فلائٹ کی تبدیلی نے جان لے لی

اس طیارے میں عملے کے 15 ارکان بھی ہلاک ہوئے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناس طیارے میں عملے کے 15 ارکان بھی ہلاک ہوئے

یوکرین میں حادثے کا شکار ہونے والے ملائشیا ایئر لائنز کے جہاز میں بطور سٹيورڈ کام کرنے والے بھارتی نژاد سجيد سنگھ کو اپنی فلائٹ کی ڈیوٹی تبدیل کرتے ہوئے ذرا سا بھی اندازہ نہیں ہوگا کہ وہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

سجيد سنگھ پرواز ایم ایچ 17 میں عملے کے 15 کے ارکان میں سے ایک تھے جو ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی۔ اس طیارے میں 298 مسافر تھے۔

کچھ ماہ قبل سجيد کی بیوی نے بھی آخری وقت میں لاپتہ ہوجانے والے ملائشین طیارے ایم ایچ 370 میں اپنے ایک ساتھی سے فلائٹ کی تبدیل کی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اس فلائٹ پر نہیں گئی اور بچ گئیں۔

ملائیشیا انسائڈر میں شائع خبر کے مطابق سجيد کی بیوی کی 8 مارچ کو ڈیوٹی ملائیشیا ایئر لائنز ایم ایچ 370 پر تھی۔ یہ طیارہ کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گیا تھا۔

 کچھ ماہ قبل سجيد کی بیوی نے بھی آخری وقت میں لاپتہ ہوجانے والے ملائشین طیارے ایم ایچ 370 میں اپنے ایک ساتھی سے فلائٹ کی تبدیل کی تھی

،تصویر کا ذریعہMalaysian Insider

،تصویر کا کیپشن کچھ ماہ قبل سجيد کی بیوی نے بھی آخری وقت میں لاپتہ ہوجانے والے ملائشین طیارے ایم ایچ 370 میں اپنے ایک ساتھی سے فلائٹ کی تبدیل کی تھی

اس لاپتہ طیارے کا آج تک کچھ پتا نہیں چل سکا اور اس 239 افراد سوار تھے۔

سجيد کے والد جھجر سنگھ نے کہا، ’سجيد کی بیوی نے بھی اپنے ایک ساتھی سے آخری وقت میں ڈیوٹی بدلی تھی۔‘

سجيد سنگھ اپنی بیوی اور سات سال کے بچے کے ساتھ کوالالمپور میں رہتے تھے۔

سجيد کے والد نے ایک اخبار کو بتایا، ’وہ گذشتہ ماہ تھا۔ سجيد نے حال ہی میں ہمیں بتایا تھا کہ اس نے اپنے ایک ساتھی سے ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور کی فلائٹ کی ڈیوٹی ہے۔‘

ججر سنگھ کو امید تھی کہ ایمسٹرڈیم سے واپس آنے کے بعد سجيد ان سے ملنے آئے گا اور اسی امید میں سجيد کی ماں نے اس کا من پسند کھانا بھی بنا کر رکھا تھا۔

سجيد سنگھ اپنی بیوی اور سات سال کے بچے کے ساتھ کوالالمپور میں رہتے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسجيد سنگھ اپنی بیوی اور سات سال کے بچے کے ساتھ کوالالمپور میں رہتے تھے

سنگھ کا کہنا تھا کہ انہیں اس حادثے کی خبر ان کی بیٹی نے دی۔

ایک اخبار کو ججر نگھ نے بتایا کہ ’میری بیٹی اٹلی میں رہتی ہے۔ اس نے صبح چار بجے تک انتظار کیا۔ میری دو بار بائی پاس سرجری ہو چکی ہے۔ اس لیے میری بیٹی نے مجھے یہ معلومات پہلے نہیں دی۔ میری عمر 71 اور میری بیوی کی عمر 73 برس کی ہے۔ ہماری کیا حالت ہے ہم بتا نہیں سکتے۔ میرا جسم کانپ رہا ہےگ‘

’ہم ٹوٹ چکے ہیں۔ ہمارا ایک ہی بیٹا تھا۔ ہم کیا کریں؟ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا ہے۔‘