عراقی بحران: نوری المالکی کا اپنی طاقت کا مظاہرہ

نوری المالکی تیسری بار ملک کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں جبکہ ملک کی اکثریت ایسا نہیں چاہتی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننوری المالکی تیسری بار ملک کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں جبکہ ملک کی اکثریت ایسا نہیں چاہتی

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے وفادار شیعہ جنگجو اور سکیورٹی فورسز دارالحکومت بغداد میں اپنی قوت کے مظاہرے کے لیے سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مظاہرہ وزیر اعظم کے ذریعے ٹی وی پر صدر کی تنقید کے بعد دارالحکومت بغداد میں دیکھنے میں آیا۔

نوری المالکی تیسری بار وزیراعظم بننا چاہتے ہیں لیکن ملک کے شمال میں جاری جہادی سرکشی کے دوران ان سے مستعفی ہونے کی مانگ ہو رہی ہے۔

امریکہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں عراقی صدر فواد معصوم کی حمایت ظاہر کی گئی ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے عراق میں ایک ایسی حکومت کے قیام پر زور دیا تھا جس میں حکومت میں تمام طبقے کی نمائندگی ہو۔

اس سے قبل عراق کے کردوں نے اسلام پسند جنگجوؤں کو شکست دینے کے لیے بین الاقوامی عسکری تعاون کی اپیل کی تھی۔

امریکہ کردستان کے دارالحکومت اربل کے قریب اسلامی مملکت کے جنگجوؤں کے خلاف پہلے ہی چار ادوار میں فضائی حملے کر چکا ہے۔

ایک کرد اہلکار نے کہا ہے کہ نینوا کے مقام پر اسلامی مملکت کے خلاف امریکی حملہ کردی فوج پیش مرگ کے لیے گوئر اور مخمور کو دوبارہ حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔

کردوں نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے اسللامی مملکت سے دو شہر واپس حاصل کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکردوں نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے اسللامی مملکت سے دو شہر واپس حاصل کر لیا ہے

اپنے ٹی وی خطاب میں نوری المالکی نے کہا کہ وہ صدر معصوم کو آئین کی خلاف ورزی کے لیے عدالت میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ نوری مالکی کی اتحاد نے اپریل میں ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ نششتیں حاصل کی تھیں لیکن پارلیمان انھیں تیسرا موقع دینے کے لیے تیار نہیں تھی اور صدر معصوم نے بھی اس میں دخل دینے سے انکار کردیا تھا۔

مالکی نے کہا کہ صدر معصوم سب سے بڑے اتحادی کو وزیراعظم نامزد کرنے کی دعوت نہ دے سکے اور اس کی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے۔

امریکہ نے اسلامی مملکت کے جنگجوؤں کے خلاف چار دور میں حملے کیے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنامریکہ نے اسلامی مملکت کے جنگجوؤں کے خلاف چار دور میں حملے کیے

انھوں نے کہا: ’یہ رویہ ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوری اور وفاقی طور پر حکومت کی جاتی ہے وہاں آئین اور سیاسی پراسس کے خلاف بغاوت کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’صدر کی جانب سے آئین کی دانستہ خلاف ورزی کے یکجہتی، خودمختاری اور عراق کی آزادی اور سیاسی پراسس کے تاریک سرنگ میں چلے جانے پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔‘

اس کے فورا بعد نوری مالکی کے وفادار شیعہ جنگجو اور عراقی فوجی شہر کے مختلف مقامات پر نظر آنے لگے۔ بہر حال کسی قسم کے تشدد کی کوئی خبر نہیں ہے۔

اسلامی مملکت کے جنگجوؤں نے گذشتہ دنوں عراق کے شمال میں بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناسلامی مملکت کے جنگجوؤں نے گذشتہ دنوں عراق کے شمال میں بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے

نوری المالکی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ نوری مالکی جو شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے فرقہ وارانہ پالیسیوں سے موجودہ بحران کو بڑھا دیا ہے اور ان سے سنیوں اور کردوں یہاں تک شیعوں کی جانب سے بھی عہدہ چھوڑنے کی مانگ ہو رہی ہے۔

دوسری جانب مغربی ممالک کی جانب سے بھی عراقی رہنماؤں پر ایک ایسی حکومت بنانے پر زور دیا جا رہا ہے جس میں تمام فرقوں اور طبقوں کی نمائندگی ہو۔