چین: نظر رکھنا ہمارا حق ہے

مشقوں میں 22 ممالک حصہ لے رہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ چین بھی ان مشقوں میں شامل ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمشقوں میں 22 ممالک حصہ لے رہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ چین بھی ان مشقوں میں شامل ہے

امریکی ذرائع ابلاغ کی ان خبروں کے بعد کہ گذشتہ دنوں میں امریکی ریاست ہوائی کے پانیوں میں ایک چینی بحری جہاز دیکھا گیا ہے، چین کا کہنا ہے کہ سمندر میں امریکی بحریہ کی سربراہی میں جاری مشقوں پر نظر رکھنا اس کا حق ہے۔

اس سلسلے میں چینی وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’دوسرے ممالک کے ساحلوں سے دور پانیوں‘ میں چینی بحری جہازوں کا موجود ہونا بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔

یاد رہے کہ چین خود بھی ان مشقوں میں حصہ لے رہا ہے۔ بحرالکاہل کے کناروں کے قریب جاری ’رِمپیک‘ نامی ان مشقوں میں حصہ لینے کے لیے چین نے اپنی بحریہ کے ایک ہزار جوان بھیج رکھے ہیں۔

اس برس امریکہ کی قیادت میں ہونے والی مشقوں میں 22 ممالک حصہ لے رہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ چین بھی ان مشقوں میں شامل ہے۔

چینی جاسوسی کی خبروں کے بارے میں امریکہ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب مشقوں میں شریک ایک ملک نے ہماری سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے اپنی کشتی بھی سمندر میں اتاری ہے۔

بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کے ترجمانِ اعلیٰ کیپٹن ڈیرن جیمز نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سنہ 2012 کی ’رِمپیک‘ مشقوں کی نگرانی کے لیے بھی چین نے اسی قسم کی بڑی کشتی سمندر میں تعینات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ’اپنی اہم معلومات کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رکھے تھے۔‘

امریکی بحریہ کے کیپٹن کے وضاحتی بیان کے باوجود امریکی ذرائع ابلاغ کے کچھ حلقوں نے ہوائی کے پانیوں میں چینی بحری جہاز کی موجودگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

روزنامہ وال سٹریٹ جرنل نے چینی جہاز کی موجودگی کو ایسے شخص سے تعبیر کیا جو ’بن بلائے‘ کسی محفل میں آ گیا ہو اور وہ ’حالت امن کے دنوں میں ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی بحری مشقوں میں خفیہ معلومات سے بھری دعوت اڑا رہا ہو۔‘

بلُوم برگ نے ایک تجزیہ کار کے حوالے سے کہا کہ سمندر میں چینی کشتی کی موجودگی سے ایک ’غلط پیغام‘ ملا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر 2013 میں بحیرۂ جنوبی چین کے پانیوں میں چین اور امریکہ کے بحری جہازوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتے ہوتے بچا تھا۔ اس وقت امریکہ نے کہا تھا کہ بحیرۂ جنوبی چین میں موجود اس کا بحری بیڑا چینی بحری بیڑے کے خلاف کارروائی پر مجبور ہو چلا تھا، جبکہ چینی ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ امریکہ اس کے نئے بحری بیڑے کو دھمکا رہا تھا۔