کیوبا: فیدل کاسترو کی نئی تصاویر

،تصویر کا ذریعہReuters
کیوبا کے سرکاری میڈیا نے تقریباً چھ ماہ میں پہلی مرتبہ سابق صدر فیدل کاسترو کی تصاویر شائع کی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ تصاویر جنوری میں اتاری گئی تھیں اور ان کی اشاعت 88 سالہ کاسترو کی صحت کے متعلق حالیہ خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔
فیدل کاسترو کو ایک سال سے زیادہ عرصہ سے کسی عوامی اجتماع میں نہیں دیکھا گیا۔
ان نئی تصاویر میں کاسترو ہوانا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر طالب علم رہنما رینڈی پرڈومو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
افواہوں کی تردید
فیدل کاسترو نے کیوبا پر تقریباً نصف صدی تک حکومت کرنے کے بعد اپنی گرتی ہوئی صحت کے باعث 2006 میں اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کو سونپ دیا تھا۔ ان کی موت کی افواہیں گذشتہ دس برس میں کئی بار گردش کرتی رہی ہیں۔
ابھی چند ہی ہفتے پہلے کاسترو نے اپنی موت کی افواہوں کی تردید کرنے کے لیے سابق فٹبالر دیاگو میراڈونا کو ایک خط ارسال کیا تھا۔
سرکاری اخبار گرانما اور دیگر سرکاری ویب سائٹوں پر شائع کیے گئے ایک طویل مضمون میں طالب علم رہنما رینڈی پرڈومو نے کاسترو سے اپنی ملاقات کا احوال بیان کیاہے۔
پرڈومو کے مطابق یہ ملاقات 23 جنوری کو ہوئی تھی جس کے دوران انھوں نے کاسترو کے ساتھ تین گھنٹوں سے زیادہ دیر تک ’پر لطف‘ گفتگو کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ملاقات کی 20 سے زائد تصاویر شائع کی گئی ہیں جن میں کاسترو کی صحت اچھی دکھائی دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
ایک تصویر میں کاسترو اخبار پڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ایک اور تصویر میں وہ پرڈومو کی جانب سے تحفے میں دی گئی ایک یادگاری پلیٹ دیکھ ہے ہیں۔
پرڈومو کا کہنا ہے کہ انھوں نے فیدل کاسترو سے اس لیے رابطہ کیا تھا تاکہ انھیں اپنی سٹوڈنٹ یونین کے اس منصوبے کے متعلق بتا سکیں جو کاسترو کے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی 70ویں سالگرہ منانے کے بارے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کے کاسترو کے گھر جانے کی دعوت پا کر وہ حیران رہ گئے تھے۔
پرڈومو کا کہنا ہے کہ انھوں نے انقلابی رہنما فیدل کاسترو کو ’زندگی سے بھر پور، ذہین گفتگو‘ کرتے ہوئے اور کئی موضوعات کے بارے میں متجسس پایا۔







