پہچانے کا بہترین ذریعہ ہوگا۔‘ اور الظواہری نے کہا ’نہیں ایسا نہیں کرنا کیونکہ اس کا بدلہ قابو سے باہر ہو جائے گا۔‘

سوال: اس نے یہ سوچ کر تو حملے نہیں روکے ہوں گے کہ یہ ایک غلط اقدام ہوتا؟

جواب: اس نے یہ حملے اس لیے روکے کیونکہ وہ اس کے نتائج سے خائف ہو گیا تھا۔

سوال: تو آپ کے پاس یہ تمام اہم منصوبے آتے تھے، کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ آپ کو یہ منصوبے کیسے بتائے جاتے تھے؟

جواب: خیر میں یہ نہیں بتاؤں گا ، اگر مجھے ایسا کرنے کی اجازت بھی ہوتی۔

سوال: یہ حقیقیت کہ آپ کو منصوبوں میں شامل کیا جاتا ہے ثابت کرتی ہے کہ آپ کو القاعدہ کا اعتماد حاصل تھا؟

جواب: میرا خیال ہے کہ مجھے منصوبوں کا علم ہوتا تھا کیونکہ مجھ میں خاص قابلیت تھی اور میں اس قابلیت کا استعمال کرتے ہوئے حملوں کو ممکن بناتا تھا۔ اسی لیے۔

سوال: یہ القاعدہ کا خیال تھا؟

جواب: ہاں۔

سوال: آپ کی مخصوص قابلیت کیا تھی؟

جواب: میں نہیں بتاؤں گا۔

ایمن دین کبھی القاعدہ اور اب برطانوی انٹیلیجنس کے لیے اہمیت کے حامل ہیں ان کی خفیہ زندگی آٹھ سال قبل اس وقت منظرِ عام پر آئی جب ایک امریکی مصنف نے ان کی شناخت ظاہر کر دی۔