کوریا: غرقاب جہاز کے کپتان کو سزائے موت کا مطالبہ

جنوبی کوریا میں جہاز کے حادثے کے بعد شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا میں جہاز کے حادثے کے بعد شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا

جنوبی کوریا میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ غرقاب ہونے والے مسافر بردار جہاز کے کپتان کو سزائے موت دی جائے۔

رواں سال اپریل میں جنوبی کوریا کے جزیرے جندو کے قریب پیش آنے والے اس واقعے میں کم از کم تین سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کپتان لی جون سیوک اپنے فرائض سرانجام دینے میں ناکام رہے، اور ان پر قتل کا الزام عائد کیا ہے۔

استغاثہ نے سزائے موت دینے کا مطالبہ اس وقت کیا جب جون سے شروع ہونے والے اس مقدمے کی سماعت اب ختم ہو گئی ہے۔

کشتی کے کپتان نے تسلیم کیا تھا کہ جہاز خالی کرنے کا حکم دینے میں ان سے تاخیر ہوئی کیونکہ انھیں مسافروں کے ڈوب کر بہہ جانے کا خدشہ تھا۔

جنوبی کوریا میں جہاز کے حادثے کے بعد شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور امدادی کارروائی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اپریل میں شمال مغربی علاقے انچیون سے جنوبی سیاحتی جزیرے جیجو کی طرف جا رہی تھی کہ دو گھنٹے کے قلیل وقت میں الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہوگئی۔

ماہرین کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق یا تو اس جہاز کا نچلا ڈھانچہ کسی چٹان سے ٹکرایا تھا یا پھر تیزی سے موڑ کاٹنے کی وجہ سے اس پر لدا سامان کھسک کر ایک طرف چلا گیا اور جہاز کا توازن بگڑ گیا اور یہ ایک طرف کو جھک گیا۔