انور ابراہیم کی اپیل پر فیصلہ برقرار

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ملائیشیا کی اعلی ترین عدالت نے حزبِ اختلاف کے رہنما انور ابراہیم کو ایک مرد ملازم کے ساتھ جنسی تعلق کے الزام میں دی جانے والی سزا کو برقرار رکھا ہے۔
ملائیشیا کی مسلمان اکثریتی آبادی میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے تاہم اس الزام کے تحت بہت کم لوگوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے۔
انور ابراہیم پر اپنے ایک مرد ملازم کے ساتھ سنہ 2008 میں جنسی تعلقات قائم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ انھوں نے اپنے خلاف ان الزامات کو ہمیشہ سیاسی مخالفت کے تحت سازش قرار دیا ہے۔
حزب اختلاف کے رہنما کو سنہ 2014 میں پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی اور انھوں نے اس کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
فیصلے سے قبل انھوں نے کہا کہ ’انھیں مجھے جیل بھیجنے کی کوئی وجہ نہ مل سکی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’میں بے قصور ہوں۔ مجھے اس معاملے میں سیاسی طور پر جیل بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میں اس نظام کو جانتا ہوں، میں نے جیل میں وقت گزارا ہے لیکن پھر بھی ہمیں یہ قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہREUTERS
انور ابراہیم کی قیادت میں مئی سنہ 2013 کے انتخابات میں ملائیشیا کی حزبِ اختلاف کافی مستحکم ہوئی تھی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزبِ اختلاف کی تین جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کرنے والے انور ابراہیم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ واحد شخصیت ہیں جو حکومتی اتحاد کے تسلط کو توڑ سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتخابات میں کامیابی کی صورت میں انور ابرہیم ریاست کے وزیرِ اعلیٰ بن سکتے تھے اور یہ ایک مضبوط عہدہ قرار دیا جاتا ہے۔
انور ابراہیم نے کہا ’15 برس بعد یہ لوگ دوبارہ مجھے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں اور اسی لیے یہ بوکھلائے ہوئے ہیں۔‘
67 سالہ انور ابراہیم کی یہ اپیل مسترد کر دی گئی ہے اس لیے وہ سنہ 2018 میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
سنہ 2008 میں انور ابراہیم پر مرد ملازم کے ساتھ جنسی تعلق کا الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ہائی کورٹ نے انہیں مئی سنہ 2012 میں عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کر دیا تھا لیکن حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔
ان پر اس الزام کے تحت دو سال تک مقدمہ چلتا رہا۔ تاہم اس وقت جج ذبی دین دیاح کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے جمع کروائے گئے ڈی این اے کے شواہد قابلِ اعتماد نہیں ہیں اس لیے مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔
حزب مخالف کے مضبوط رہنما

،تصویر کا ذریعہAFP
انور ابراہیم کی دوبارہ سزا پر ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا میں سربراہ فل رابرٹسن نے کہا تھا کہ ’یہ در حقیقت ملائیشیا کی عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے، عدلیہ نے ظاہر کر دیا ہے کہ ملک میں سیاسی مسائل کے سامنے وہ استقامت کا مظاہرہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ 1957 میں ملائیشیا کی آزادی کے بعد سے ملک کی مقتدر جماعت کے لیے انور ابراہیم سب سے بڑے مخالف ہیں۔
انور ابراہیم بھی پہلے اسی حکومتی اتحاد کا حصہ تھے لیکن بعد ازاں وہ وہاں سے نکال دیے گئے اور انھیں 1998 میں برطرف کر دیا گیا۔ ان پر اغلام بازی اور بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا اور اختیارات کے غلط استعمال پر چھ برس قید کی سزا سنائی گئی۔
سنہ 2000 میں ان پر اغلام بازی کی فردِ جرم عائد کی گئی۔ ان پر اپنی اہلیہ کی ڈرائیور کے ساتھ جنسی تعلق کا الزام تھا۔
سنہ 2004 میں ملائیشیا کی سپریم کورٹ نے اس سزام کو کالعدم قرار دے کر انھیں رہا کر دیا تھا۔
وہ سنہ 2008 اور 2013 کے انتخابات میں حزبِ اختلاف کے مضبوط رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تھے۔







