ایورسٹ جیسا پہاڑ سر کرنے کو ممکن بنانے والے مسائل کا شکار

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس۔ کھمبو ریجن
شرپا لوگوں کا مقدر ماؤنٹ ایورسٹ جیسے اُس پہاڑ سے وابستہ ہے جس کے برفانی تودے گذشتہ اپریل میں ان کے 16 لوگوں کی جان لے چکے ہیں۔
دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ کی تاریخ کا یہ بدترین سانحہ ان لوگوں کے ساتھ پیش آیا ہے جو کوہ پیمائی کے لیے جانے والوں کی رہنمائی اور مدد کا کام کرتے اور بہتر معاوضوں اور حالاتِ کار کے لیے ان دنوں کام چھوڑ کر بیٹھے ہیں۔
اس سانحے کے باوجود کھمبو نامی گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس خزاں میں بھی پہاڑ پر واپس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
کوہِ پیما چپال شرپا کے بھائی سانحے میں ہلاک ہوئے اور ان کی لاش اب تک نہیں ملی۔ ان کا کہنا ہے’میں نے اپنے بھائی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا، یہ منظر مجھے اب بھی لرزا دیتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے ’مجھے معلوم ہے اگلے سیزن میں مجھے پھر پہاڑ پر جانا ہے، یہاں کوئی اور کام تو ہے نہیں اور ایورسٹ کا مطلب ہے پیسے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے اس منافع بخش کاروبار میں شرپا لوگوں کا بڑے پیمانے پر استحصال ہوتا ہے۔
شدید تنقید کے بعد تودوں کے باعث ہلاک ہونے والے ہر شرپا کے پسماندگان کو دیے جانے والے معاوضے کو بڑھا کر چار سو ڈالر کر دیا گیا ہے۔ نیپال کی حکومت نے معاوضے کو دس گنا کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ کوہ پیمائی کے انتظامات کرنے والوں سے کہے گی کہ وہ جن شرپاؤں کی خدمات لیں ان کا دس سے پندرہ ہزار ڈالر کا انشورنس کرائیں۔

،تصویر کا ذریعہ
حکومت کو سنہ 2012 میں کوہ پیماؤں سے رائلٹی میں 35 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی اور اس میں 80 فیصد ایورسٹ کے لیے آنے والے کوہ پیماؤں سے حاصل ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہر چند کہ حکومت پر بحران کو سنجیدگی سے نہ لینے کا الزام ہے لیکن شرپا کمیونٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے منتظمیں کو خود بھی اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔
ایورسٹ کے بیس کیمپ کو جانے والے راستے کے آغاز پر نامچی میں گفتگو کرتے ہوئے داواسونجو شرپا نے مجھے بتایا ’اکثر شرپا لڑکے ناخواندہ ہوتے ہیں اس لیے کوہ پیمائی کی ایجنسیاں ان کا استحصال کرتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’یہ ایجنسیاں ان سے 70 فیصد کام کراتی ہیں اور جو کچھ اس کام کے بدلے میں کماتی ہیں اس کا 10 فیصد بھی معاضے میں نہیں دیتیں۔‘
منگما جو 18 اپریل کے سانحے میں بال بال بچے کہتے ہیں کہ اُن جیسے لوگوں کو کچھ پتہ نہیں کہ انتظامات کرنے والی ایجنسیاں کوہ پیماؤں سے اُن کاموں کے بدلے میں کیا وصول کرتی ہیں جو اُن سے لیے جاتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں ’ہمیں تو ایک سیزن میں بس اتنا ملتا ہے جو چند ماہ بھی نہیں چلتا۔‘

،تصویر کا ذریعہ
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر شرپا کوہ پیما ہر سیزن میں تقریباً پانچ ہزار ڈالر کماتا ہے اور سال میں دو سیزن ہوتے ہیں اور یہ آمدنی نیپال میں فی کس اوسط آمدنی 650 ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔
اس کے برخلاف ہر آپریٹر ہر کوہ پیما کلائینٹ سے 80 ہزار ڈالر کماتا ہے اور ہر آپریٹر کے پاس درجن کے لگ بھگ کلائینٹ یا کوہ پیما ہوتے ہیں۔
کوہ پیمائی کے انتظامات کرنے والے عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ شرپا کوہ پیماؤں کو انتہائی معقول معاوضے دیتی ہیں لیکن بعض ایسے نیپالی اداروں نے ’بھاؤ‘ گرا دیے ہیں جو حال ہی میں اس کاروبار میں آئے ہیں اور اس کا اثر شرپا کو ملنے والے معاوضوں پر بھی پڑا ہے۔
کوہ پیمائی کی نیپالی ایسوسی ایشن کے صدر انگ تشرنگ شرپا بھی اس پہلو کی تائید کرتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’آپ آپریٹروں سے بات کر کے دیکھ لیں، ہماری ایسوسی ایشن کے معیار بھی یہی ہیں۔ کیونکہ یہ انتہائی اہم چیز ہے۔‘ انھوں نے اصرار کیا کہ خود ان کی اپنی کمپنی ان اصولوں کی پیروی کرتی ہے۔
کوہ پیمائی کے آپریٹروں کے صدر ڈامبار پاراجولی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ضرور مقابلہ بہت بڑھ گیا ہے، پھر بھی کم سے کم کا ایک معیار ضرور قائم کیا جانا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہ
لیکن ان کا کہنا کہ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے عالمی کمپنیاں اپنے کلائنٹ سے کیا چارج کرتی ہیں اور ہمیں اُسی کام کے لیے کتنا دیتی ہیں یعنی نیپال اور ہمالیہ والوں کے لیے کیا آتا ہے۔
تودے کے سانحے کے دو ماہ گزر چکے ہیں۔ حکومت اور ایجنسیاں اب تک شرپاؤں کی انشورنس کے بارے میں کسی ایک فیصلے پر نہیں پہنچ پائے اور دونوں اس کا الزام ایک دوسرے پر لگا رہے ہیں۔
حکومت کہتی ہے کہ کوہ پیمائی کے فرسودہ قوانین پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
وزیر خزانہ رام شرن ماہات کا کہنا ہے کہ شرپا کوہ پیما جن کمپنیوں کے ملازم ہیں انھیں چاہیے کہ وہ ان کا خیال رکھیں اور ان میں غیر ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
اس پوری صورت حال میں، سانحے کے دوران زخمی ہونے والے داوا شرپا جیسے کوہ پیماؤں کو حالات بدلنے کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔
’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حالاتِ کار تبدیل ہوں لیکن مجھے علم کہ یہ بدلنے والے نہیں۔‘ وہ مجھے اپنی ٹوٹی ہوئی پسلی دکھاتے ہوئے کہتا ہے۔







