’ہارون مونس ایران میں مطلوب تھے‘

،تصویر کا ذریعہEPA

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے 14 سال قبل سڈنی میں ایک کیفے پر حملہ کرنے والے مونس ہارون کو آسٹریلیا سے ملک بدر کرنے کی درخواست کی تھی جس سے آسٹریلیا نے مسترد کر دیا تھا۔

ایران میں پولیس کے سربراہ جنرل اسماعیل احمدی موغدم نے رپورٹروں کو بتایا کہ مونس ایران میں فراڈ کے جرم میں مطلوب تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مونس 1990 کے اواخر میں ملائشیا کے راستے آسٹریلیا فرار ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ مونس اور دو یرغمالی منگل کی صبح اس وقت گولی لگنے سے ہلاک ہوئے تھے جب کمانڈوز نے سڈنی کے ایک کیفے پر دھاوا بولا جہاں 16 گھنٹے سے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

جنرل موغدم نے بتایا کہ ایران میں مونس کو ’منطقی‘ کہ کر پکارا جاتا تھا اور ’وہ 1996 میں ایک ٹریول ایجنسی کے مینیجر تھے جب انھوں نے فراڈ کیا جس کے بعد وہ ملائشیا فرار ہو گئے جہاں سے وہ ایک جعلی نام سے آسٹریلیا فرار ہو گئے۔‘

انھوں نے اضافہ کیا کہ ’چونکہ ہمارا آسٹریلیا کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے اس لیے آسٹریلیا کی پولیس نے انھیں ملک بدر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

مونس نے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی تاکہ وہ مہاجر کا درجہ حاصل کر سکیں جسے جنرل موغدم نے ایک کھیل قرار دیا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیسے مونس کو مختلف الزامات پر ضمانت پر رہا کیا گیا۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سرگرم مذہبی کارکن تھے مگر حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں تھا کہ اُن کے عالمی اسلام پسند تحریکوں کے ساتھ روابط ہیں۔

2009 میں انہیں ایک ہلاک ہونے والے آسٹریلوی فوجی کی بیوہ کو توہین آمیز خطوط لکھنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

2013 میں انہیں اپنی بیوی کے قتل میں شریکِ جرم ہونے پر سزا سنائی گئی جس پر انہیں ضمانت ملی اور ان پر 40 کے قریب جنسی اور نامناسب جنسی حملے کرنے کے الزامات بھی ہیں۔

ان کے سابق وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ مونس نے جنسی حملوں اور قتل میں شریکِ جرم ہونے کے الزام سے ’سختی سے انکار‘ کیا ہے۔