’ہینز کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے‘

44 سالہ ہینز گذشتہ برس شام میں امدادی سامان کی فراہمی کے دوران اغوا کر لیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہepicture

،تصویر کا کیپشن44 سالہ ہینز گذشتہ برس شام میں امدادی سامان کی فراہمی کے دوران اغوا کر لیے گئے تھے۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے مغوی برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کی ہلاکت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے برائی کا ایک واضح فعل قرار دیا ہے۔

امریکی صدر براک اوبامانے کہا ہے کہ برطانوی شہری ڈیوڈ ہینز کے ظالمانہ قتل کی شدید مذمت کرتا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کے بیان سے پہلے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند گروہ دولتِ اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی۔

ویڈیو میں میں مبینہ طور پر برطانوی مغوی کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ ایک دوسرے برطانوی مغوی شہری کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق وہ اس ویڈیو کی ہنگامی طور پر تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک معصوم امدادی کارکن کا قتل’ قابلِ نفرت اور ہولناک ہے۔‘

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت کے دوران وجود میں آنے والی دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام میں صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت کے دوران وجود میں آنے والی دولت اسلامیہ نے شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے

’یہ برائی کا واضح فعل ہے، میری ہمدردیاں ڈیوڈ ہینز کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں جنھوں نے اس ساری آزمائش میں غیر معمولی ہمت اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے اختیار میں جو کچھ بھی ہوا وہ کریں گے اور قاتلوں کو پکڑیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ وہ انصاف کا سامنا کریں، چاہیے اس میں کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ جائے۔‘

برطانوی وزیراعظم نے سلامتی سے متعلق کمیٹی ’کوبرا‘ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

اس سے پہلے ڈیوڈ ہینز کے اہلخانہ نے دولتِ اسلامیہ سے اپیل کی تھی کہ وہ ان سے رابطہ کریں۔

ڈیوڈ ہینز کے اہلِ خانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ امریکی صحافیوں کو ہلاک کرنے والے شدت پسند ان کے پیغامات کا جواب نہیں دے رہے۔

44 سالہ ہینز گذشتہ برس شام میں امدادی سامان کی فراہمی کے دوران اغوا کر لیے گئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ نے امریکی فضائی حملوں کے ردعمل میں انھیں ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ دھمکی ایک آن لائن ویڈیو میں دی گئی تھی جس میں امریکی صحافی سٹیون سوتلوف کی ہلاکت کو دکھایا گیا تھا۔