’یورپ پر روسی فضائیہ کی غیر معمولی نقل و حرکت‘

،تصویر کا ذریعہReuters
نیٹو کے مطابق گذشتہ دو روز سے یورپ کی فضائی حدود میں روسی فضائیہ کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی جا رہی ہے۔
نیٹو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فضائیہ کے چار گروپوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ روسی فضائیہ کے جہازوں میں ٹی یو 95 بیر بمبار اور مگ 31 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ ناروے، برطانیہ، جرمنی اور ترکی کے لڑاکا طیاروں کو فضا میں بھیجا گیا ہے تاکہ وہ روسی طیاروں پر نظر رکھ سکیں۔
یاد رہے کہ یوکرین کے بحران پر روس اور نیٹو ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ تاہم نیٹو کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں یوکرین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
نیٹو کے مطابق روسی طیاروں کی اتنی تعداد اس فضائی حدود میں غیر معمولی ہے، تاہم اب تک کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی طیاروں کو بحیرۂ اسود اور بحر اوقیانوس پر پرواز کرتے دیکھا گیا ہے۔ ان پروازوں کے ردِ عمل میں نیٹو کے لڑاکا طیاروں کو روسی طیاروں کا تعاقب کرنے کے لیے روانہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سال نیٹو کے طیاروں نے روسی طیاروں کو 100 بار ’انٹرسیپٹ‘ کیا ہے جو کہ پچھلے سال کے ایسے واقعات سے تین گنا زیادہ ہے۔
بیان کے مطابق: ’جب کوئی نامعلوم طیارہ نیٹو کی فضائی حدود کے قریب آتا ہے تو اس کو انٹرسیپٹ کرنا معمول کا عمل ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم نیٹو کے مطابق اس قسم کی پروازیں کمرشل جہازوں کے لیے خطرہ ہیں کیونکہ روسی طیارے اپنا فلائٹ پلان نہیں بتاتے اور جہاز پر نصب ٹرانسپونڈر بند رکھتے ہیں۔







