’مذاکرات میں ڈرامہ اہم ہتھکنڈا ہوتا ہے‘

ایران اور چھ عالمی طاقتوں نے جامع جوہری معاہدے کی حتمی مہلت میں آئندہ سال جون تک توسیع کر دی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنایران اور چھ عالمی طاقتوں نے جامع جوہری معاہدے کی حتمی مہلت میں آئندہ سال جون تک توسیع کر دی ہے

گذشتہ سال واشنگٹن میں ایک امریکی اہلکار نے ایران کے جوہری پروگرام پر جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے پہلے صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا تھا کہ ’مذاکرات میں ڈرامہ اہم ہتھکنڈا ہوتا ہے۔‘

درحقیت 2013 کی 24 تاریخ کے ابتدائی گھنٹوں میں بالکل ایسا ہی لگا جس میں خطرناک سفارتی داؤ پیچ کے مقابلے کے دوران مذاکرات میں آنے والے ایک اچانک موڑ سے پہلے ایسا لگا کہ مذاکرات ناکامی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

مذاکرات میں اچانک ہونے والی پیش رفت کے نتیجے میں ایران اور امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پایا جس کے تحت ایران کو حساس جوہری سرگرمیاں روکنے کے بدلے میں اقتصادی پابندیوں میں رعایت دی گئی۔

ایک سال کے بعد ویانا میں جامع معاہدے کے بارے میں ہونے والے مذاکرات کی کوریج کرنے والوں کے لیے بالکل ایسا تھا کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

ویانا میں صحافی دونوں جانب سے مذاکرات میں شامل حکام کے سلے ہوئے منہ سے کچھ کہلوانے کی بھرپور جہدوجہد میں تھے اور اس میں بھرپور کوششیں کر رہے تھے کہ غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر خبروں کا بازار گرم رکھیں۔

جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر شٹائن مائر نے ویانا میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کرنے سے پہلے کہا تھا کہ ’یہ گھنٹے سچ پر مبنی تھے۔‘

جیسے جیسے حتمی مہلت کا وقت قریب آ رہا تھا، ویانا کے اس ہوٹل کی راہداری میں بے چینی بڑھ رہی تھی جہاں مذاکرات میں شرکت کرنے والے زیادہ تر حکام قیام پذیر تھے۔

صحافیوں کی ایک بڑی تعداد ہوٹل کے اندر لابی میں اور باہر جمع تھی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصحافیوں کی ایک بڑی تعداد ہوٹل کے اندر لابی میں اور باہر جمع تھی

جمعے کے روز پہلی بار صحافیوں کو مذاکرات کے کمرے میں جانے اور وہاں سے آنے والے حکام کو روکنے اور ان سے بات کرنے کا موقع ملا۔

لیکن جب ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے آخری لمحات میں مشاورت کے لیے تہران کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا اور امریکی وزیر نے بھی اسی طرح پیرس روانگی کو بھی منسوخ کر دیا تو ہر کسی کے ذہن میں آیا کہ کچھ ہونے والا ہے۔

اگلے روز یعنی سنیچر کو کوئی سفارت کار نظر نہیں آیا اور ماحول تناؤ کا شکار ہو گیا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مذاکرات کے بارے میں بتایا کہ دونوں جانب سے معاہدے پر پہنچنے کے لیے ایک بڑی خلیج موجود ہے اور انھوں نے کہا کہ ’ہم رک گئے ہیں اور گھر جانے کے لیے تیار ہیں۔‘

بظاہر وقت رک گیا تھا لیکن مذاکرات گھڑی کے کام کرنے کی طرز پر جاری تھے، ملاقاتیں ہو رہی تھیں، دارالحکومتوں کو فون کیے جا رہے تھے اور ملاقاتیں ہو رہی تھیں، سفارت کاری جاری تھی لیکن صحافیوں کو لاعلم رکھا جا رہا تھا۔

بہت کچھ ایسا ہی تھا جیسا کہ گذشتہ سال جنیوا کے مذاکرات کے دوران ہوا تھا۔ ویانا کے ہوٹل کے ہال میں صحافیوں کی بھرمار تھی اور وہ فکرمندی میں بہت زیادہ کافی پی رہے تھے اور حد سے مہنگی اشیا کھا رہے تھے کہ کسی طرح سے وقت گزر سکے لیکن ماضی کے برعکس اس بار حکام تک رسائی حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔

ہوٹل پیلس کبرگ میں جاری مذاکرات کے دوران سکیورٹی کے سخت انتطامات تھے اور اصل میں کسی کے لیے ناممکن تھا کہ وہ راہداری میں کسی سفارت کار کو نئی معلومات حاصل کرنے کے لیے روک سکے۔

یہاں تک کہ اگر کسی سفارت کار نے مذاکرات میں شرکت کے لیے آنا ہوتا یا واپس جانا ہوتا تو اگر پہلے سے اس کو مکمل طور پر لوگوں سے خالی نہیں کرا لیا جاتا تو وہ ہوٹل کی تنگ لابی میں پھنس کر رہ جاتا۔

زیادہ تر وزیر وقت کی پابندی کرنے میں شہرت نہیں رکھتے اور بعض اوقات صحافی سکیورٹی کے انچارج سے زیادہ ان کی نقل و حرکت کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتے تھے اور ضمن میں اکثر اوقات طویل انتظار کرنا پڑتا جبکہ ہوٹل کے جن کمروں میں مذاکرات ہو رہے تھے اور مذاکرات کار اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ عمان میں ہونے والا آخری دور میں زیادہ اختلافِ رائے تھا۔ امریکی اہلکار کے بقول کسی پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ دور مذاکرات میں سب سے کم درجے پر تھا۔

امریکی وزیر خارجہ اور ان ان کے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے درمیان بات چیت تلخ ہو گئی تھی اور کسی چیز کے طے نہ ہونے سے پہلے یہ ایک غیر معمولی بات ہے لیکن ویانا میں رویہ تبدیل ہو گیا تھا۔

ویانا میں ملاقاتوں میں تناؤ کم تھا اور توجہ اصل مقصد پر تھی اور دونوں جانب ان اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی جن کو کم کیا جا سکتا تھا۔

ایک ایرانی سفارت نے مذاکرات کے دوران ہونے والی جذباتی بات چیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی راستے کے آخری سرے پر پہنچ جائیں تو آپ اسے محسوس کرتے ہیں۔

مذاکرات کے دوران ایک ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب جمعے کو یہ خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں کہ ایرانی وزیر خارجہ واپس تہران جا رہے ہیں تاکہ وہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے مشاورت کر سکیں۔ اس طرح سے قیاس آرائیاں شروع ہوئیں جس طرح کی ہونی چاہیے تھیں تاہم جب ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے بیان آیا کہ وہ تہران نہیں جا رہے کیونکہ ان کے پاس وہاں بتانے کو کچھ نیا نہیں ہے۔

ویانا میں اگرچہ سفارتی سرگرمیاں عروج پر تھیں لیکن صحافیوں کو معلومات تک رسائی بہت کم تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنویانا میں اگرچہ سفارتی سرگرمیاں عروج پر تھیں لیکن صحافیوں کو معلومات تک رسائی بہت کم تھی

امریکی سفارت کاروں کو صحیح اندازہ نہیں تھا کہ آخر انھوں نے تہران جانے کا ارادہ کیوں تبدیل کیا لیکن ان کے بقول ہر کسی کے پاس مختلف داؤ پیچ ہوتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پیرس کا دورہ منسوخ کرتے ہوئے کئی وجوہات کی وجہ سے ویانا میں ہی ٹھہرنے کا فیصلہ کیا جس میں ایرانی وزیر خارجہ سے علیحدگی میں ایک سے زائد ملاقاتیں شامل تھیں۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق اگر دوسرے موجود نہ ہوں تو چیزوں کو طے کرنا آسان ہو جاتا ہے اس میں اگر ایران کے علاوہ پی پلس فائیو یعنی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبران اور جرمنی شامل ہوں لیکن مرکزی فریق اس میں امریکہ ہی ہے۔

امریکی اہلکار کے مطابق حقیقت میں امریکی وزیر خارجہ کی مذاکرات کرنے کے طریقۂ کار کی چابی ایرانی وزیر خارجہ سے رابطوں میں ہے۔ وہ حقیقی طور پر ذاتی تعلقات کی قدر کرتے ہیں اور یہ کافی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے تہران نہ جانے سے مایوسی میں اضافہ ہوا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایرانی وزیر خارجہ کے تہران نہ جانے سے مایوسی میں اضافہ ہوا

امریکی وزیر خارجہ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ جوہری پروگرام مسئلے کے اچھے اور برے نکات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانیں اور وہ اس ضمن میں فراہم کردہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ پڑھتے ہیں۔

ایرانی سفارت کاروں کا ان کے ملک کی تاریخ کی بنیاد پر مذاکرات کے داؤ پیچ کے حوالے سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ دونوں فریق پیر کی مہلت تک کسی معاہدے پر پہنچنے سے قاصر رہے لیکن مذاکرات میں آئندہ سال جون کے اختتام تک توسیع کر دی گئی۔

مہلت میں اضافے کی تفصیلات پر کام کیا جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر مذاکرات کو عمان منتقل کرنے کے حوالے سے کام ہو رہا ہے اور پہلی بار مذاکرات میں کامیابی کی حقیقی امید پیدا ہوئی ہے۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے آخری دن تک یہ نہیں سوچا کہ اصل میں ایران سے جوہری پروگرام پر ایک جامع معاہدہ ممکن ہے۔