عدم اعتماد کا ووٹ، اراکین کے لیے بحری جہاز

گُڈ ماننگ لیبیا نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کی جانے والی تصویر جس میں یہ بحری جہاز دکھایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہGood Morning Libya

،تصویر کا کیپشنگُڈ ماننگ لیبیا نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کی جانے والی تصویر جس میں یہ بحری جہاز دکھایا گیا ہے

لیبیا کی حکومت نے بظاہر لگتا ہے کہ اپنے ممبرانِ پارلیمان کے لیے ایک بحری جہاز کرائے پر لیا ہے۔

اس بحری جہاز کے کرائے پر لینے کا مقصد عبوری حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے پہلے ممبرانِ پارلیمان کو ٹھہرانے کے لیے ایک ’تیرتے ہوئے ہوٹل‘ کا کام لینا ہے۔

اس بحری جہاز کو حال ہی میں تبروک کی بندرگاہ کے قریب دیکھا گیا تھا، مگر لیبیا ہیرلڈ اخبار کے مطابق سیاست دانوں نے اس میں منتقل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم دوسری اطلاعات کے مطابق بحری جہاز میں صحافیوں اور دوسرے مہمانوں کو عدم اعتماد کی کارروائی کے دوران ٹھہرایا جائے گا۔

لیبیا کی پارلیمانی سیٹلمنٹ کمیٹی کے سربراہ فراج نجم نے کہا کہ ’یہ تیرتا ہوا ہوٹل ایک خصوصی بحری جہاز ہے جس میں پارلیمانی معاونین اور صحافیوں کو ٹھہرایا جائے گا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’نائبین تبروک کے دارالسلام ہوٹل میں ٹھہریں گے نہ کہ بحری جہاز پر۔ اور اس بحری جہاز کو کرائے پر لینے کی وجہ یہ تھی کہ بن غازی میں سب کے لیے ہوٹلوں کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔‘

لیبیا کی عبوری حکومت مئی میں بنائی گئی تھی۔

لیبیا کی پارلیمان کے اراکین کی تصویر جسے گُڈ مارننگ لیبیا نے شائع کیا

،تصویر کا ذریعہGood Morning Libya twitter

،تصویر کا کیپشنلیبیا کی پارلیمان کے اراکین کی تصویر جسے گُڈ مارننگ لیبیا نے شائع کیا

ملک کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے اکتوبر 2011 میں اقتدار کے خاتمے کے بعد سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا دور دورہ ہے۔

لیبیا تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کی لپیٹ میں ہے جس کے دوران کئی مسلح گروہ ایک دوسرے پر بالادستی حاصل کرنے کے لیے آپس میں برسرِ پیکار ہیں۔