فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کےالزامات کے ’جائزے‘ کا آغاز

،تصویر کا ذریعہAFP
ہیگ میں انٹرنشینل کرمنل کورٹ (جنگی جرائم کی عالمی عدالت) نے ابتدائی جائزے کا آغاز کردیا ہے کہ آیا فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب کی تفتیش کی جائے یا نہیں۔
جنگی جرائم کی عالمی عدالت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’فلسطین کی صورتحال پر ابتدائی جائزے کا آغاز کیا گیا ہے‘۔
ہیگ میں جنگی جرائم کی عالمی عدالت کی پراسیکیوٹر فاتو بینسودا کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق فلسطین کی صورتحال پر ابتدائی جائزے کا آغاز ہوگیا ہے۔ ابتدا میں عدالت جون 2014 کے بعد فلسطینی علاقوں میں ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات کا جائزہ لے گی۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ابتدائی جائزہ غیر جانبدارانہ اور آزادانہ ہوگا جو کہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا انٹرنیشنل کرمنل کورٹ جنگی جرائم کی باقاعدہ تفتیش کرے گی یا نہیں، چاہے ان جرائم کا ارتکاب اسرائیل نے کیا یا فلسطین نے۔
پچھلےماہ اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطین کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی رکنیت دیے جانے کا بعد انٹرنشینل کرمنل کورٹ کی طرف سے فلسطینوں کے خلاف ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات کا جائزہ عدالت کا پہلا اقدام ہے۔
اسرائیل نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کی طرف سے فلسطین کی درخواست کو منظور کرنے کی بھرپور مخالفت کی تھی۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے آئی سی سی اور دیگر 16 عالمی معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط 31 دسمبر کو سلامتی کونسل کی طرف سے ان کی ایک قرارداد رد کیے جانے کے ایک دن بعد کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل اور امریکہ دونوں نے فلسطین کی جانب سے اس قدم کو سخت تنقیق کا نشانہ بنایا۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطین نے تصادم کا راستہ اختیار کیا ہے اور اسرائیل جواب میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہیں بیٹھے گا۔







