بی بی سی نیوز کے 60 سالوں کا سفر

آج سے ٹھیک 60 سال پہلے پانچ جولائی 1954 کو بی بی سی نے اپنا پہلی ٹی وی نیوز بلیٹن نشر کیا تھا۔
یہ پہلا بلیٹن رچرڈ بیکر نے پڑھا تھا لیکن انھیں ٹی وی سکرین پر نظر آنے میں تین سال اور لگے۔
ابتدا میں خیال یہ تھا کہ ٹی وی سکرین پر نظر آنے والا چہرہ سنگین خبروں سے لوگوں کی توجہ ہٹا سکتا ہے۔
ستمبر 1960 میں بی بی سی پر پہلی بار’ٹین او کلاک‘ بلیٹن نشر ہوا۔
اس کے بعد اگلے سالوں میں ’ورلڈ ایٹ ون‘، ’نیوز ریویو‘ اور ’نيوز ريئل‘ جیسے پروگرام شروع کئے گئے۔

ابتدائی دنوں میں بی بی سی نیوز بلیٹن لندن کے مختلف سٹوڈيوز میں تیار ہوتے تھے۔
1915 میں بنائے جانے والے لائم گرو سٹوڈیو کو بی بی سی نے ٹی وی بلیٹن کے لیے خریدا تھا۔
1969 میں بی بی سی ٹی وی نیوز کے تمام پروگرام وائٹ سٹی میں واقع ٹیلی ویژن سینٹر سے کیے جانے لگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

نین وٹن بی بی سی کی پہلی خاتون نیوز ریڈر تھیں۔ ساٹھ کی دہائی میں وہ بہت کم وقت کے لیے ہی خبریں پڑھ سکیں۔
اس وقت بی بی سی کی ایک تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ لوگ خواتین کو خبریں پڑھتے ہوئے پسند نہیں کرتے۔
انجیلا رپپون بی بی سی کی مشہور نیوز ریڈر تھیں۔ وہ 1975 میں’ نائن او کلاک‘ پروگرام سے وابستہ تھیں۔

شروع میں بچوں کے لیے ہفتہ وار چلڈرن نيوذ ريل نشر کیا جاتا تھا۔
1972میں جان كریون نے چھ سے بارہ سال تک کے بچوں کے لیے نيوز راڈ پروگرام شروع کیا۔
سيفےكس بی بی سی کی مختصر خبروں کی نیوز سروس تھی جو قریب چالیس سال تک نشر کی جاتی رہی۔

اس کے ذریعہ مختصر متن کی خبریں نشر کی جاتیں تھیں۔ اکتوبر 2012 میں بی بی سی کی اس سروس کو بند کر دیا گیا۔
ٹیکنالوجی کی ترقی نے کیمرے اور دیگر ریکارڈنگ اور نشریات آلات کو چھوٹا کر دیا اور بی بی سی کے رپورٹر جنگ کے میدانوں تک پہنچ گئے۔
کیٹ ایڈی اور برائن ہنرہن جنگ کی رپورٹنگ کے لیے مشہور چہرے بن گئے۔
1989 میں چین کے دارالحکومت بیجنگ کے تيانامن چوک سے کیٹ ایڈی نے مظاہرین پر حکومت کی وحشیانہ کارروائی کی لائیو تفصیل بھیجی۔

1983 میں نیوز پروگرام میں بڑی تبدیلی آئی اور اس کا آغاز بریک فاسٹ شوز سے کیا گیا۔ سنگین خبروں کے ساتھ ہلکی پھلكي خبریں بھی نشر کی جانے لگیں۔
ڈیانا موران کا ورزش شو زبردست ہٹ رہا تھا۔







