چین سے ممکنہ جنگ، امریکی بحریہ کی مشقیں

گذشتہ ایک دہائی سے چین کا سب سے اہم سیاسی نعرہ ’پرامن ترقی ہے۔‘ اس کا مقصد چین کے ہمسایوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کوئی خطرہ نہیں ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ایک دہائی سے چین کا سب سے اہم سیاسی نعرہ ’پرامن ترقی ہے۔‘ اس کا مقصد چین کے ہمسایوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کوئی خطرہ نہیں ہے

امریکہ چین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی باتوں کو ترجیح دیتا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ اس کی بحریہ ممکنہ جنگ کی مشقیں کر رہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کی رپورٹ۔

امریکہ کے جوہری طیارہ بردار جہاز پر آپ کو روز روز مدعو نہیں کیا جاتا اور یہ مضمون لکھنے کے بعد مجھے شاید ہی کبھی دوبارہ بلایا جائے۔

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کے عرشے پر اس طرح کا شور سنا جس کا اس سے پہلے مجھے کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا۔ جہاں میں کھڑا تھا اس سے چند فٹ کے فاصلے پر 11 ایف اے 11 سپر ہارنٹ طیارے فضا میں بلند ہونے کے لیے قطار میں لگے ہوئے تھے۔

پہلے طیارہ کو ایک منجنیق کے ساتھ باندھا گیا، اس کے انجن سے شور بلند ہونا شروع ہوا۔ پھر اس 15 ٹن وزنی جہاز کو سفید دھویں کے بادلوں میں عرشے پر دھکیل دیا گیا اور عرشے کے کنارے پر یہ ایک کھلونے کی طرح فضا میں بلند ہو گیا۔

کچھ ہی لمحوں بعد جہاز کا عملہ رنگ برنگی وردیوں میں ملبوس دوسرے جہاز کی اڑان بھرنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔

امریکی جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کا عملہ ایک فرضی جنگی صورت حال کی مشق کر رہا تھا۔

ریئر ایڈمرل مونٹگمری کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایشیا میں اہم کردار ہے
،تصویر کا کیپشنریئر ایڈمرل مونٹگمری کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایشیا میں اہم کردار ہے

امریکی بحریہ کو اتنے قریب سے مشقیں کرتے دیکھ کر یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی متاثرہ نہ ہو۔ دنیا میں کسی دوسرے ملک کی بحریہ کے پاس اس طرح کے جنگلی کھلونے نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی دوسری بحریہ ان کو اتنے اطمینان سے دکھا سکتی ہے۔

لیکن جب میں جہاز کے عرشے پر کھڑا اپنی رپورٹ ’امریکہ چین سے جنگ کرنے کی مشق کر رہا ہے‘ کے ایک حصے کی ریکارڈنگ کر رہا تھا تو میں اپنے میزبان نیوی کے تعلقات عامہ کے افسر کے اضطراب کو محسوس کر سکتا تھا۔

آپ اس طرح کے بیانات سنتے رہتے ہیں کہ امریکی بحریہ کسی ملک کے ساتھ جنگ کی مشق نہیں کر رہی۔ لیکن امریکی بحریہ نے گوام کے ساحل کے قریب دو طیارہ بردار جہاز اور جنگی گروپ اور دو سو طیارے کسی تفریح کے لیے اکٹھے نہیں کر رکھے۔

یہ سب کچھ ان مشقوں کا حصہ ہے جسے امریکی وزارتِ دفاع نے’فضائی اور سمندری جنگ‘ کا نام دے رکھا ہے۔

یہ تصور سنہ 2009 میں پیش کیا گیا تھا اور یہ خصوصی طور پر چین کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

کچھ دیر بعد میں جہاز کے بریج پر ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری کے ساتھ کھڑا تھا جو ’کریئر سٹراک گروپ فائیو‘ کے کمانڈر ہیں۔ ان کی کمان میں بحریہ اینٹی ایکسس ایریا ڈینائل‘ کی مشق کر رہے ہیں۔

ریئر ایڈمرل مونٹگمری کا کہنا تھا کہ گذشتہ 70 سال سے امریکی بحریہ خطے میں استحکام کی ضامن ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ امریکی بحریہ کی صلاحیت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی سمندر میں بغیر کسی رکاوٹ کے کارروائی کرنے کی بات کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کئی ملک ایسے ہتھیار تیار کر رہے ہیں جس سے کچھ علاقوں میں رسائی ممکن نہ ہو لیکن وہ اپنی حکمت عملی، تکنیک اور طریقے اختیار کر رہے ہیں کہ ان کی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ ملکوں کے پاس سیٹلائٹس کو تباہ کرنے یا ان کے مواصلاتی نظام کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس لیے امریکی بحریہ ایسی صورت حال میں کام کرنے کی مشق کر رہی ہے جس میں انھیں مواصلاتی نظام کی مدد حاصل نہ ہو۔

چین کی پیپلز لیبریشن آرمی کی بحریہ کا امریکی بحریہ سے کوئی مقابلہ نہیں ہے اور ایک طویل عرصے تک ایسا ممکن بھی نہیں ہے۔ اسی لیے چین ایسے ہتھیاروں پر کام کر رہا ہے جن کے ذریعے وہ امریکی بحریہ کو چین کے ساحلوں سے دور رکھ سکے۔

ان میں جدید خاموش آب دوزیں اور طویل فاصلے پر مار کرنے والے ہائپر سونک اینٹی شپ میزائل شامل ہیں۔ غالباً ان میں سب سے زیادہ خطرناک درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے بیلیسٹک میزائل ہیں جنہیں ’کریئر کلر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بظاہر ایک اشارے پر الارم کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ آوازیں بلند ہوتی ہیں ’یہ ڈرل ہو رہی ہے۔ بلیک سموک بلیک سموک۔‘

جارج واشنگٹن ایک فرضی حملے کی زد میں ہے۔ جہاز کے ایک حصہ پر آگ لگنے کی خبر دی جاتی ہے۔ آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوتی ہے۔

امریکی بحریہ نے دو طیارہ بردار جہاز چین کے ساحلوں کے قریب تعینات کر رکھے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی بحریہ نے دو طیارہ بردار جہاز چین کے ساحلوں کے قریب تعینات کر رکھے ہیں

گذشتہ ایک دہائی سے چین کا سب سے اہم سیاسی نعرہ ’پرامن ترقی ہے۔‘ اس کا مقصد چین کے ہمسایوں کو یہ یقین دلانا ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کوئی خطرہ نہیں ہے۔

لیکن جب سے صدر شی جن پنگ اقتدار میں آئے ہیں ایک واضح تبدیلی آئی ہے۔ چین اپنے ساحلوں سے دور بھی اپنا دعووں پر زور دے رہا ہے۔

چین کے مشرقی سمندروں میں اس کے بحری جہاز زیادہ جارحانہ انداز میں گشت کر رہے ہیں۔ چین بحیرۂ جنوبی چین میں نئے جزیروں کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

اس سال اگست میں چین کے لڑاکا طیاروں نے امریکہ کے ایک نگران طیارے کو بین الاقوامی فضائی حدود میں آ لیا اور امریکی بحریہ کے بقول 20 فٹ قریب آ کر اسے پریشان کرتے رہے۔

ریئر ایڈمرل مونٹگمری کے بقول اس صورت حال میں امریکی بحریہ کا کردار اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔