معمر خاتون کی لاش چھ سال بعد گھر سے برآمد

معمر افراد کی فلاحی تنظیم كنٹكٹ دی ایلڈرلی کے كلف امیر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی طویل مدت نے اسے کافی سنجیدہ بنا دیا ہے

،تصویر کا ذریعہPress Association

،تصویر کا کیپشنمعمر افراد کی فلاحی تنظیم كنٹكٹ دی ایلڈرلی کے كلف امیر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی طویل مدت نے اسے کافی سنجیدہ بنا دیا ہے

برطانیہ کے ڈورسییٹ علاقے میں ایک خاتون کی لاش ان کی موت کے چھ سال بعد ان کے فلیٹ سے برآمد کی گئی ہے۔

اس خاتون کا نام این ليٹرم تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 70 سالہ کی این کی موت کو وہ مشکوک نہیں مان رہی ہے۔

ایک سرکاری افسر، ریئل اسٹیٹ ایجنٹ اور دو تالا کھولنے والوں نے گراؤنڈ فلور پر واقع فلیٹ کا جب دروازہ کھولا تو وہاں سے لاش کے باقیات برآمد ہوئے۔

این کے ایک پڑوسی جان سٹینلی نے کہا، ’یہ بہت خوفناک ہے۔ اتنے وقت بعد بھی کوئی بھی اس جانب متوجہ کیوں نہیں ہوا؟‘

مگر سٹینلی کے مطابق، ’ان کی کار بھی ہمیں نظر نہیں آتی تھی، اس لیے ہمیں لگتا تھا کہ وہ یہاں سے چلی گئی ہیں۔‘

وہیں ایک اور پڑوسی ایونز روتھ نے کہا، ’اگر میں ایمانداری سے کہوں تو میں ابھی صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

’میں دو دن تک خوف سے کپکپاتا رہا۔ میں اس بات سے شرمندہ ہوں کہ ہم نے ان کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا یا ان کے غائب ہونے کی کہیں رپورٹ کیوں نہیں کی۔‘

اکیلے رہنے والے معمر افراد کی فلاحی تنظیم كنٹكٹ دی ایلڈرلی کے كلف امیر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی طویل مدت نے اسے کافی سنجیدہ بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ واقعہ ہماری لیے شرمندگی کی بات ہے۔ یہ بات بہت عام ہو گئی ہے کہ معمر افراد کہیں اکیلے رہتے ہیں اور ان سے کوئی نہیں ملتا۔‘

’تھوڑا سا میل جول بھی اکیلے رہ رہنے والے بزرگوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔‘

كلف امیر کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت عام ہو گئی ہے کہ معمر افراد کہیں اکیلے رہتے ہیں اور ان سے کوئی نہیں ملتا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنكلف امیر کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت عام ہو گئی ہے کہ معمر افراد کہیں اکیلے رہتے ہیں اور ان سے کوئی نہیں ملتا۔