سعودی عرب: ایک پاکستانی سمیت دو افراد کے سر قلم

ان دو افراد کے سر قلم کرنے کے ساتھ رواں سال سعودی عرب نے 48 افراد کے سر قلم کیے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنان دو افراد کے سر قلم کرنے کے ساتھ رواں سال سعودی عرب نے 48 افراد کے سر قلم کیے ہیں

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں ایک پاکستانی، اور قتل کے الزام میں ایک سعودی باشندے کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق پاکستانی باشندے کامران غلام عباس کو منشیات کی سمگلنگ کی پاداش میں ملک کے مشرقی صوبے میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کامران غلام عباس کا سر مشرقی صوبہ خبار میں قلم کیا گیا۔

دوسری جانب سعودی باشندے خلف العنزی کو شمالی علاقے حیل میں سزائے موت دی گئی۔ خلف العنزی کو ایک شخص کے قتل میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ان دو افراد کی سزائے موت ساتھ رواں سال سعودی عرب نے 48 افراد کے سر قلم کیے ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس کیس کی بنیاد ملزموں کے اقبالی بیانات پر رکھی گئی ہے جو تشدد کر کے حاصل کیے گئے تھے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں سزائے موت کے استعمال میں تیزی آئی ہے جو پریشان کن ہے۔

2013 میں سعودی حکام نے 79 افراد کو یہ سزا دی تھی ۔ ان میں سے تین مجرم ایسے تھے جن کی عمر جرم کے وقت 18 سال کی عمر سے کم تھی۔