اسرائیل جان بوجھ کر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے: اقوام متحدہ

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے شیلٹر پر کیا جانے والا حملہ ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول اور ناقابِل دفاع ہے۔‘
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل پر کی جانے والی یہ اب تک کی سب سے شدید تنقید ہے۔
امریکہ نے کہا ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کی اموات کی تعداد ’بہت زیادہ‘ ہے۔
امریکہ نے اسرائیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی زندگیاں بچانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔
اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی سربراہ نیوی پلے نے اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری فوجی کارروائی کے دوران جان بوجھ کر بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو سکولوں، ہسپتالوں، گھروں اور اقوامِ متحدہ کی عمارات پر حملے کرنے پر ممکنہ طور پر جنگی جرائم کا مرتکب قراد دیا جانا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی سربراہ نے امریکہ کو اسرائیل پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے پر ناکامی، غزہ میں جاری لڑائی کو رکوانے اور اسرائیل کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ کے سربراہ کرس گِنیس کا کہنا ہے کہ ڈھائی لاکھ فلسطینی پناہ گاہوں کے متلاشی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو غزہ کے حوالے سے دی جانے والی بریفینگ میں انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرنے والے سینئیر حکام نے غزہ کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہnon
غزہ میں اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی کے سربراہ نے غزہ کی صورتِ حال کو خوفناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد در بدر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتِ حال سے عہدہ برآہ ہونے کے لیے مزید وسائل کی فوری ضرورت ہے
خیال رہے کہ اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ ان کے وسائل ختم ہو رہے ہیں۔
غزہ میں حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 55 اسرائیلی، جن میں 53 فوجی شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے پہلے اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل اس وقت تک دم نہیں لے گا جب تک حماس کی تمام سرنگیں تباہ نہیں کر دی جاتیں۔
کابینہ کے اجلاس سے قبل انھوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ یا اس کے بغیر تمام سرنگیں تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسرائیل نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران 16 ہزار سے زائد اضافی فوجیوں کو طلب کیا تھا۔
اسرائیل نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب اس نے غزہ پر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں چلنے والے اس سکول پر حملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا جس میں فلسطینی بےگھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔
اسرائیل نے کہا تھا کہ اگر اس حملے میں اس کی فوج ملوث ہوئی تو وہ اس پر معذرت کرے گا۔
امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے اسرائیل کے اس حملے کی مذمت کی تھی جس میں کم از کم 16 افراد مارے گئے تھے جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ سکول کے قریب سے مارٹر گولے داغے گئے تھے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیلی حملے کو ’انتہائی ظالمانہ‘ تھا۔







