بچوں نے کیسے دولت اسلامیہ کو پسپا کیا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, گیبریل گیٹ ہاؤس
- عہدہ, بی بی سی نیوز، عراق
تین ماہ کے بعد شمالی عراق کے شہر امرلی کے باسی دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے عارضی طور پر شہر سے پسپا ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ جنگ کے باعث بچھڑے ہوئے خاندانوں کے دوبارہ ملنے کے مناظر جذباتی ہیں۔
علی صدام حسین کی فوج کے سابق افسر ہیں اور ان کا تعلق امرلی کے شیعہ اقلیتی ترکمان قبیلے سے ہے جن کے آس پاس سنیوں کے گاؤں آباد ہیں۔
علی اب ایران کے سرمائے اور تربیت سے چلنے والی شیعہ ملیشیا بدر بریگیڈ کے کمانڈر ہیں۔
نقشے پر انگلی رکھ کر علی نے ہمیں بتایا کہ ’یہ سو فیصد محفوظ روڈ ہے، ہم اس وقت یہاں ہیں، یہ امرلی ہے، اور دولت اسلامیہ یہاں ہے۔‘ نقشے پر تو دولت اسلامیہ کے شدت پسند ہمارے کافی قریب دکھائی دیے۔
ہم جنگجوؤں اور اسلحے سے لیس علی کے ٹرک کے پیچھے روانہ ہو گئے۔
امریکی فضائیہ کی بمباری کی مدد سےصرف ایک دن قبل ہی شیعہ ملیشیا نے دولت اسلامیہ کا تین ماہ پر محیط محاصرہ توڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ہم نے دولت اسلامیہ کے باقی ماندہ شدت پسندوں سے بچنے کے لیے ریگستان سے گزرنے والا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ہماری آمد چھپ نہیں سکتی کیونکہ چار گاڑیوں پر مشتمل ہمارے قافلے سے اٹھنے والا گرد و غبار شاید میلوں دور سے نظر آ رہا ہو گا۔
علی پراعتماد تھے کہ انھیں دولت اسلامیہ کے جنگوؤں کی درست جگہ کا پتہ ہے، لیکن میں اس بارے میں ابہام کا شکار تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارا قافلہ سلیمان بیگ نامی گاؤں کے پاس رک گیا، جہاں روڈ پر جلی ہوئی گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ کچھ فاصلے پر سیاہ دھواں اٹھتا نظر آ رہا تھا۔
اتنے میں پے در پے دھماکے سنائی دیے۔ علی نے ہمارے قافلے کا رخ واپس اسی طرف موڑ دیا جہاں سے ہم آئے تھے۔ پھر بغیر ہمیں بتائے دوبارہ راستہ تبدیل کر دیا گیا اور ہم ایک تباہ شدہ عمارت کی جانب روانہ ہو گئے۔
اس دوران میں دولت اسلامیہ کی جانب سے پکڑے جانے اور امریکی صحافیوں کی طرح مارے جانے کے خوف کو جھٹلانے کی کوشش کرتا رہا۔ میں نے یہ پوچھنے کی کوشش کی کیا ہم راستہ بھول گئے ہیں؟ کوئی جواب نہ ملا۔
قافلہ پھر رک گیا اور علی ہماری طرف دیکھ کر چیخا کہ ’ہماری گاڑی کے راستے پر ہی چلو۔‘ ہم پھر رک گئے اور قافلے کو واپس موڑ دیا گیا۔ پھر کیا ہوا؟ میں نے پوچھا، کسی نے چلا کر جواب دیا، ’بارودی سرنگیں۔‘
اور ہم آخر کار امرلی پہنچ ہی گئے۔ نوجوان، بچے، خواتین، بزرگ چھوٹی ٹولیوں میں شیعہ برادری کے مخصوص جھنڈے ہاتھوں میں لیے سڑک کے آس پاس کھڑے تھے۔ ان کے چہروں سے خوف عیاں تھا۔ میں بے صبری سے ان سے یہ سوال پوچھنے کے انتظار میں تھا کہ جب آس پاس کا تمام علاقہ دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہے لیکن انھوں نے کیسے شدت پسندوں کا محاصرہ توڑا؟
بہت سے لوگ جان بچا کر امرلی سے نکل گئے تو دولت اسلامیہ کے خلاف کون اور کیسے لڑا؟ اور اس تمام وقت کے دوران وہ کہاں سے کھاتے اور پیتے تھے؟ لیکن علی یہاں نہیں رکا اور سیدھے اپنے والدین کے دروازے پر پہنچ گیا۔ اس نے زور سے دستک دی اور وہ چلایا بھی لیکن کسی نے دروازہ نہیں کھولا۔
میں بھی گھبرا گیا کہ اتنے مشکل اور سخت سفر کے بعد اب شاید علی کو ایک دردناک خبر ملے گی۔ لیکن جلد ہی پتہ چلا کہ علی کی والدہ نے قریب ہی ایک رشتہ دار کے ہاں پناہ لے لی تھی۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہی گلے لگایا اور زار و قطار رونے لگے۔ تین ماہ بعد اپنی والدہ کو دیکھ کر علی ان کے قدموں میں گر گیا۔ جلد ہی علی کے رشتہ داروں اور اہلیان علاقہ ان سے ملنے کے لیے امڈ آئے۔ ان لوگوں میں کلاشنکوف تھامے علی کے دس اور 12 سالہ بھتیجے عبداللہ اور عبدالہادی بھی شامل تھے۔

’یہ محاصرہ تڑوانے کے ہیرو ہیں،‘ علی نے اپنے بھتیجوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
پہلے تو میں نے علی کی بات کو ایک جذباتی بیان ہی سمجھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جدید امریکی اسلحے سے لیس اور امریکی تربیت یافتہ، عراقی فوج اگر دولت اسلامیہ کے پر تشدد اور بے خوف شدت پسندوں کا مقابلہ نہ کر سکی تو یہ کم سن بچے کیسے ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟
لیکن حقیقت میں امرلی میں کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ انھیں نہ صرف دولت اسلامیہ سے لڑنا تھا بلکہ امرلی کے گرد و نواح میں موجود سنیوں نے بھی ان کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اور ایسے میں تو عمر سے بالاتر امرلی کے ہر باسی نے لڑنا ہی تھا۔
دنیا میں سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والا یہ ہتھیار کلاشنکوف اب امرلی کے بچوں کے لیےخوف نہیں بلکہ فخر کی علامت بن چکا ہے۔







