دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو جھڑکنے اورگالیاں دینے والی خاتون

،تصویر کا ذریعہAFP
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر دس لاکھ سے زائد لوگ ایک عمر رسیدہ شامی خاتون کی اس ویڈیو کو دیکھ چکے ہیں جس میں وہ بظاہر دولتِ اسلامیہ کے دو جنگجوؤں کو لعن طعن کر رہی ہیں۔
وہ جھڑکیاں اور گالیاں دیتے ہوئے انھیں کہتی ہیں ’خدا کی جانب لوٹو!‘
معمر خاتون گاڑی کے اندر موجود اس شخص پر گرجتی برستی دکھائی دیتی ہیں جو ان کی ویڈیو بنا رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’کسی کو ذبح مت کرو، تمھیں کوئی ذبح نہیں کرے گا۔۔۔ یہ سب حرام ہے ۔۔۔ نہ تم کچھ جیتو گے نہ ہی بشارالاسد۔‘
یہ کہنے کے بعد ضعیف شامی خاتون شام کی موجودہ صورتِ حال پر بات کرتی ہیں اور لعنت و ملامت کرتی ہیں۔
جواباً وہاں موجود دونوں مرد یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے لیکن خاتون انھیں اپنی بات سنا کر چھوڑتی ہیں۔ بالآخر وہ انھیں ’گدھا‘ کہتی ہیں جس پر وہ ہنسے لگتے ہیں۔
فیس بک پر یہ ویڈیو بنتِ جبیل نامی ویب سائٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہے جو جنوبی لبنان میں قائم ہے اور ملک کی شیعہ اکثریتی آبادی میں مقبول ہے۔
اس ویب سائٹ نے اس ویڈیو کے تعارف میں کہا ہے کہ ’ایک بوڑھی خاتون دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو جھڑک رہی ہیں۔‘
بظاہر لگتا ہے کہ یہ ویڈیو شام میں بنائی گئی ہے تاہم بی بی سی ٹرینڈنگ کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی خاتون کون ہیں اور یہ ویڈیو کس مقام پر بنائی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویڈیو میں چلانے والے مردوں کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے یا وہ کسی اور مسلح گروپ کے رکن ہیں؟
اس حوالے سے بی بی سی ٹرینڈنگ نے معلوم کیا ہے کہ کم ازکم تین ایسی ہی ویڈیوز فیس بک پر جاری ہونے سے چند دن پہلے یو ٹیوب پر اپ لوڈ ہوئی تھیں۔
یو ٹیوب پر ان ویڈیوز کے ٹائٹل مختلف ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ شام کے جنوب مغربی قصبے درا میں پیش آیا جو دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ویڈیو میں موجود جنگجوؤں کا تعلق فری سیرین آرمی سے ہے۔ یہ وہ باغی فوج ہے جس کی پشت پناہی مغرب اور عرب خلیجی ممالک کر رہے ہیں۔
یو ٹیوب پر پیش کی جانے والی کسی بھی ویڈیو میں دولتِ اسلامیہ کا تذکرہ یا حوالہ نہیں تھا اور انھیں وہاں صرف چند سو بار دیکھا گیا۔
یو ٹیوب پر دیکھی جانے والی ویڈیو میں ان میں سے ایک شخص کو ذرا زیادہ دیکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بوسیدہ فوجی پتلون پہن رکھی ہے۔
شامی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چونکہ یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ یہ ویڈیو شام کے کس حصے میں بنی اس لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ بوڑھی خاتون کس جنگجو گروہ سے گفتگو کر رہی تھیں۔
ہم نے بنت جبیل نامی ویب سائٹ کے منتظم حسن بیدون سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ انھیں یہ ویڈیو ای میل کے ذریعے بھجوائی گئی تاہم وہ بھیجنے والے کو نہیں جانتے۔
ویڈیو بھجنے والے نامعلوم شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جنگجوؤں کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے۔
حسن بیدون نے اقرار کیا کہ وہ یقین سے نہیں بتا سکتے ہیں کہ کیا بوڑھی خاتون دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ بات کر رہی تھیں۔ ان کے خیال میں اِن کا تعلق فری سیرین آرمی سے بھی ہو سکتا ہے اور النصرہ فرنٹ سے بھی۔
اس ویڈیو پر دو ہزار سے زائد افراد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور بہت سے ایسے ہیں جنھیں بوڑھی خاتون کے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے ساتھ گفتگو پر شک ہے۔ انھیں میں سے ایک شامی نے لکھا: ’اگر ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہوتا تو وہ انھیں (خاتون کو) مار چکے ہوتے۔‘







