اسامہ کس کی گولی سے ہلاک ہوئے، امریکہ میں تنازع

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی سپیشل فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے تین سال بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے کہ دنیا کے مطلوب ترین شخص کس کی گولی سے ہلاک ہوئے۔
امریکی نیوی سیلز کے سابق اہلکار رابرٹ اونیل نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اسامہ بن لادن کی جس گولی سے ہلاکت ہوئی تھی وہ انھوں نے چلائی تھی۔
تاہم یہ رابرٹ کا یہ دعویٰ اسی ٹیم میں شامل میٹ بسونیٹ کی کتاب میں اس کارروائی کے بارے میں دی گئی معلومات سے متصادم ہے۔
رابرٹ 2012 میں ریٹائر ہوئے اور انھوں نے ایسکوائر میگزین سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کارروائی کے بارے میں بات کی تھی۔
رابرٹ نے اس ماہ ایک ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں اس کارروائی کے بارے میں بات کرنی تھی، لیکن ایک ویب سائٹ نے رابرٹ کی جانب سے اس کارروائی پر کھلے عام بات کرنے کے خلاف احتجاجاً پہلے ہی ان کا نام ظاہر کر دیا۔
رابرٹ کے مطابق وہ اور ایک اور نیوی سیل، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی تیسری منزل پر گئے اور دیکھا کہ اسامہ نے ایک کمرے کے دروازے سے باہر دیکھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
نامعلوم سیل جو اس کارروائی میں پوائنٹ پوزیشن پر تھے، انھوں نے فائر کیا لیکن اسامہ کو گولی نہیں لگی۔
رابرٹ کا کہنا ہے کہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ کمرے میں داخل ہوئے اور انھوں نے اسامہ کے سر پر گولیاں ماریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم میٹ بسونیٹ نے اپنی کتاب ’نو ایزی ڈے‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ پوائنٹ مین (یعنی وہ سیل جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے اسامہ کو ہلاک کیا۔
جمعرات کو این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں میٹ بسونیٹ نے رابرٹ کی جانب سے کارروائی کی تفصیلات کو چیلنج نہیں کیا۔ ’دو مختلف شخص دو مختلف کہانیاں دو مختلف وجوہات کی بنا پر بتا رہے ہیں۔ انھوں نے جو کہنا تھا کہہ دیا ہے، میں اس پر بات نہیں کروں گا۔‘
میٹ بسونیٹ اپنی دوسری کتاب ’نو ہیرو‘ کی اشاعت سے قبل سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس میں آئیں گے۔ میٹ کی دوسری کتاب ان کی نیوی سیلز میں ملازمت کے بارے میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب میٹ اپنی کتاب میں خفیہ معلومات شائع کرنے کے سلسلے میں زیر تفتیش ہیں۔
میٹ اور رابرٹ جو بھی کہیں، اصل حقیقت کئی سال بعد امریکی حکومت کی جانب ہی سے سامنے آئے گی۔
امریکی محکمہ دفاع نے رابرٹ کی جانب سے کیے جانے والوں دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم سینیئر حکام نے پچھلے ہفتے نیوی سیلز کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ آپریشنل معلومات کے بارے میں تبصرہ کرنے سے اجتناب کریں۔
ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کے مکان میں اندھیرے کی وجہ سے نیوی سیلز یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا اس بات کا تعین کرنا ممکن ہے بھی یا نہیں کہ اسامہ بن لادن کی موت کس کی گولی سے ہوئی۔







