شام میں خودکش حملہ کرنے والا امریکی شہری نکلا

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اتوار کو خودکش حملہ کرنے والا شخص امریکی شہری تھا۔
شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم النصرت فرنٹ نے کہا کہ اس شخص نے ان کی طرف سے یہ خودکش حملہ کیا تھا۔ یہ گذشتہ اتوار کو ملک کے شمالی شہر ادلیب میں ہونے والے چار حملے میں سے ایک تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں کسی امریکی شہری کا یہ پہلا خود کش حملہ ہے ۔
شام میں گذشتہ تین سالوں سے بشارالاسد کے حامی اور باغیوں کے درمیان لڑائی کے دوران اب تک ایک لاکھ زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساقی نے کہا کہ ’میں اس کی تصدیق کر سکتی ہوں کہ شام میں خودکش حملہ کرنے والا شخص امریکی شہری تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ شخص ابو ہریرہ الا آمریکی نام اختیار کرکے لڑھ ہرا تھا جس کا ترجمہ ہے ’امیریکن یا امریکی۔‘
جین ساقی نے کہا کہ محکمۂ خارجہ کو ’غیر ملکی جنگجوؤں کا شام میں آنے جانے پر تشویش ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
النصرت فرنٹ فرنٹ کو القاعدہ کی ذیلی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔النصرت فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس شخص نے حملہ کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد سے بھرا ٹرک استعمال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے غیر سرکاری تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کو ایک بعد دیگرے ہونے والے بم دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
شام سنہ 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کی وجہ سے ملک کے کئی قصبے تباہ ہوئے ہیں اور کشیدگی کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔







