عراق: ’ناقابل یقین غیر انسانی کارروائیوں‘ کا ارتکاب

کم از کم 2,250 یزیدی خواتین اور بچوں کو دولت اسلامیہ نے اغوا کر رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکم از کم 2,250 یزیدی خواتین اور بچوں کو دولت اسلامیہ نے اغوا کر رکھا ہے

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ عراق سے ’ناقابل یقین حد تک غیر انسانی کارروائیوں‘ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ذیلی ادارے ہیومن رائٹس کمیشن کی نائب کمشنر فلاویا پانسیری کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے عراق میں سوجھے سمجھے منصوبے کے تحت عام شہریوں پر منظم حملے کیے ہیں۔ ان غیر انسانی کارروائیوں میں لوگوں کو ہدف بنا کر قتل کرنا، زبردستی اُن کا مذہب تبدیل کروانا، غلامی، جنسی استحصال اور پوری پوری بستیوں کو محصور کر دینے جیسی حرکات شامل ہیں۔

فلاویا پانسیری کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کو اس بات کے بھی ثبوت ملے ہیں کہ عراقی فوجیوں نے بھی مغوی افراد کو موت کے گھاٹ اتارا اور شہری علاقوں پر بمباری بھی کی ہے۔

گدشتہ چند ماہ میں جب سے دولتِ اسلامیہ اور اس کے حامی سنی باغیوں نے شمالی اور مغربی عراق میں کئی علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے، عراق میں بد امنی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس عرصے میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً دس لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

نسل کشی

دولت اسلامیہ نےمبینہ طور پر یزیدی افراد کو قبول اسلام کرتے ہوئے دکھایا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشندولت اسلامیہ نےمبینہ طور پر یزیدی افراد کو قبول اسلام کرتے ہوئے دکھایا تھا

اپنے اجلاس میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے فوری طور پر اپنے ماہرین کی ایک ٹیم عراق روانہ کرنے پر بھی بحث کی تا کہ وہ اس بات کا تفصیلی جائزہ لے سکے کہ آیا عراق میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پانسیری کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے اہلکار پہلے ہی اس بات کے ’مضبوط شواہد‘ جمع کر رہے ہیں کہ دولت اسلامیہ کے زیر اثر علاقوں میں بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

نائب کمشنر برائے انسانی حقوق کا مزید کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ نے عراق میں عیسائی، یزیدی، ترکمانی، شابک، کاکائی اور شیعہ کمیونٹی سمیت تمام مذہبی اور نسلی گروہوں کو جس طرح ’انتہائی بہیمانہ تشدد‘ کا نشانہ بنایا ہے آپ اسے نسل کشی کہہ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ دولتِ اسلامیہ نے ایسی تصاویر شائع کی تھیں جس میں مبینہ طور پر یزیدی افراد کو قبول اسلام کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق کئی یزیدی لوگوں کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ دیگر کا گھیراؤ کر کے انھیں کھانے پینے اور ادویات سے محروم کر دیا گیا ہے۔

حکومت کے حامی ملیشیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سنی مسجد پر حملے میں کئی افراد کو ہلاک کر دیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنحکومت کے حامی ملیشیا پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سنی مسجد پر حملے میں کئی افراد کو ہلاک کر دیا

دولتِ اسلامیہ کے زیرعتاب مختلف عقیدوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد گزشتہ عرصے میں عراق کے دور دراز علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں جہاں سے غیر مصدقہ اطلاعات میں کہا جا رہا ہے کہ بے شمار بچے، بوڑھے اور معذور افراد بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔

یزیدیوں کو دولتِ اسلامیہ خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے اور کئی یزیدی مردوں کو اسلام قبول نہ کرنے کے جرم میں جان سے مارا جا چکا ہے جبکہ ان کی نوجوان لڑکیوں کو بطور غلام دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم از کم 2,250 یزیدی خواتین اور بچوں کو دولتِ اسلامیہ نے اغوا کر رکھا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں حکومت کی حامی ملیشیا پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے دیالہ صوبے میں ایک سنی مسجد پر حملے میں کئی افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ پانسیری کا کہنا تھا کہ عراقی سکیورٹی اہلکار اور دولتِ اسلامیہ کے مخالف جنگجو بھی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔