ایک پیرس حملہ آور کو خفیہ مقام پر دفنا دیا گیا

سعید کواچی نے اپنے بھائی شریف کواچی کے ہمراہ میگزین چارلی ایبڈو میں بارہ افراد کو ہلاک کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسعید کواچی نے اپنے بھائی شریف کواچی کے ہمراہ میگزین چارلی ایبڈو میں بارہ افراد کو ہلاک کیا تھا

چارلی ایبڈو میگزین پر حملہ کرنے دو بھائیوں میں سے ایک سعید کواچی کو فرانس کے شمالی شہر ریمز میں خفیہ طور پر دفنا دیاگیا ہے۔

ریمز شہر کے میئر نےپہلے سعید کواچی کی اپنے شہر میں تدفین کی مخالفت کی تھی۔ میئر کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ شدت پسندوں کو ایک مزار مل جائے۔

لیکن میئر نے اپنے موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے سعید کواچی کو ریمز میں دفنانے کی مخالفت ختم کر دی تھی۔ میئر نے کہا کہ حکومت نے انھیں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے حملوں میں سترہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جس میں 12 چارلی ایبڈو میگزین پر حملے میں ہلاک ہوئے۔

دوسرے حملہ آور کو شریف کواچی کو پیرس کے مضافات میں اس کی پیدائش والے قصبے ژنویلیا میں کسی وقت دفنایا جائےگا۔ احمدے کولیبلی جس نے کوشر مارکیٹ میں چار افراد کو ہلاک کیا تھا، کو دفنائے جانے کا وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

احمدے کولیبلی پر شبہہ تھا کہ اس نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو بھی ہلاک کیا تھا۔

اس سے پہلے ریمزکے میئر آرنو روبنٹ نے دو ٹوک انداز میں سعید کواچی کے خاندان کی طرف سے دفنانے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

میئر آرنو روبنٹ نے سنیچر کے روز ایک ٹیلیوژن کو بتایا کہ انھیں حکومت نے مجبور کیا کہ وہ سعید کواچی کو شہر میں دفنانے کی درخواست کو منظور کر یں۔ انھوں نے بتایا کہ حملہ آور کو گزشتہ رات ایک نامعلوم مقام پر انتہائی احتیاط کے ساتھ دفنا دیاگیا ہے۔

دوسرے شہروں کی طرف ریمز میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے پیرس حملوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

سعید کواچی کی بیوہ نے اپنے وکیل کے ذریعے کہا ہے کہ وہ اس خدشے کے پیش نظر اپنے شوہر کی تدفین سے دور رہی ہیں کہ صحافی ان کا پیچھا کر کے قبر کا پتہ چلا لیں گے۔