ترکی جاگا یا ابھی تک۔۔

- مصنف, مارک لوون
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ترکی
دولت اسلامیہ کی جنگ میں ایک سرحد ایسی ہے جو کپاس کے کھیتوں اور اور زیتون کے باغات کے عین درمیان سے گزرتی ہے۔ اس سرحد کی ایک جانب نیٹو کا ایک طاقتور رکن ہے جبکہ دوسری جانب وہ ملک جو اسلامی شدت پسندوں کی نہ ختم ہونے والی کارروائیوں سے نبرد آزما ہے اور جہاں مغربی ممالک کی فوجیں داخل ہوا چاہتی ہیں۔
ترکی کا دعویٰ ہے کہ شام کے ساتھ اس کی 560 میل سرحد ہی دراصل وہ لکیر ہے جس نے دولت اسلامیہ اور شام میں لڑنے والے دوسرے جہادی گروہوں کو روک کر رکھا ہوا ہے۔ لیکن ترکی کا ماضی کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔
شام میں گذشتہ ساڑھے تین سال سے جاری لڑائی میں ترکی ہی وہ ملک رہا ہے کہ جہاں سے جنگجوؤں کو اسلحہ جاتا رہا ہے اور غیر ملکی جنگجو بھی ترکی کے راستے ہی شام میں داخل ہوتے رہے ہیں۔
اس تمام عرصے میں ترکی نے جو حکمت عملی اپنائے رکھی اس کا ایک ہی مطلب تھا کہ اسے شام میں سب کچھ قبول ہے سوائے صدر بشارالاسد کے، لیکن گزشتہ چند ماہ میں صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔ جون میں دولتِ اسلامیہ نے عراق کے شہر موصل میں ترک سفارتکاروں اور ان کے خاندانوں کے 49 افراد کو اغوا کر لیا جو ابھی تک دولتِ اسلامیہ کی قید میں ہیں۔
لگتا ہے کہ اس واقعے، اور پھر عراق اور شام کے وسیع علاقوں میں دولت اسلامیہ کے تیز پھیلاؤ نے ترکی کو جگا دیا ہے۔ اب ترکی نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔
ترک فوج نے ملک کے شمال میں ’ہاتے` کے علاقے میں سرحد کی نگرانی بھی سخت کر دی ہے۔ سرحد کے قریب ہی تعینات ایک بٹالین کے کمانڈر کرنل امید درماز اس اعتراض کو مسترد کرتے ہیں کہ ترکی نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں تاخیر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جیسے ہی جنگ شروع ہوئی، ہم نے سرحد پر اقدامات شروع کر دیے تھے۔‘
میں نے کمانڈر سے پوچھا کہ آیا ترکی اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ یورپ کو دولتِ اسلامیہ کے خطرے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ان کا جواب تھا کہ ’اس سرحد کو عبور کرنا ناممکن ہے، اس لیے میں یورپ کو کہتا ہوں کہ ہم پر بھروسہ کریں۔ دولتِ اسلامیہ یا کوئی دوسرا گروہ ہماری سرحد پر حملہ نہیں کر سکتا اور اگر ان میں سے کوئی ایسا کرتا ہے تو ہم پوری قوت سے جواب دیں گے۔ یہاں پر ہمار کنٹرول ہے، کسی دوسرے کا نہیں۔‘
بظاہر اس سرحد پر آپ کو زیادہ ہلچل نظر نہیں آتی۔ کرنل امید درماز کہتے ہیں کہ روزانہ تقریباً دس، پندرہ سمگلروں سے ان کا پالا پڑتا ہے جو تیل یا سگریٹ سمگل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں اکثر ان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کرنا پڑتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’چونکہ سرحد کی دوسری جانب کسی حکومت کا زیادہ اختیار نہیں، اس لیے ہر کسی کو اسلحہ آسانی سے مل جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ترکی اور شام کی اس سرحد کے ذریعے گذشتہ مہینوں میں ہزارہا پناہ گزین شام سے فرار ہو چکے ہیں۔صرف اس سال جنوری سے اب تک، ترک فوج 17 ہزار افراد کو پکڑ چکی ہے جو شام سے سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی نے شام کے ساتھ سرحد پر سختی میں اضافہ کیا ہے۔
اگرچہ سرحد عبور کرنے والوں کی اکثریت شامی فوج اور باغی گروہوں کے ستائے ہوئے شامی لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اس راستے وہ غیر ملکی جنگجو بھی آ جا رہے ہیں شام میں مختلف متحارب گروہوں کی جانب سے لڑ رہے ہیں۔
جن 9 ہزار افراد کو ترک فوج نے شام میں داخل ہوتے ہوئے پکڑا، ان میں 15 مختلف ممالک کے شہری شامل تھے جن میں صومالیہ، ڈنمارک اور فرانس بھی شامل ہیں۔
ماضی میں ہاتے کے ہوائی اڈے پر اترنے والی پروازیں غیر ملکی جنگجوؤں سے بھری ہوئی ہوتی تھیں جو بلا روک ٹوک اس سرحد کو عبور کر کے شام میں داخل ہو جاتے تھے۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔







