عراق میں داعش کے شدت پسندوں کی پیش قدمی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
عراق میں سُنی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامی عراق و شام (داعش) کے جنگجو بغداد کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی وہ عراق کے شمالی اور مشرقی حصوں پر قبضہ جماتے چلے جا رہے ہیں۔
عراقی کی سرکاری فورسز کی شدت پسندوں سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔
عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد سے عراق کی سلامتی کے لیے سنی شدت پسندوں کی پیش قدمی سب سے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے، دولت اسلامی عراق اور شام اس خطے میں ایک سنی آزاد ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سال کے شروع میں ٹوئٹر پر جاری کی گئی تفصیلات کی بنیاد پر بنائے گئے نقشے میں وہ چھ ولایتیں یا صوبے دکھائے گئے ہیں جن پر داعش دعویٰ کرتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جن علاقوں میں داعش سرگرم ہے یہ زیادہ تر وہی علاقے ہیں جن میں 2006 کی فرقہ وارانہ شورش کے دوران القاعدہ کارروائیاں کرتی رہی ہے۔
عراق میں القاعدہ کی شورش کو دبانے کے امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ کرنا پڑا تھا اور سنی قبائلیوں نے بھی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے تھے۔
اس مہینے کے شروع میں داعش کے شدت پسندوں نےعراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا تھا اس سے قبل وہ فلوجہ اور رمادی کے کچھ حصوں پر گذشتہ سال دسمبر میں قبضہ کر چکے تھے۔
موصل سنی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اکثریتی شہر ہے۔ یہ شہر عراقی فوج کے پسپا ہونے کے بعد داعش کے شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ اگرچہ داعش کے مقابلے میں سرکاری فوج کی تعداد کہیں زیادہ تھی لیکن عراقی پولیس اور فوج کے جوان اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عراق کی سنی آبادی موجودہ حکومت سے مایوسی کا شکار ہے اور یہ تاثر عام ہے کہ یہ حکومت منظم طریقے سے سنیوں کے حقوق غصب کر رہی ہے۔
عراق کا شمار بڑے تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں ہوتا ہے اور وادیِ دجلہ میں کئی مقامات دفاعی اہمیت کے حامل ہیں جن میں باجی کی آئل ریفائنری یا تیل صاف کرنے والا کارخانہ بھی شامل ہے۔
تیل کی صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کو عراق سے تیل کی فراہمی کو کوئی فوری خطرہ نہیں ہے کیونکہ شمال کے ذخائرے سے پیداوار پہلے ہی بند ہے اور زیادہ تر بڑے کارخانے ملک کے جنوبی حصے میں و اقع ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیکن اگر داعش بغداد پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تیل کی فراہمی کو واقعی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔







