اسرائیلی، فلسطینی’دو ریاستی‘ حل کی جانب بڑھیں: کیری

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی جنگ بندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے ’دو ریاستی حل‘ کی جانب بڑھیں۔
جان کیری نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اسرائیل کو اپنےدفاع کے حق کا مکمل طور پر حامی ہے اور اسرائیل کو پورا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو میزائلوں کے خطرے سے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کوئی ملک بھی ان حالات میں نہیں رہ سکتا اور امریکہ مکمل طور پر اسرائیل کے پیچھے کھڑا ہے۔
جان کیری نے کہا کہ حماس جو غزہ کو کنٹرول کرتی ہے اس نے تباہ کن اور وحشت ناک رویے کا مظاہرہ کیا۔
ادھر اسرائیل اور حماس کے درمیان منگل کی صبح سے شروع سے ہونے والی تین روزہ جنگ بندی برقرار ہے اور اس کی کوئی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی ہے۔
اسرائیل اور فلسطینی گروپ جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے قاہرہ میں ہونے والی بات چیت کے لیے اپنے نمائندے مصر بھیج رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ سے تمام فوجیوں کے انخلا اور انھیں غزہ کی پٹی سے باہر ’دفاعی مقامات‘ پر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل پیٹر لرنر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان دفاعی مقامات پر کنٹرول قائم رکھے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقرر کردہ ہدف غزہ سے اسرائیل میں جانے والی سرنگوں کو تباہ کرنا تھا جسے حاصل کر لیا گیا ہے۔
غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ چار ہفتے جاری رہنے والی اس کشیدگی میں 1800 فلسطینی اور 67 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس اعلان سے قبل مصر کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں۔
اسرائیل اور حماس نے بھی 72 گھنٹے کی غیر مشروط جنگ بندی کی مصری تجویز کو قبول کرنے کی تصدیق کی تھی۔
اس جنگ بندی پر عمل مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح آٹھ بجے سے شروع ہوا۔
پیر کے روز اسرائیل نے غزہ کے کچھ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے سات گھنٹے کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن مدت پوری ہونے کے ساتھ ہی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں۔
پیر کے روز مصر کے دارالحکومت میں ہونے والے ہونے مذاکرات میں اسرائیل شریک نہیں تھا۔
حماس کے ترجمان سمیع ابو زوہری نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ حماس نے مصر کو بتا دیا ہے کہ وہ 72 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز کو ماننے پر تیار ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی فضائیہ کی جانب اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پر حملے کو ’اخلاقی زیادتی اور مجرمانہ فعل‘ قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پراسرائیلی فضائیہ کے حملے کے بعد بان کی مون نے کہا کہ یہ حملہ ’بین الاقوامی قوانین کی فاش خلاف ورزی ہے‘ اور اس کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی دفترِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام سکول کو نشانہ بنائے جانے کو ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں طبی ماہرین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام چلنے والے ایک سکول پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوئے۔
ماہرین کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد نے اس سکول میں پناہ لے رکھی تھی۔ خیال رہے کہ رفح میں ہزاروں فلسطینی اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ان پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں کی جانے والی نئی کارروائی پر ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
ادھر غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اتوار کو اسرائیلی افواج کےحملے میں کم سے کم 30 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ برسائے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے تازہ کارروائی اس کے ایک فوجی ہادارگولڈن کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد کی گئی۔







